TrueHadith

اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

Sahih MuslimHadith 2692

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُکَفِّرُهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، یحیی بن کثیر، یعلی بن حکیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی اپنی بیوی سے قسم کے ساتھ کہے کہ مجھ پر حرام ہے تو اس کا کفارہ ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہتریں نمونہ ہے۔

Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported about (declaring of one's woman) unlawful as an oath which must be atoned, and Ibn 'Abbas said: Verily, there is in the Messenger of Allah (may peace be upon him) a model pattern for you.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2693

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ يَعْلَی بْنَ حَکِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُکَفِّرُهَا وَقَالَ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

یحیی بن بشرالحریری، معاویہ بن سلام، یحیی بن ابی کثیر، یعلی بن حکیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے اور اس کا کفارہ لازم ہوگا اور کہا (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)

Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported: When a man declares his wife unlawful for himself that is an oath which must be atoned, and he said: There is in the Messenger of Allah (may peace be upon him) a noble pattern for you.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2694

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا قَالَتْ فَتَوَاطَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی قَوْلِهِ إِنْ تَتُوبَا لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا

محمد بن حاتم، حجاج بن محمد، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمر، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے پس میں نے اور حفصہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مغافیر (پیاز کی ایک قسم) کی بو پاتی ہوں کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلکہ میں نے تو زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ہرگز نہ پیوں گا تو یہ آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ Ą وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِه حَدِيْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِه وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَه وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِه قَالَتْ مَنْ اَنْ بَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ ) 66۔ التحریم : 1) اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حلال رکھا ہے اور فرمایا یہ دونوں عائشہ وحفصہ اگر توبہ کرلیں تو ان کے دل جھک گئے اور یہ جو فرمایا (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بات اپنی بعض ازواج سے چپکے سے کہا اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔

'A'isha (Allah be pleased with her) narrated that Allah's Apostle (may peace be upon him) used to spend time with Zainab daughter of Jahsh and drank honey at her house. She ('A'isha further) said: I and Hafsa agreed that one whom Allah's Apostle (may peace be upon him) would visit first should say: I notice that you have an odour of the Maghafir (gum of mimosa). He (the Holy Prophet) visited one of them and she said to him like this, whereupon he said: I have taken honey in the house of Zainab bint Jabsh and I will never do it again. It was at this (that the following verse was revealed): 'Why do you hold to be forbidden what Allah has made lawful for you... (up to). If you both ('A'isha and Hafsa) turn to Allah" up to: "And when the Holy Prophet confided an information to one of his wives" (lxvi. 3). This refers to his saying: But I have taken honey.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2695

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَائَ وَالْعَسَلَ فَکَانَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ دَارَ عَلَی نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُکَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْکِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْکِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِکِ لَهُ وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی سَوْدَةَ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ کِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَی الْبَابِ فَرَقًا مِنْکِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ لَا قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ قَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَی صَفِيَّةَ فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيکَ مِنْهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْکُتِي قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا سَوَائً

ابوکریب، محمد بن العلاء، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھی چیز پسند کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عصر کی نماز ادا کر لیتے تو اپنی ازواج کے پاس چکر لگاتے اور ان کے پاس تشریف لایا کرتے ایک دن حفصہ کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر تک ان کے پاس ٹھہرے رہے میں نے اس بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات میں سے ایک بیوی کے پاس اس کی قوم نے شہد کی ایک کپی ہدیہ بھیجی تھی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پلایا ہے میں نے کہا اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حیلہ کروں گی اور میں نے اس کا سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ذکر کیا اور میں نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے پاس تشریف لائیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھ سے کہیں کہ نہیں تو تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنا یہ بدبو کیسی ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدبو آنا سخت ناپسند تھا، پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے یہ کہیں کہ مجھے حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے تو تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہو کہ شہد کی مکھی نے عرفط درخت کا رس چوسا ہے اسی درخت سے مغافیر بنتی ہے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی کہوں گی اور تم بھی اے صفیہ یہی کہنا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سودہ کے پاس آئے فرماتی ہیں کہ سودہ نے کہا اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تحقیق ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہی بات کہوں جو تم نے مجھے کہی تھی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ پر ہی ہوں تجھ سے ڈرتے ہوئے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب تشریف لائے تو اسنے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کیا یہ بدبو کیسی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے انہوں نے کہا کہ شہد کی مکھیوں نے عرفط کے درخت سے رس لیا ہوگا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفیہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کہا جب حفصہ کے ہاں تشریف لائے تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول کیا صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہد سے پلاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت وحاجت نہیں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سودہ نے سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اللہ کی قسم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہد سے روک دیا ہے میں نے ان سے کہا خاموش رہو آگے ایک اور سند ذکر کی ہے۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger (may peace be upon him) liked sweet (dish) and honey. After saying the afternoon prayer he used to visit his wives going close to them. So he went to Hafsa and stayed with her more than what was his usual stay. I ('A'isha) asked about that. It was said to me: A woman of her family had sent her a small vessel of honey as a gift, and she gave to Allah's Messenger (may peace be upon him) from that a drink. I said: By Allah, we would also contrive a device for him. I mentioned that to Sauda, and said: When he (Allah's Apostle) would visit you and draw close to you, say to him: Allah's Messenger, have you taken maghafir? And he would'say to you: No. Then say to him: What is this odour? And Allah's Messenger (may peace be upon him) felt it very much that unpleasant odour should emit from him. So he would say to you: Hafsa has given me a drink of honey. Then you should say to him: The honey-bees might have sucked 'Urfut, and I would also say the same to him and. Safiyya, you should also say this. So when he (the Holy Prophet) came to Sauda, she said: By Him besides whom there is no god, it was under compulsion that I had decided to state that which you told me when he would be at a little distance at the door. So when Allah's Messenger (may peace be upon him) came near, she said: Messenger of Allah, did you eat Maghafir? He said: No. She (again) said: Then what is this odour? He said: Hafsa gave me honey to drink. She said: The honey-bee might have sucked 'Urfut. When he came to me I told him like this. He then visited Safiyya and she also said to him like this. When he (again) visited Hafsa, she said: Messenger of Allah, should I not give you that (drink)? He said: I do not need that. Sauda said: Hallowed be Allah, by Him we have (contrived) to make that (honey) unlawful for him. I said to her: Keep quiet.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221187)

و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

سوید بن سعید، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of 'Urwa with the same chain of transmitters.

Permalink