TrueHadith

اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے

Sunan Abu DawoodHadith 488

Narrated by Yazid ibn al-Aswad

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ فَلَمَّا صَلَّی إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَدَعَا بِهِمَا فَجِئَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا قَالَا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا فَقَالَ لَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَکَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ

حفص بن عمر، شعبہ، یعلی بن عطاء، جابر، حضرت یزید بن اسود سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اس وقت وہ نو جوان لڑکے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے تب وہ آدمی مسجد کے ایک کونہ میں بیٹھے رہے اور انھوں نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا تو وہ ڈرتے ہوئے آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ بو لے ہم اپنے گھر میں پڑھ چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو جب تم میں سے کوئے شخص گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر امام کے پاس آئے اس حال میں کہ امام نے نماز نہیں پڑھی ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھ لے یہ نماز اس کے لیے نفل ہو جائے گی۔

Narrated Yazid ibn al-Aswad: Yazid prayed along with the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) when he was a young boy. When he (the Prophet) had prayed there were two persons (sitting) in the corner of the mosque; they did not pray (along with the Prophet). He called for them. They were brought trembling (before him). He asked: What prevented you from praying along with us? They replied: We have already prayed in our houses. He said: Do not do so. If any of you prays in his house and finds that the imam has not prayed, he should pray along with him; and that will be a supererogatory prayer for him.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1310573)

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمِنًی بِمَعْنَاهُ

ابن معاذ، شعبہ، یعلی، عطاء، حضرت جابر بن یزید کے والد روایت کرتے ہیں کہ میں نے منی میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ باقی مضمون پہلی حدیث کی طرح ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 489

Narrated by Yazid ibn Amir

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَی يَزِيدَ جَالِسًا فَقَالَ أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ قَالَ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ إِنِّي کُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ فَقَالَ إِذَا جِئْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَکُنْ لَکَ نَافِلَةً وَهَذِهِ مَکْتُوبَةٌ

قتیبہ، معن بن عیسی، سعید بن سائب، نوح بن صعصعہ، حضرت یز ید بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں خدمت نبوی میں حاضر ہوا۔ تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا (کیو نکہ میں نماز پڑھ چکا تھا) روای کہتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یز ید عامر کو بیٹھا ہوا دیکھا تو بلا کر اسے پوچھا کہ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ روای کا بیان ہے کہ اس پر حضرت یزید بن عامر نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو اسلام لا چکا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل کیوں نہی ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے گھر پر نماز پڑھ چکا تھا اور میرا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو چکے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگوں کے پاس آؤ اور ان کو نماز پڑھتا ہوا پاؤ تو ان کے ساتھ بھی نماز میں شریک ہو جاؤ اگرچہ تم پہلے نماز پڑھ چکے ہو تو یہ نفل ہو جائے گی اور وہ فرض شمار ہو گی۔

Narrated Yazid ibn Amir: I came while the Prophet (peace_be_upon_him) was saying the prayer. I sat down and did not pray along with them. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) turned towards us and saw that Yazid was sitting there. He said: Did you not embrace Islam, Yazid? He replied: Why not, Apostle of Allah; I have embraced Islam. He said: What prevented you from saying prayer along with the people? He replied: I have already prayed in my house, and I thought that you had prayed (in congregation). He said: When you come to pray (in the mosque) and find the people praying, then you should pray along with them, though you have already prayed. This will be a supererogatory prayer for you and that will be counted as obligatory.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 490

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ فَقَالَ يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَلِکَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ

احمد بن صالح، علی بن وہب، عمرو بن بکیر، حضرت عفیف بن عمرو بن مسیب رضی اللہ عنہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص گھر پر نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور وہاں نماز ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں اگر میں نماز میں شریک ہو جاتا ہوں تو میرے دل میں ایک خلجان سا رہتا ہے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا (یہی سوال) ہم نے بھی نبی و سے کیا تھا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کے لیے بھی غنیمت کا ایک حصہ ہے (یعنی نماز میں دوبارہ شریک ہونے سے کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ ثواب ملتا ہے)

-

Permalink