TrueHadith

ان لوگوں کا بیان جو مال نہ ہونے کی صورت میں عدم استسعا کے قائل ہیں

Sunan Abu DawoodHadith 3435

Narrated by Umar ibn al-Khattab

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي مَمْلُوکٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ

قعنبی، مالک، نافع، عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی غلام (مشترک) میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اس کے غلام کی مناسب قیمت لگائی جائے گی اور اس کے بقیہ شرکاء کو ادائیگی کی جائے گی، ان کے حصول کے بقدر اور غلام اس پر آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا حصہ اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی آزاد رہے گا۔

Narrated Umar ibn al-Khattab: Qatadah reported Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) as saying: If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330550)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ وَکَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ

مومل، اسماعیل، ایوب، نافع، ابن عمر سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کرتے ہیں کہ اور ایوب کہتے ہیں کہ نافع نے بسا اوقات عتق منہ ماعتق کے الفاظ کہے اور بعض اوقات نہیں کہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330551)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَيُّوبُ فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْئٌ قَالَهُ نَافِعٌ وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ

سلیمان بن داؤد، حماد، ایوب، نافع، ابن عمر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں ایوب کہتے ہیں کہ، وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ، ، کے الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے یا یہ کہ وہ نافع نے کہے ہیں۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 3436

Narrated by Umar ibn al-Khattab

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا مِنْ مَمْلُوکٍ لَهُ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ کُلِّهِ إِنْ کَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ

ابراہیم بن موسی، عیسی، عبید اللہ، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اس کے ذمہ پورے غلام کو آزاد کرنا ضروری ہے اگر وہ اتنا مالدار ہو جو غلام کی بقیہ قیمت کے برابر ہو اور اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو اس کا حصہ آزاد ہو جائے گا۔

Narrated Umar ibn al-Khattab: Qatadah reported Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) as saying: If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330553)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَی

مخلد بن خالد، یزید بن ہارون، یحیی بن سعید، نافع، ابن عمر اس سند سے بھی سابقہ حدیث ابراہیم بن موسیٰ ہی کے مانند منقول ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330554)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی مَالِکٍ وَلَمْ يَذْکُرْ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ انْتَهَی حَدِيثُهُ إِلَی وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ عَلَی مَعْنَاهُ

عبداللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ، نافع، ابن عمر سے اس سند سے حدیث مالک ہی منقول ہے اور اس میں وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ کا ذکر نہیں ہے اور یہ حدیث وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ پر ختم ہوگئی ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 3437

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا کَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ

حسن بن علی، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، ابن عمر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے عبد مشترک میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کا بقیہ حصہ بھی آزاد ہو جائے گا اس کے مال میں اگر اس کے پاس اس کی قیمت کے مبلغ مال ہو۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 3438

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ کَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَکْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ

احمد بن حنبل، سفیان، عمرو، سالم، اپنے والد سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب کوئی غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو پس ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر آزاد کرنے والاخوشحال ہے تو غلام کی قیمت لگائی جائے گی ایسی قیمت جو بہت گھٹا کر نہ لگائی جائے اور نہ بہت بڑھا کر پھر اسے آزاد کر دیا جائے گا (آزاد کرنے والے کے مال کے ذریعہ سے)۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 3439

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ عَنْ ابْنِ التَّلِبِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوکٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْمَدُ إِنَّمَا هُوَ بِالتَّائِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَکَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنْ التَّائَ مِنْ الثَّائِ

احمد بن حنبل، محمد بن جعفر، شعبہ، خالد، ابوبشر، ابن ثلب، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شریک کو بقیہ حصہ کا ضمان نہیں دلوایا۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ابن الثلب یہ ثلب نہیں ہے بلکہ تلب، تا کے ساتھ ہے اور حضرت شعبہ جو راوی ہیں اس حدیث کے وہ ذرا توتلے تھے تو تاء واضح نہیں کرسکتے تھے ثاء سے۔ (تاء بولتے تھے تو ثاء محسوس ہوتا۔ )

-

Permalink