حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ کَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَی الصَّفِيَّ إِنْ شَائَ عَبْدًا وَإِنْ شَائَ أَمَةً وَإِنْ شَائَ فَرَسًا يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ
محمد بن کثیر، سفیان، مطرف، حضرت عامر شعبی سے روایت ہے کہ مال غنیمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مخصوص حصہ ہوتا تھا جس کو صفی کہتے تھے آپ خمس نکالنے سے پہلے جو چاہتے منتخب فرما لیتے۔ چاہے غلام چاہے باندی اور چاہے گھوڑا وغیرہ۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَأَزْهَرُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ قَالَ کَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنْ الْخُمُسِ قَبْلَ کُلِّ شَيْئٍ
محمد بن بشار، ابوعاصم، ازہر، حضرت ابن عون سے روایت ہے کہ میں نے محمد (ابن سیرین) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ اور صفی کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں کہا تمام مسلمانوں کے ساتھ آپ کا بھی ایک حصہ لگایا جاتا اگرچہ آپ قتال میں شریک نہ بھی رہے ہوں۔ اور صفی آپ کیلیے سب سے پہلے خمس میں سے نکالا جاتا۔
-
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا کَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَائَهُ فَکَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِکَ السَّهْمِ وَکَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يُخَيَّرْ
محمود بن خالد، سلمی، عمر، ابن عبدالواحد، سعید، ابن بشر، حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بذات خود جنگ میں شریک ہوتے تو آپ کیلیے ایک حصہ ہوتا قابل اختیار۔ آپ جہاں سے چاہتے لے لیتے۔ پس صفیہ (جو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں) اسی حصہ صفی میں سے آپ کے پاس آئیں اور جب آپ بذات خود جنگ میں شریک نہ ہوتے تو آپ کیلیے ایک حصہ ہوتا مگر اس صورت میں آپ کو اختیار نہ ہوتا۔ (کہ جو چاہے لے لیں۔ )
-
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ الصَّفِيِّ
نصر بن علی، ابواحمد، سفیان، ہشام ابن عروہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ صفیہ صفی میں سے تھیں۔
-
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَی الْحِصْنَ ذُکِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَکَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّی بَلَغْنَا سُدَّ الصَّهْبَائِ حَلَّتْ فَبَنَی بِهَا
سعید بن منصور، یعقوب بن عبدالرحمن، عمرو بن ابی عمرو، حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم خیبر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس قلعہ کوفتح کرا دیا تو لوگوں نے آپ کے سامنے صفیہ بنت حُیی کے حسن وجمال کا تذکرہ کیا۔ ان کا شوہر مارا گیا تھا اور وہ اس وقت دلہن تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے لیے منتخب فرما لیا پھر انکو لے کر نکلے یہاں تک کہ ہم سد صہباء تک پہنچے جہاں آپ حیض سے فارغ ہوئیں اور آپ نے ان سے صحبت کی۔
-
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْکَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسدد، حماد بن زید، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ صفیہ پہلے دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی تھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ میں آئیں۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَی أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا قَالَ حَمَّادٌ وَأَحْسَبُهُ قَالَ وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ
محمد بن خلاد باہلی، بہز بن اسد، حضرت انس سے روایت ہے کہ دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت باندی آئی (صفیہ) آپ نے اس کو دحیہ کلبی سے سات غلام دے کر خرید لیا پھر اس کو ام سلیم کے حوالہ کر دیا تاکہ وہ اس کو سجائے سنوارے اور آپ کیلیے تیار کرے۔ حماد کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے ثابت نے یوں بیان کیا کہ۔ تاکہ صفیہ بنت حُیی ام سلیم کے گھر میں عدت کر لے۔
-
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جُمِعَ السَّبْيُ يَعْنِي بِخَيْبَرَ فَجَائَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ قَالَ يَعْقُوبُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ثُمَّ اتَّفَقَا مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَکَ قَالَ ادْعُوهُ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ خُذْ جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ غَيْرَهَا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا
داؤد بن معاذ، عبدالوارث، یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس سے روایت ہے کہ خیبر میں سب قیدی جمع کیے گئے تو دحیہ کلبی آئے اور بولے یا رسول اللہ! مجھے ان قیدیوں میں سے ایک باندی مرحمت فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا جا اور ایک باندی لے لے پس اس نے صفیہ بنت حُیی کو لے لیا تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ! آپ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودیوں کی سردار صفیہ بنت حُیی کو دحیہ کے حوالہ کردیا حالانکہ وہ آپ کے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا دحیہ کو صفیہ سمیت بلاؤ۔ جب وہ دونوں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو دیکھا اور دحیہ سے کہا اس کے علاوہ قیدیوں میں سے تو کوئی اور باندی لے لے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔
-
Narrated by Yazid ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا بِالْمِرْبَدِ فَجَائَ رَجُلٌ أَشْعَثُ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَحْمَرَ فَقُلْنَا کَأَنَّکَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ أَجَلْ قُلْنَا نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الْأَدِيمَ الَّتِي فِي يَدِکَ فَنَاوَلَنَاهَا فَقَرَأْنَاهَا فَإِذَا فِيهَا مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ إِنَّکُمْ إِنْ شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمْ الزَّکَاةَ وَأَدَّيْتُمْ الْخُمُسَ مِنْ الْمَغْنَمِ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفِيَّ أَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقُلْنَا مَنْ کَتَبَ لَکَ هَذَا الْکِتَابَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسلم بن ابراہیم قرہ حضرت یزید بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم مربد میں تھے (مربد ایک مقام کا نام ہے) اتنے میں ایک شخص آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کے چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ ہم نے کہا شاید تو جنگل کا رہنے والا ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ ہم نے کہا تیرے ہاتھ میں جو یہ چمڑے کا ٹکڑا ہے۔ وہ ہمیں دیدے وہ اس نے ہمیں دے دیا۔ ہم نے اس میں جو لکھا تھا وہ پڑھا۔ اس میں یہ لکھا تھا۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے۔ بیشک اگر تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو زکوة ادا کرو اور غنیمت کے مال میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ ادا کرو اور صفی ادا کرو تو تم کو امان ہوگی اللہ اور رسول کی امان۔ ہم نے پوچھا تیرے لیے یہ تحریر کس نے لکھی اس نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے۔
Narrated Yazid ibn Abdullah: We were at Mirbad. A man with dishevelled hair and holding a piece of red skin in his hand came. We said: You appear to be a bedouin. He said: Yes. We said: Give us this piece of skin in your hand. He then gave it to us and we read it. It contained the text: "From Muhammad, Apostle of Allah (peace_be_upon_him), to Banu Zuhayr ibn Uqaysh. If you bear witness that there is no god but Allah, and that Muhammad is the Apostle of Allah, offer prayer, pay zakat, pay the fifth from the booty, and the portion of the Prophet (peace_be_upon_him) and his special portion (safi), you will be under by the protection of Allah and His Apostle." We then asked: Who wrote this document for you? He replied: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him).