حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ قَالَ زُهَيْرٌ فِي غَزْوَةٍ وَلَمْ يَذْکُرْ خَيْبَرَ
محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، یحیی قطان، عبید اللہ، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خبیر میں فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا یعنی لہسن کو کھایا تو وہ مسجد میں نہ آئے راوی زہیر نے غزوہ کا ذکر کیا اور خبیر کا ذکر نہیں کیا۔
Ibn 'Umar reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: He who eats of this (offensive) plant must not approach our mosque, till its odour dies: (plant signifies) garlic.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا حَتَّی يَذْهَبَ رِيحُهَا يَعْنِي الثُّومَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس ترکاری کو کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے یعنی لہسن۔
Ibn 'Umar reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: He who eats of this (offensive) plant must not approach our mosque, till its odour dies: (plant signifies) garlic.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ الثُّومِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا وَلَا يُصَلِّي مَعَنَا
زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، عبدالعزیز، ابن صہیب فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا تو وہ نہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہی ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
Ibn Suhaib reported: Anas was asked about the garlic; he stated that the Messenger of Allah (may peace be upon him) had said: He who eats of this plant (garlic) should not approach us and pray along with us.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبد، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا تو وہ نہ ہماری مسجد کے قریب آئے اور نہ ہی لہسن کی بدبو سے ہمیں تکلیف دے۔
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: He who eats of this plant (garlic) should not approach our mosque and should not harm us with the odour of garlic.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَأَذَّی مِمَّا يَتَأَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، کثیر بن ہشام دستوائی، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا ہمیں ان کے کھانے کی ضرورت پیش آئی تو ہم نے کھا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس بدبو دار درخت میں سے کھالے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن چیزوں سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔
Jabir reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) forbade eating of onions and leek. When we were overpowered by a desire (to eat) we ate them. Upon this he (the Holy Prophet) said: He who eats of this offensive plant must not approach our mosque, for the angels are harmed by the same things as men.
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنْ الْبُقُولِ فَقَالَ قَرِّبُوهَا إِلَی بَعْضِ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ کَرِهَ أَکْلَهَا قَالَ کُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن ابی رباح، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے پیاز یا لہسن کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں سالن تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں بدبو محسوس کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سالن کے بارے میں پوچھا کہ اس میں کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں نے سے ایک صحابی کے ہاں اسے بھیجنے کا حکم فرمایا چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کھانے کو ناپسند فرمایا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس صحابی نے بھی اس کھانے کو ناپسند فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کھاؤ کیونکہ میں فرشتوں سے مناجات کرتا ہوں تم ان سے مناجات نہیں کرتے۔
Jabir reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: He who eats garlic or onion should remain away from us or from our mosque and stay in his house. A kettle was brought to him which had (cooked) vegetables in it, He smelt (offensive) odour in it. On asking he was informed of the vegetables (cooked in it). He said: Take it to such and such Companion. When he saw it, he also disliked eating it. (Upon this), he (the Holy Prophet) said: You may eat it, for I converse with one with whom you do not converse.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الثُّومِ و قَالَ مَرَّةً مَنْ أَکَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْکُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَتَأَذَّی مِمَّا يَتَأَذَّی مِنْهُ بَنُو آدَمَ
محمد بن حاتم، یحیی بن سعید، ابن جریج، عطا، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس لہسن کے درخت میں سے کھایا اور ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے پیاز، لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
Jabir b. 'Abdullah reported the Apostle of Allah (may peace be upon him) saying: He who eats of this (offensive) plant, i. e garlic, and sometimes he said: He who eats onion and garlic and leek, should not approach our mosque for the angels are harmed by the same things as the children of Adam.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْبَصَلَ وَالْکُرَّاثَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں پیاز اور گندنا کا ذکر نہیں ہے۔
Ibn Juraij has narrated it with the same chain of transmitters: He who eats of this plant, i. e. garlic, should not come to us in our mosque, and he made no mention of onions or leek.
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْکَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَأَکَلْنَا مِنْهَا أَکْلًا شَدِيدًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ فَقَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ فَبَلَغَ ذَاکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي وَلَکِنَّهَا شَجَرَةٌ أَکْرَهُ رِيحَهَا
عمرو ناقد، اسماعیل بن علیہ، جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابھی تک ہم واپس نہ لوٹے تھے کہ خیبر فتح ہوگیا اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اس لہسن کے درخت پر گر پڑے اور لوگ اس دن بھوکے تھے تو ہم نے بہت زیادہ لہسن کھا لیا پھر ہم مسجد کی طرف آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدبو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس خبیث درخت سے کچھ کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے لوگ کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے لوگو میں اس چیز کو حرام نہیں کرتا جسے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے حلال کردیا ہو لیکن یہ لہسن کا درخت ایسا ہے کہ اس کی بدبو مجھے ناپسند ہے۔
Abu Sa'id reported: We made no transgression but Khaybar was conquered. We, the Companions of the Messenger of Allah (may peace be upon him), fell upon this plant. i e. garlic. because the people were hungry. We ate it to our heart's content and then made our way towards the mosque. The Messenger of Allah (may peace be upon him) sensed its odour and he said: He who takes anything of this offensive plant must not approach us in the mosque. The people said: Its (use) has been forbidden; its (use) has been forbidden. This reached the Apostle of Allah (may peace be upon him) and he said: O people, I cannot forbid (the use of a thing) which Allah has made lawful, but (this garlic) is a plant the odour of which is repugnant to me.
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ ابْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ فَأَکَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْکُلْ آخَرُونَ فَرُحْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْکُلُوا الْبَصَلَ وَأَخَّرَ الْآخَرِينَ حَتَّی ذَهَبَ رِيحُهَا
ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو، بکیر بن اشج، ابن خباب، ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ اپنے صحابہ کے ساتھ پیاز کے کھیت پر سے گزرے ان میں سے کچھ لوگوں نے کھیت میں سے پیاز کھایا اور کچھ لوگوں نے نہیں کھایا پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آگئے آپ نے ان لوگوں کو بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا اور دوسروں کو نہیں بلایا جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی گئی۔
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) along with his Companions happened to pass by a field in which onions were sown. The people stopped there and ate out of that, but some of them did not eat. Then they (Prophet's Companions) went to him. He (first) called those who had not eaten the onions and kept the others (who had taken onions) waiting till its odour vanished.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَکَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ کَأَنَّ دِيکًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَکُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ شُورَی بَيْنَ هَؤُلَائِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَأُولَئِکَ أَعْدَائُ اللَّهِ الْکَفَرَةُ الضُّلَّالُ ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ الْکَلَالَةِ مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْئٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْکَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْئٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ حَتَّی طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ يَا عُمَرُ أَلَا تَکْفِيکَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَائِ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُکَ عَلَی أُمَرَائِ الْأَمْصَارِ وَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْکَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ ثُمَّ إِنَّکُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْکُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنْ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَی الْبَقِيعِ فَمَنْ أَکَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا
محمد بن مثنی، یحیی بن سعید، ہشام، قتادہ، سالم بن ابی جعد، معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماریں اور میں اسے یہی خیال کرتا ہوں کہ میری موت قریب ہے کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقرر کر دوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور خلافت اور اس چیز کو جسے دے کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا ہے ضائع نہیں کرے گا اگر میری موت جلد ہی آجائے تو خلافت مشورہ کے بعد ان چھ حضرات کے درمیان رہے گی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات تک راضی رہے اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس معاملہ میں جن کو خود میں نے اپنے ہاتھ سے مارا ہے اسلام پر طعن کریں گے اگر انہوں نے اس طرح کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن اور کافر گمراہ ہیں اور میں اپنے بعد کسی چیز کو اتنا اہم نہیں سمجھتا جتنا اہم میرے نزدیک کلالہ ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں اتنا نہیں پوچھا جتنا کہ کلالہ کے بارے میں پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں فرمائی جتنی کہ اس مسئلہ میں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک میرے سینے میں ماری پھر فرمایا اے عمر کیا تجھے وہ آیت کافی نہیں جو گرمیوں کے موسم میں سورت النسا کے آخر میں نازل ہوئی (یَستَفتُونَکَ قُلِ اللہ یُفتِیکُم فِی الکَلا لَہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حکم پوچھتے ہیں فرما دیں کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے، اور اگر میں زندہ رہا تو کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا جس کے متعلق ہر آدمی جس نے قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ تو ان لوگوں پر گواہ رہنا کہ جنہیں میں نے شہروں کی حکومت دی اور میں نے انہیں اسی لئے بھیجا ہے کہ وہ ان پر انصاف کریں اور ان لوگوں کو دین کی باتیں سکھائیں اور ان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سکھائیں اور جو مال غنیمت ان کو ملے اسے تقسیم کریں اور جس معاملہ میں کوئی مشکل پیش آئے تو میری طرف رجوع کریں پھر (فرمایا) اے لوگو! تم دو درختوں کو کھاتے ہو۔ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں، یہ درخت پیاز اور لہسن کے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ان درختوں کی کسی آدمی سے بدبو محسوس کرتے تو حکم فرماتے کہ اسے بقیع کی طرف نکال دیا جائے، تو جو آدمی انہیں کھائے تو خوب انہیں پکا کر ان کی بدبو مار دے۔
Ma'dan b. Talha reported: 'Umar b. Khattab, delivered the Friday sermon and he made a mention of the Apostle of Allah (may peace be upon him) and Abu Bakr. He (further) said: I saw in a dream that a cock pecked me twice, and I perceive that my death is near. Some people have suggested me to appoint my successor. And Allah would not destroy His religion. His caliphate and that with which He sent His Apostle (may peace be upon him) If death approaches me soon, the (issue) of Caliphate (would be decided) by the consent of these six men with whom the Messenger of Allah (may peace be upon him) remained well pleased till his death. And I know fully well that some people would blame me that I killed with these very hands of mine some persons who apparently professed (Islam). And if they do this (blame me) they are the enemies of Allah, and are non-believers and have gone astray. And I leave not after me anything which to my mind seems more important than Kalala. And I never turned towards the Messenger of Allah (may peace be upon him) (for guidance) more often than this Kalala, and he (the Holy Prophet) was not annoyed with me on any other (issue) than this: (And he was so perturbed) that he struck his fingers on my chest and said: Does this verse. that is at the end of Surat al-Nisa'. which was revealed in the hot season not suffice you? And if I live longer I would decide this (problem so clearly) that one who reads the Qur'an, or one who does not read it, would be able to take (correct), decisions (under its light). He ('Umar) further said: Allah! I call You witness on these governors of lands, that I sent them to (the peoples of these lands) so that they should administer justice amongst them, teach them their religion and the Sunnah of the Apostle of Allah (may peace be upon him), and distribute amongst them the spoils of war and refer to me that which they find difficult to perform. O people. you eat 'these two plants and these are onions and garlic. and I find them nothing but repugnant for I saw that when the Messenger of Allah (may peace be upon him) sensed the odour of these two from a person in a mosque, he was made to go to al-Baqi'. So he who eats it should (make its odour) die by cooking it well.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters.