حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَائِ فَيَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَائِ قَالَ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ قَالَ فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ قَالَ فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَائُ فِي الْأَرْضِ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو جبرائیل کو بلا کر فرماتے ہیں کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو اسے محبوب رکھ فرمایا پس جبرائیل بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں منادی کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب کسی بندے کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ( وہ دنیا والوں کے لیے مقبول ہوجاتا ہے) اور جب اللہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں تو بھی اسے مبغوض رکھ پس جبرائیل بھی اس سے بغض رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے عداوت رکھ دی جاتی ہے۔
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: When Allah loves a servant, He calls Gabriel and says: Verily, I love so and so; you should also love him, and then Gabriel begins to love him. Then he makes an announcement in the heaven saying: Allah loves so and so and you also love him, and then the inhabitants of the Heaven (the Angels) also begin to love him and then there is conferred honour upon him in the earth; and when Allah is angry with any servant He calls Gabriel and says: I am angry with such and such and you also become angry with him, and then Gabriel also becomes angry and then makes an announcement amongst the inhabitants of heaven: Verily Allah is angry with so-and so, so you also become angry with him, and thus they also become angry with him. Then he becomes the object of wrath on the earth also.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِکْرُ الْبُغْضِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، قتیبہ عبدالعزیز سعید بن عمرو اشعثی عبثر علاء بن مسیب ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، مالک ابن انس، سہیل اس اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ابن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Suhail with the same chain of transmitters except with this variation that in the hadith transmitted on the authority of 'Ali' b. Musayyib, there is no mention of (the word) "Anger".
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ کُنَّا بِعَرَفَةَ فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَی الْمَوْسِمِ فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتِ إِنِّي أَرَی اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قُلْتُ لِمَا لَهُ مِنْ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَقَالَ بِأَبِيکَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ
عمرو ناقد یزید بن ہارون عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابوسلمہ ماجشون سہیل بن ابی صالح سے روایت ہے کہ ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز گزرے اور وہ امیر حج تھے تو لوگ انہیں دیکھنے کے لئے کھڑے ہو گئے میں نے اپنے باپ سے کہا ابا جان میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے انہوں نے کہا کس وجہ سے میں نے کہا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ہونے کی وجہ سے تو انہوں نے کہا تجھے تیرے باپ کی قسم تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سنی ہوگی پھر جریر عن سہیل کی طرح حدیث بیان کی۔
Suhail b. Abi Salih, reported: We were in Arafa that there happened to pass Umar b. Abd al-'Aziz and he was the Amir of Hajj. People stood up in order to catch a glimpse of him. I said to my father: Father, I think that Allah loves Umar b. Abd al- 'Aziz. He said: How is it? I said: It is because of the love in people's heart for him. Thereupon he said: By One Who created your father, I heard Abu Huraira narrating from Allah's Messenger (may peace be upon him) a hadith like one transmitted on the authority of Suhail.