TrueHadith

جساسہ کے بیان میں

Sunan Abu DawoodHadith 3767

Narrated by Fatimah, daughter of Qays

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَائَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ إِنَّهُ حَبَسَنِي حَدِيثٌ کَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عَنْ رَجُلٍ کَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا قَالَ مَا أَنْتِ قَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَی ذَلِکَ الْقَصْرِ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَقُلْتُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ قُلْتُ بَلْ أَطَاعُوهُ قَالَ ذَاکَ خَيْرٌ لَهُمْ

نفیلی، عثمان بن عبدالرحمن، ابوذئب، زہری، ابوسلمہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنت قیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات عشاء کی نماز تاخیر کی پھر گھر سے باہر نکلے تو فرمایا کہ مجھے ایک بات نے جو تمیم داری ایک شخص کے بارے میں مجھ سے کر رہے تھے روک لیا۔ وہ شخص سمندروں کے جزیروں میں سے کسی جزیرہ میں تھا وہ کہتا ہے کہ اچانک میں ایک عورت کے سامنے گیا جو اپنے بال گھسیٹ رہی تھی وہ کہنے لگا کہ تو کون ہے؟ اس عورت نے کہا میں جساسہ (دجال کی جاسوس ہوں) تو اس محل کی جانب چل پس میں وہاں آیا تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے بال کھینچ رہا ہے اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے زمین و آسمان کے درمیان اچھل کود رہا ہے میں نے کہا کہ تو کون ہے؟ وہ کہنے لگا کہ میں دجال ہوں کیا امیوں کے نبی ظاہر ہوگئے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں تو کہنے لگا کہ انہوں نے اس کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی کی؟ میں نے کہا کہ نہیں بلکہ اس کی اطاعت کی ہے کہنے لگا کہ وہی ان کے لیے بہتر ہے۔

Narrated Fatimah, daughter of Qays: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) once delayed the congregational night prayer. He came out and said: The talk of Tamim ad-Dari detained me. He transmitted it to me from a man who was on of of the islands of the sea. All of a sudden he found a woman who was trailing her hair. He asked: Who are you? She said: I am the Jassasah. Go to that castle. So I came to it and found a man who was trailing his hair, chained in iron collars, and leaping between Heaven and Earth. I asked: Who are you? He replied: I am the Dajjal (Antichrist). Has the Prophet of the unlettered people come forth now? I replied: Yes. He said: Have they obeyed him or disobeyed him? I said: No, they have obeyed him. He said: That is better for them.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330932)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُسَيْنًا الْمُعَلِّمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي أَنْ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَخَرَجْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَ لِيَلْزَمْ کُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُکُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنِّي مَا جَمَعْتُکُمْ لِرَهْبَةٍ وَلَا رَغْبَةٍ وَلَکِنْ جَمَعْتُکُمْ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ کَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَائَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي حَدَّثْتُکُمْ عَنْ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَکِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ فَلَعِبَ بِهِمْ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ وَأَرْفَئُوا إِلَی جَزِيرَةٍ حِينَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبْ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ کَثِيرَةُ الشَّعْرِ قَالُوا وَيْلَکِ مَا أَنْتِ قَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ انْطَلِقُوا إِلَی هَذَا الرَّجُلِ فِي هَذَا الدَّيْرَ فَإِنَّهُ إِلَی خَبَرِکُمْ بِالْأَشْوَاقِ قَالَ لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَکُونَ شَيْطَانَةً فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّی دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وَثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَی عُنُقِهِ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَهُمْ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ وَعَنْ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ قَالَ إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنَّهُ يُوشَکُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مَرَّتَيْنِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ قَالَتْ حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

حجاج بن یعقوب، عبدالصمد، حسین معلم، عبداللہ بن بریدہ، عامربن شرحیل، حضرت فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی کی آواز سنی کہ پکارتا تھا کہ نماز جمع کرنے والی ہے (جب جماعت کا وقت ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ دور میں ایک منادی یہ آواز لگاتا کہ الصلواة جامعة۔ تاکہ سب اکٹھے ہوجائیں چنانچہ میں نکلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ نماز پڑھی پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کرلی تو ہنستے ہوئے منبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ہر شخص اپنی جائے نماز کو لازم پکڑ لے (وہیں بیٹھا رہے) پھر فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اسکا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک میں تمہیں (دوزخ سے) ڈرانے کیلئے یا (جنت کی نعمتوں کی) ترغیب دلانے کے لیے جمع نہیں کیا لیکن میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری ایک نصرانی شخص تھے وہ آئے اور بیعت کی اور اسلام لے آئے اور مجھ سے ایک بات بیان کی کہ وہ کسی سمندری کشتی میں سوار تھے تیس لخمی وجذامی افراد کے ساتھ۔ سمندر کی موجیں ان سے ایک مہینہ تک اٹکھیلیاں کرتی رہیں پھر وہ ایک دن سورج غروب ہوتے وقت ایک جزیرہ پر جا لگے پھر وہاں سے چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوگئے تو وہاں انہیں ایک جانور گھوڑے جیسے بھاری دماور لمبے بالوں والاملا تو انہوں نے کہا کہ تیرے لیے ہلاکت ہو تو کون ہے؟ وہ کہنے لگی کہ میں جساسہ (جاسوس) ہوں تم سب اس آدمی کے پاس اس دیر (وہ جگہ جہاں راہب رہا کرتے ہیں) میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبروں کے بارے میں جاننے کا بڑا شائق ہے تمیم داری کہتے ہیں کہ جب اس نے ہم سے اس آدمی کا نام لیا تو ہمیں خوف ہوا اس عورت نما جانور سے کہ کہیں شیطان نہ ہو پس ہم تیزی سے دوڑے یہاں تک کہ دیر میں داخل ہوگئے تو اچانک اس میں ایک بہت بڑا آدمی دیکھا ہم نے مخلوق میں اس جیسا اور اس سے سخت کبھی کوئی نہیں دیکھا تھا اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن پر بندھے ہوئے تھے آگے پوری حدیث بیان کی (کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال دریافت کیے) اس نے ان سے بیسان (جو ایک جگہ ہے) اور عین زغر (ایک مقام ہے) کی کھجوروں کے بارے میں پوچھا اور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا۔ کہنے لگا کہ بیشک میں مسیح دجال ہوں اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک وہ شام کے سمندروں میں ہے یا یمن کے سمندر میں ہے نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے ہے نہیں نہیں دو مرتبہ فرمایا اور اپنے ہاتھ مشرق کی طرف اشارہ بھی فرمایا دو مرتبہ۔ فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ میں نے یہ ساری حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کرلی اور آگے پوری حدیث بیان کی۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330933)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَکَانَ لَا يَصْعَدُ عَلَيْهِ إِلَّا يَوْمَ جُمُعَةٍ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ ذَکَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَابْنُ صُدْرَانَ بَصْرِيٌّ غَرِقَ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِ مِسْوَرٍ لَمْ يَسْلَمْ مِنْهُمْ غَيْرُهُ

محمد بن صدران، معتمر، اسماعیل بن ابوخالد، مجاہد بن معید، عامر کہتے ہیں کہ مجھے فاطمہ بنت قیس نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر منبر پر چڑھے پھر اس سے پہلے یہی قصہ بیان کیا امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ محمد بن صدران بصری ہیں اپنے بیٹے مسور کیساتھ سمندر میں غرق ہو گئے تھے ان میں سے سوائے ان کے کوئی اسلام نہیں لایا تھا۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330934)

Narrated by Jabir ibn Abdullah

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إِنَّهُ بَيْنَمَا أُنَاسٌ يَسِيرُونَ فِي الْبَحْرِ فَنَفِدَ طَعَامُهُمْ فَرُفِعَتْ لَهُمْ جَزِيرَةٌ فَخَرَجُوا يُرِيدُونَ الْخُبْزَ فَلَقِيَتْهُمْ الْجَسَّاسَةُ قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَ امْرَأَةٌ تَجُرُّ شَعْرَ جِلْدِهَا وَرَأْسِهَا قَالَتْ فِي هَذَا الْقَصْرِ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَسَأَلَ عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ قَالَ هُوَ الْمَسِيحُ فَقَالَ لِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا مَا حَفِظْتُهُ قَالَ شَهِدَ جَابِرٌ أَنَّهُ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ قُلْتُ فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ قَالَ وَإِنْ مَاتَ قُلْتُ فَإِنَّهُ أَسْلَمَ قَالَ وَإِنْ أَسْلَمَ قُلْتُ فَإِنَّهُ قَدْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ قَالَ وَإِنْ دَخَلَ الْمَدِينَةَ

واصل بن عبدالعلی، ابن فضیل، ولید بن عبداللہ بن جمیع، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، جابر، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز منبر پر چڑھ کر فرمایا۔ چند افراد تھے جو سمندر میں سفر کر رہے تھے ان کا کھانا ختم ہوگیا تو انہیں جزیرہ نمایاں نظر آیا تو وہ اس میں روٹی کی تلاش میں نکل گئے تو وہاں انہیں جساسہ ملی ولید کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ جساسہ کیا ہے؟ فرمایا کہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال کے بال کھنیچ رہی تھی اور اپنے سر کے کہنے لگی کہ اس محل میں پھر آگے حدیث ذکر کی تو اس نے دجال نے بیسان اور عین عزر کی کھجوروں کے بارے میں دریافت کیا کہنے لگا کہ وہ مسیح (دجال) ہے۔ ولید کہتے ہیں کہ ابوسلمہ کے بیٹے نے مجھ سے کہا کہ اس حدیث میں کچھ اور بھی باتیں تھیں جنہیں میں یاد نہ کرسکا۔ جابر نے گواہی دی تھی کہ وہ ابن صائد ہے میں نے کہا کہ وہ تو مرچکا ہے؟ کہنے لگے کہ اگرچہ مرچکا ہو میں نے کہا کہ وہ تو اسلام لاچکا تھا؟ کہنے لگے کہ خواہ اسلام بھی لاچکا ہوں میں نے کہا وہ تو مدینہ میں بھی داخل ہوگیا تھا کہنے لگا کہ خواہ وہ مدینہ میں بھی داخل ہو گیا ہو۔

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said one day from the pulpit: When some people were sailing in the sea, their food was finished. An island appeared to them. They went out seeking bread. They were met by the Jassasah (the Antichrist's spy). I said to AbuSalamah: What is the Jassasah? He replied: A woman trailing the hair of her skin and of her head. She said: In this castle. He then narrated the rest of the (No. 4311) tradition. He asked about the palm-trees of Baysan and the spring of Zughar. He said: He is the Antichrist. Ibn Salamah said to me: There is something more in this tradition, which I could not remember. He said: Jabir testified that it was he who was Ibn Sayyad. I said: He died. He said: Let him die. I said: He accepted Islam. He said: Let him accept Islam. I said: He entered Medina. He said: Let him enter Medina.

Permalink