TrueHadith

آندھی اور بادل کے دیکھنے کے وقت پناہ مانگنے اور بارش کے وقت خوش ہونے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1495

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ عُرِفَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِکَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَی أُمَّتِي وَيَقُولُ إِذَا رَأَی الْمَطَرَ رَحْمَةٌ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، جعفربن محمد، عطاء بن ابی رباح، زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آندھی اور بارش کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس پر اس کے آثار معلوم ہوتے تھے کبھی فکر ہوتی اور کبھی جاتی رہتی، جب بارش ہو جاتی تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہو جاتے اور فکر چلی جاتی، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کو دیکھتے تو فرماتے کہ یہ رحمت ہے۔

'Ata' b. Abi Rabah reported that he heard 'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), as saying: When there was on any day windstorm or dark cloud (its effects) could be read on the face of the Messenger of Allah (may peace be upon him), and he moved forward and backward (in a state of anxiety) ; and when it rained, he was delighted and it (the state of restlessness) disappeared. 'A'isha said: I asked him the reason of this anxiety and he said: I was afraid that it might be a calamity that might fall upon my Ummah, and when he saw rainfall he said: It is the mercy (of Allah).

Permalink

Sahih MuslimHadith 1496

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتْ الرِّيحُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ قَالَتْ وَإِذَا تَخَيَّلَتْ السَّمَائُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفْتُ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ کَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا

ابوطاہر، ابن وہب، ابن جریج، عطاء بن رباح، زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ) اے اللہ میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی اور جو کچھ اس میں بھیجا گیا ہے اس کی بھی بہتری مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر اور جو شر اس کے ذریعہ بھیجا گیا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں، فرماتی ہیں اور جب آسمان پر گرد و چمک والا بادل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ تبدیل ہو جاتا، کبھی باہر جاتے اور کبھی اندر آتے، آگے آتے اور کبھی پیچھے جاتے، جب بارش ہو جاتی تو گھبراہٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہو جاتی، فرماتی ہیں کہ میں نے یہ حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! شاید یہ ویسا ہی ہو جیسا کہ قوم عاد نے کہا تھا ، ( فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) جب انہوں نے اپنے سامنے بادل آتے دیکھے تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والے ہیں۔

'Ata' b. Rabah reported on the authority of 'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), who said: Whenever the wind was stormy, the Apostle of Allah (may peace be upon him) used to say: O Allah! I ask Thee for what is good in it, and the good which it contains, and the good of that which it was sent for. I seek refuge with Thee from what is evil in it, what evil it contains, and the evil of that what it was sent for; and when there was a thunder and lightning in the sky, his colour underwent a change, and he went out and in, backwards and forwards; and when the rain came, he felt relieved, and I noticed that (the sign of relief) on his face. 'A'isha asked him (about it) and he said: It may be as the people of 'Ad said: When they saw a cloud formation coming to their valley they said:" It is a cloud which would give us rain" (Qur'an, xlvi. 24).

Permalink

Sahih MuslimHadith 1497

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِکًا حَتَّی أَرَی مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا کَانَ يَتَبَسَّمُ قَالَتْ وَکَانَ إِذَا رَأَی غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَی النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَائَ أَنْ يَکُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاکَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِکَ الْکَرَاهِيَةَ قَالَتْ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَکُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا

ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، ح، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ابونضر، سلیمان بن یسار، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو اس طرح کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلق کا کوا دیکھ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرماتے تھے، فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر دیکھا جاتا تھا، سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ بادل کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی اور میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادل دیکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر فکر کے آثار ہوتے ہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! مجھے اطمینان نہیں ہوتا کہ اس میں عذاب ہے یا نہیں ہے تحقیق ایک قوم کو ہوا کے ذریعہ عذاب دیا گیا اور جب اس قوم نے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے ( هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) کہ ہم پر بارش برسنے والی ہے۔

'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), reported: I never saw Allah's Messenger (may peace be upon him) laugh to such an extent that I could see his uvula-whereas he used to smile only-and when he saw dark clouds or wind, (the signs of fear) were depicted on his face. I said: Messenger of Allah, I find people being happy when they ace the dark cloud in the hope that it would bring rain, but I find that when you see that (the cloud) there is an anxiety on your face. He said: 'A'isha, I am afraid that there may be a calamity in it, for a people was afflicted with wind, when the people saw the calamity they said:" It is a cloud which would give us rain" (Qur'an. xlvi. 24).

Permalink