TrueHadith

انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق عمر عمل شقاوت وسعادت لکھے جانے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 4781

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ قَالُوا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ إِنَّ أَحَدَکُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَکُونُ فِي ذَلِکَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَکُونُ فِي ذَلِکَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَکُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ بِکَتْبِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ہمدانی ابومعاویہ وکیع، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے پھر اسی میں جما ہوا خون اتنی مدت رہتا ہے پھر فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کا رزق، عمر، عمل اور شقی یا سعید ہونا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک تم میں سے کوئی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کر لیتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی اہل جہنم جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت والا عمل کر لیتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔

Abdullah (b. Mas'ud) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) who is the most truthful (of the human beings) and his being truthful (is a fact) said: Verily your creation is on this wise. The constituents of one of you are collected for forty days in his mother's womb in the form of blood, after which it becomes a clot of blood in another period of forty days. Then it becomes a lump of flesh and forty days later Allah sends His angel to it with instructions concerning four things, so the angel writes down his livelihood, his death, his deeds, his fortune and misfortune. By Him, besides Whom there is no god, that one amongst you acts like the people deserving Paradise until between him and Paradise there remains but the distance of a cubit, when suddenly the writing of destiny overcomes him and he begins to act like the denizens of Hell and thus enters Hell, and another one acts in the way of the denizens of Hell, until there remains between him and Hell a distance of a cubit that the writing of destiny overcomes him and then he begins to act like the people of Paradise and enters Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232224)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ إِنَّ خَلْقَ أَحَدِکُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً و قَالَ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَمَّا فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَی أَرْبَعِينَ يَوْمًا

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر بن عبدالحمید اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابوسعید اشج وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ بن حجاج اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے فرق یہ ہے کہ وکیع کی روایت میں ہے تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس راتیں ہوتی ہے شعبہ کی روایت میں چالیس دن یا چالیس رات ہے جریر اور عیسیٰ کی روایت میں چالیس دن مذکور ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Waki' (the words are): "The creation of any one of you is like this that (semen) is collected in the womb of the mother for forty nights," and in the hadith transmitted on the authority of Shu'ba (the words are): "Forty nights and forty days." And in the hadith transmitted on the authority of Jarir and 'Isa (the words are): "Forty days."

Permalink

Sahih MuslimHadith 4782

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَيُکْتَبَانِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی فَيُکْتَبَانِ وَيُکْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ثُمَّ تُطْوَی الصُّحُفُ فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، عمر ابن دینار ابی طفیل حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چالیس یا پینتالیس رات تک نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے تو فرشتہ اس پر داخل ہو کر کہتا ہے اے رب یہ بدبخت ہے یا نیک بخت پھر انہیں لکھ دیا جاتا ہے پھر کہتا ہے اے رب یہ مذکر ہوگا یا مونث پر یہ دونوں باتوں کو لکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال افعال موت اور اس کا رزق لکھا جاتا ہے پھر صحفیہ لپیٹ دیا جاتا ہے اس میں زیادتی کی جاتی ہے نہ کمی۔

Hudhaifa b. Usaid reported directly from Allah's Messenger (may peace be upon him) that he said: When the drop of (semen) remains in the womb for forty or fifty (days) or forty nights, the angel comes and says: My Lord, will he be good or evil? And both these things would be written. Then the angel says: My Lord, would he be male or female? And both these things are written. And his deeds and actions, his death, his livelihood; these are also recorded. Then his document of destiny is rolled and there is no addition to it nor subtraction from it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4783

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ وَكَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ أَجَلُهُ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ رِزْقُهُ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَخْرُجُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يَزِيدُ عَلَى مَا أُمِرَ وَلَا يَنْقُصُ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح ابن وہب، عمرو بن حارث، ابی زبیر مکی عامر بن واثلہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رایت ہے کہ بد بخت وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی بد بخت ہو اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے پس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک آدمی آیا جسے حذیفہ بن اسید غفاری کہا جاتا تھا اور عامر بن واثلہ سے حضرت ابن مسعود کا یہ قول روایت کیا تو عامر نے کہا آدمی بغیر عمل کے بد بخت کیسے ہو سکتا ہے تو اس سے حذیفہ نے فرمایا کیا تو اس بات سے تعجب کرتا ہے؟ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ اس کی طرف فرشتہ بھیجتے ہیں جو اس کی صورت بناتا ہے اور اس کے کان آنکھیں اور جلد گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے رب یہ مذکر ہے یا مؤ نث پس تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے فرشتہ پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کی عمر تو تیرا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے وہ پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کا رزق تو تیرا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر نکل جاتا ہے اور وہ نہ کوئی زیادتی کرتا ہے اور نہ کمی اس میں جو اسے حکم دیا جاتا ہے۔

'Abdullah b. Mas'ud reported: Evil one is he who is evil in the womb of his mother and the good one is he who takes lesson from the (fate of) others. The narrator came to a person from amongst the Companion of Allah's Messenger (may peace be upon him) who was called Hudhaifa b. Usaid Ghifari and said: How can a person be an evil one without (committing an evil) deed? Thereupon the person said to him: You are surprised at this, whereas I have heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saving: When forty nights pass after the semen gets into the womb, Allah sends the angel and gives him the shape. Then he creates his sense of hearing, sense of sight, his skin, his flesh, his bones, and then says: My Lord, would he be male or female? And your Lord decides as He desires and the angel then puts down that also and then says: My Lord, what about his age? And your Lord decides as He likes it and the angel puts it down. Then he says: My Lord, what about his livelihood? And then the Lord decides as He likes and the angel writes it down, and then the angel gets out with his scroll of destiny in his hand and nothing is added to it and nothing is subtracted from it.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232227)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ

احمد بن عثمان نوفلی ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر، ابوطفیل عبداللہ بن مسعود اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud through another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4784

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَائٍ أَنَّ عِکْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ إِنَّ النُّطْفَةَ تَقَعُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَکُ قَالَ زُهَيْرٌ حَسِبْتُهُ قَالَ الَّذِي يَخْلُقُهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ ذَکَرًا أَوْ أُنْثَی ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ أَسَوِيٌّ أَوْ غَيْرُ سَوِيٍّ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ سَوِيًّا أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ مَا رِزْقُهُ مَا أَجَلُهُ مَا خُلُقُهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ اللَّهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا

محمد بن احمد ابن ابی خلف یحیی بن ابی بکیر زہیر ابوخیثمہ عبداللہ بن عطاء، عکرمہ بن خالد ابوطفیل حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن اسید غفاری سے روایت ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نطفہ رحم میں چالیس رات تک رہتا ہے پھر فرشتہ اس پر صورت بناتا ہے زہیر نے کہا میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا اس کی تخلیق کرتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے رب یہ مذکر ہے یا مونث پس اللہ اسے مذکر یا مونث بنا دیتے ہیں پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کے اعضاء پورے اور برابر ہوں یا ادھورے اور ناہموار پس اللہ اسے کامل الاعضاء یا ادھورے اعضاء والا بناتے ہیں پھر عرض کرتا ہے اے رب اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کیا ہے اس کے اخلاق کیا ہیں پھر اللہ اسے شقی یا سعید بناتا ہے۔

Abu Tufail reported: I visited Abu Sariha Hudhaifa b. Usaid al-Ghifari who said: I listened with these two ears of mine Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The semen stays in the womb for forty nights, then the angel, gives it a shape. Zubair said: I think that he said: One who fashions that and decides whether he would be male or female. Then he (the angel) says: Would his limbs be full or imperfect? And then the Lord makes them full and perfect or otherwise as He desires. Then he says: My Lord, what about his livelihood, and his death and what about his disposition? And then the Lord decides about his misfortune and fortune.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232229)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ کُلْثُومٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلْثُومٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَلَکًا مُوَکَّلًا بِالرَّحِمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا بِإِذْنِ اللَّهِ لِبِضْعٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

عبدالوارث بن عبدالصمد ابی ربیعہ بن کلثوم ابی کلثوم ابی طفیل حذیفہ ابن اسد غفاری رسول اللہ کے صحابی حضرت حذیفہ بن اسید رسول اللہ سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ رحم پر مقرر شدہ ہے جب اللہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ فرشہ اللہ کے حکم سے چالیس راتوں سے کچھ زیادہ گزرنے پر اسے بناتا ہے باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Hadhaifa b. Usaid Ghifari, a Companion of Allah's Messenger (may peace be upon him), reported it directly from Allah's Messenger (may peace upon him) as he said: There is an angel who looks after the womb when Allah decides to create anything after more than forty nights are over; the rest of the hadith is the same.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4785

حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَرَفَعَ الْحَدِيثَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَکًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَيْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ فَيُکْتَبُ کَذَلِکَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ

ابوکامل فضیل ابن حسین جحدری حماد بن زید عبیداللہ بن ابی بکر، رافع حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے تو وہ عرض کرتا ہے یہ نطفہ ہے اے رب یہ جما ہوا خون ہے اے رب یہ لوتھڑا ہے پس جب اللہ اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو فرشتہ عرض کرتا ہے اے رب یہ نر ہے یا مادہ، شقی ہے یا سعید اس کا رزق کتنا ہے اور اس کی عمر کیا ہے پس اسی طرح اس کی ماں کے پیٹ ہی میں سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔

Anas b. Malik reported directly from Allah's Messenger (may peace be upon him) that he said: Allah, the Exalted and Glorious, has appointed an angel as the caretaker of the womb, and he would say: My Lord, it is now a drop of semen; my Lord, it is now a clot of blood; my Lord, it has now become a lump of flesh, and when Allah decides to give it a final shape, the angel says: My Lord, would it be male or female or would he be an evil or a good person? What about his livelihood and his age? And it is all written as he is in the womb of his mother.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4786

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَکَّسَ فَجَعَلَ يَنْکُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ کَتَبَ اللَّهُ مَکَانَهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَإِلَّا وَقَدْ کُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً قَالَ فَقَالَ رَجَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَمْکُثُ عَلَی کِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَقَالَ مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَی عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَی عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَقَالَ اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَی وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنَی فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَی

عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر اسحاق جریر، منصور سعد ابن عیبدہ ابوعبدالرحمن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ بقیع الغرقد میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا کر بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی پس آپ نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا پھر فرمایا تم میں سے کوئی اور جانداروں میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا مکان جنت یا دوزخ میں اللہ نے لکھ دیا ہو اور شقاوت وسعادت بھی لکھ دی جاتی ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم اپنی تقدیر پر ٹھہرے نہ رہیں اور عمل چھوڑ دیں؟ تو آپ نے فرمایا جو اہل سعید میں سے ہوگا وہ اہل سعادت کے عمل ہی کی طرف ہو جائے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ اہل شقاوت ہی کے عمل کی طرف جائے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرو ہر چیز آسان کر دی گئی ہے بہر حال اہل سعادت کے لئے اہل سعادت کے سے اعمال کرنا آسان کر دیا ہے پھر آپ نے فرمایا ( مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) تلاوت فرمائی جس نے صدقہ کیا اور تقوی اختیار کیا اور نیکی کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کر دیں گے اور بخل کیا اور لا پرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا تو ہم اس کے لئے برائیوں کو آسان کردیں گے۔

All reported: We were in a funeral in the graveyard of Gharqad that Allah's Messenger (may peace be upon him) came to us and we sat around him. He had a stick with him. He lowered his head and began to scratch the earth with his stick, and then said: There is not one amongst you whom a spot in Paradise or Hell has not been allotted and about whom it has not been written down whether he would be an evil person or a blessed person. A person said: Allah's Messenger, should we not then depend upon our destiny and abandon our deeds? Thereupon he said: Acts of everyone will be facilitated in that which has been created for him so that whoever belongs to the company of the blessed will have good works made easier for him and whoever belongs to the unfortunate ones will have evil acts made easier for him. He then recited this verse (from the Qur'an): "Then, who gives to the needy and guards against evil and accepts the excellent (the truth of Islam and the path of righteousness it prescribes), We shall make easy for him the easy end and who is miserly and considers himself above need, We shall make easy for him the difficult end". (XCii. 5-10).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232232)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ وَقَالَ فَأَخَذَ عُودًا وَلَمْ يَقُلْ مِخْصَرَةً وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن شری ابوالاحوص منصور اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4787

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْکُتُ بِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَ نَعْمَلُ أَفَلَا نَتَّکِلُ قَالَ لَا اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی إِلَی قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوسعید اشج وکیع، ابن نمیر، ابی اعمش، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، سعد بن عیبدہ ابوعبدالرحمن سلمی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کرید رہے تھے آپ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر ایک کا مقام جنت یا دوزخ میں معلوم ہے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول تو پھر ہم عمل کیوں کریں کیا ہم بھروسہ نہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ عمل کرو ہر آدمی کے لئے انہیں کاموں کو آسان کیا جاتا ہے جس کے لئے اس کی پیدائش کی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) تک تلاوت کی۔

'Ali reported that one day Allah's Messenger (may peace be upon him) was sitting with a wood in his hand and he was scratching the ground. He raised his head and said: There is not one amongst you who has not been allotted his seat in Paradise or Hell. They said: Allah's Messenger. then, why should we perform good deeds, why not depend upon our destiny? Thereupon he said. No, do perform good deeds, for everyone is facilitated in that for which he has been created; then he recited this verse: "Then, who gives to the needy and guards against evil and accepts the excellent (the truth of Islam and the path of righteousness it prescribes), We shall make easy for him the easy end..." (xcii. 5-10).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232234)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، منصور اعمش، سعد بن عبیدہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت ان اسناد سے بھی مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of 'Ali through another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4788

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا کَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ قَالَ لَا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ زُهَيْرٌ ثُمَّ تَکَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْئٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَسَأَلْتُ مَا قَالَ فَقَالَ اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ

احمد بن یونس زہیر ابوزبیر، یحیی بن یحیی، ابوخیثمہ ابوزبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک بن جعشم نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ہمارے دین کو واضح کریں۔ گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے کیا ان سے متعلق ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے یا اس چیز سے متعلق ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے سراقہ نے عرض کیا پھر ہم عمل کیوں کریں زہیر نے کہا پھر ابوالزبیر نے کوئی کلمہ ادا کیا لیکن میں اسے سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Jabir b. Abdullah with the same wording (and includes these words): "Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Every doer of deed is facilitated in his action."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232236)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَی وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ

ابوطاہر ابن وہب، عمرو حارث ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ سے ان اسناد سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا عمل آسان کر دیا گیا ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Jabir b. Abdullah with the same wording (and includes these words): "Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Every doer of deed is facilitated in his action."

Permalink

Sahih MuslimHadith 4789

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ الضُّبَعِيِّ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ قِيلَ فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ کُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

یحیی بن یحیی، حماد بن زید یزید ضبعی مطرف حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول کیا اہل جنت اہل جہنم سے معلوم ہو چکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا پھر عمل کرنے والے عمل کس لئے کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی جس عمل کے لئے پیدا کیا گیا اس کے لئے وہ عمل آسان کردیا گیا ہے۔

'Imran b. Husain repotted that it was said to Allah's Messenger (may peace be upon him): Has there been drawn a distinction between the people of Paradise and the denizens of hell? He said: Yes. It was again said: (If it is so), then What is the use of doing good deeds? Thereupon he said: Everyone is facilitated in what has been created for him.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232238)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

شیبان بن فروخ عبدالوارث ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن نمیر ابن علیہ، یحیی بن یحیی، جعفر بن سلیمان ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، یزید ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسیطرح مروی ہے صرف عبدالوارث کی روایت میں یہ ہے کہ صحابی کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔

This hadith has been narrated through other chains of transmiters with slight variations of wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4790

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَکْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتْ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقُلْتُ بَلْ شَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی عَلَيْهِمْ قَالَ فَقَالَ أَفَلَا يَکُونُ ظُلْمًا قَالَ فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِکَ فَزَعًا شَدِيدًا وَقُلْتُ کُلُّ شَيْئٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْکُ يَدِهِ فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ فَقَالَ لِي يَرْحَمُکَ اللَّهُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُکَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَکَ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَکْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتْ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْئٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَی فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِکَ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا

اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن عمر عزرہ بن ثابت یحیی بن عقیل یحیی ابن یعمر حضرت ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ مجھے عمران بن حصین نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ آج لوگ عمل کیوں کرتے ہیں اور اس میں مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر الہی اس پر جاری ہو چکی ہے یا وہ عمل ان کے سامنے آتے ہیں جنہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت نے دلائل ثابتہ سے واضح کردیا ہے تو میں نے کہا نہیں بلکہ ان کا عمل ان چیزوں سے متعلق ہے جن کا حکم ہو چکا ہے اور تقدیر ان میں جاری ہو چکی ہے تو عمران نے کہا کیا یہ ظلم نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ اس سے میں سخت گھبرا گیا اور میں نے کہا ہر چیز اللہ کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہے پس اس سے اس کے فعل کی باز پرس نہیں کی جاسکتی اور لوگوں سے تو پوچھا جائے گا تو انہوں نے مجھے کہا اللہ تجھ پر رحم فرمائے میں نے آپ سے یہ سوال صرف آپ کی عقل کو جانچنے کے لئے ہی کیا تھا قبیلہ مزنیہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ لوگ آج عمل کس بات پر کرتے ہیں اور کس وجہ سے اس میں مشقت برادشت کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں حکم صادر ہو چکا ہے اور اس میں تقدیر جاری ہو چکی ہے یا ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لے کرئے ہیں اور تبلیغ کی حجت ان پر قائم ہو چکی ہے اس کے مطابق عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ان کا عمل اس چیز کے مطابق ہے جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر اس میں جاری ہو چکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا) موجود ہے اور قسم ہے انسان کی اور جس نے اس کو بنایا اور اسے اس کی بدی اور نیکی کا الہام فرمایا۔

Abu al-Aswad reported that 'Imran b Husain asked him: What is your view, what the people do today in the world, and strive for, is it something decreed for them or preordained for them or will their fate in the Hereafter be determined by the fact that their Prophets brought them teaching which they did not act upon? I said: Of course, it is something which is predetermined for them and preordained for them. He (further) said: Then, would it not be an injustice (to punish them)? I felt greatly disturbed because of that, and said: Everything is created by Allah and lies in His Power. He would not be questioned as to what He does, but they would be questioned; thereupon he said to me: May Allah have mercy upon you, I did not mean to ask you but for testing your intelligence. Two men of the tribe of Muzaina came to Allah's Messenger (may peace be upon him) and said: Allah's Messenger, what is your opinion that the people do in the world and strive for, is something decreed for them; something preordained for them and will their fate in the Hereafter be determined by the fact that their Prophets brought them teachings which they did not act upon. And thus they became deserving of punishment? Thereupon, he said: Of course, it happens as it is decreed by Destiny and preordained for them, and this view is confirmed by this verse of the Book of Allah, the Exalted and Glorious: "Consider the soul and Him Who made it perfect, then breathed into it its sin and its piety" (xci. 8).

Permalink

Sahih MuslimHadith 4791

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

قتبیہ بن سعید عبدالعزیز بن محمد علاء، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا آدمی زمانہ طویل تک اہل جنت کے سے اعمال کرتا رہتا ہے پھر اس کا خاتمہ اہل جہنم کے اعمال پر ہوتا ہے اور بے شک آدمی مدت دراز تک اہل جہنم کے سے اعمال کرتا رہتا ہے پھر اس کے اعمال کا خاتمہ اہل جنت کے سے اعمال پر ہوتا ہے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying: Verily, a person performs deeds for a long time like the deeds of the people of Paradise. Then his deeds are terminated like the deeds of the people of Hell and, verily, a person performs deeds like the denizens of Fire for a long time, and then this deed of his is ultimately followed by the deeds of the people of Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4792

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، ابی حازم حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا آدمی لوگوں کے ظاہر میں اہل جنت کے سے اعمال کرتا ہے حالانکہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے اور آدمی لوگوں کے ظاہر میں اہل جہنم کے جیسے اعمال کرتا ہے حالانکہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔

Sahl b. Sa'd reported it from Allah's Messenger (may peace be upon him) that a person performs deeds like the deeds of the people of Paradise apparently before people and he would be amongst the dwellers of Hell and a person acts apparently like the people of Hell, but (in fact) he would be among the dwellers of Paradise.

Permalink