TrueHadith

اس بات کے بیان میں کہ مختار وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں ۔

Sahih MuslimHadith 1027

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ کَيْفَ أَنْتَ إِذَا کَانَتْ عَلَيْکَ أُمَرَائُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَکَ نَافِلَةٌ وَلَمْ يَذْکُرْ خَلَفٌ عَنْ وَقْتِهَا

خلف بن ہشام، حماد بن زید، ابوربیع زہرانی و ابوکامل جحدری، حماد بن زید، ابوعمران جونی، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم اس وقت کیا کرو گے جب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے یا نماز کو اس کے وقت سے مٹا ڈالیں گے تو میں نے عرض کیا کہ اس وقت میرے لئے کیا حکم ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا لیکن اگر ان کے ساتھ بھی پالو پڑھ لینا کیونکہ وہ تمہارے لئے نفل نماز ہو جائے گی راوی خلف نے لفظ عَنْ وَقْتِهَا کا ذکر نہیں کیا۔

Abu Dharr reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said to me: How would you act when you are under the rulers who would delay the prayer beyond its prescribed time, or they would make prayer a dead thing as far as its proper time is concerned? I said: What do you command? He (the Holy Prophet) said: Observe the prayer at its proper time, and if you can say it along with them do so, for it would be a supererogatory prayer for you. Khalaf (one of the narrators in the above hadith) has not mentioned "beyond their (prescribed) time".

Permalink

Sahih MuslimHadith 1028

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَکُونُ بَعْدِي أُمَرَائُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً وَإِلَّا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ

یحیی بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ابی عمران جونی، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا اے ابوذر عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو مٹا ڈالیں گے تو تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا تو اگر تو نے نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لیا تو وہ نماز (جو حاکم کے ساتھ پڑھی گئی) تیرے لئے نفل ہوگی ورنہ تو نے تو اپنی نماز پوری کر ہی لی۔

Abu Dharr reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said to me: O Abu Dharr, you would soon find after me rulers who would make their prayers dead. You should say prayer at its prescribed time. If you say prayer at its prescribed time that would be a supererogatory prayer for you, otherwise you saved your prayer.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1029

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ وَإِلَّا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، شعبہ، ابوعمران، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل نے وصیت فرمائی ہے میں سنوں اور فرمانبرداری کروں اگرچہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں نماز کو اپنے وقت پر پڑھوں اگر تو لوگوں کو پائے کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی پوری کرلی ورنہ وہ نماز تیرے لئے نفل ہو جائے گی۔

Abu Dharr reported: My friend (the Holy Prophet) bade me to hear and obey (the ruler) even if he is a slave having his feet and arms cut off, and observe prayer at its prescribed time. (And further said): It you find people having observed the prayer, you in fact saved your prayer, otherwise (if you join with them) that would be a Nafl prayer for you.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1030

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ فَخِذِي کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِکَ فَإِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ

یحیی بن حبیب، خالد بن حارث، شعبہ، بدیل، ابوعالیہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کر کے پڑھیں میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت کے لئے مجھے کیا حکم فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے جانا پھر اگر نماز کی اقامت کہی جائے اس حال میں کہ تم مسجد میں ہو تو نماز پڑھ لینا۔

Abu Dharr reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) struck my thigh and said: How would you act if you survive among the people who would delay prayers beyond their (prescribed) time? He (Abu Dharr) said: What do you command (under this situation)? He (the Holy Prophet) slid: Observe prayer at its prescribed time, then go (to meet) your needs, and if the Iqama is pronounced, and you are present in the mosque, then observe prayer (along with the Jama'at).

Permalink

Sahih MuslimHadith 1031

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَجَائَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ کُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَکَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَی شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ کَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ وَقَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، ابوعالیہ براء، حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے اور میں نے ان کے لئے کرسی ڈالی وہ اس کر سی پر بیٹھے تو میں نے ان سے ابن زیاد کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنے ہونٹ دبائے اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے اور انہوں نے بھی میری ران پر مارا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا اور فرمایا کہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا اور اگر تو نے نماز ان کے ساتھ پا لی تو پڑھ لینا یہ مت کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے اب میں نماز نہیں پڑھتا۔

'Abu'l-'Aliyat al-Bara reported: Ibn Ziyad delayed the prayer. 'Abdullah b. Samit came to me and I placed a chair for him and he sat in it and I made a mention of what Ibn Ziyad had done. He bit his lips (as a sign of extreme anger and annoyance) and struck at my thigh and said: I asked Abu Dharr as you have asked me, and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and said: I asked the Messenger of Allah (may peace be upon him) as you have asked me and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and he (the Holy Prophet) said: Observe prayer at its prescribed time, and if you can say prayer along with them. do so, and do not say "I have observed prayer and so I shall not pray."

Permalink

Sahih MuslimHadith 1032

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ أَوْ قَالَ کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ

عاصم بن نضر تیمی، خالد بن حارث، شعبہ، ابونعامہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارا کیا حال ہوگا یا فرمایا کہ تیرا کیا حال ہوگا کہ جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے دیر کر کے پڑھتے ہیں تو نماز کو اپنے وقت پر پڑھ اگر نماز کھڑی ہو جائے تو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔

Abu Dharr reported: (The Messenger of Allah) said: How would you, or how would thou, act if you survive to live among people who defer prayer beyond the (prescribed) time? (The narrator said: Allah and His Messenger know best). whereupon he said: Observe prayer at its prescribed time, but if the Iqama is pronounced for (congregational) prayer, then observe prayer along with them. for herein is an excess of virtue.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1033

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَائَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنْ ذَلِکَ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً قَالَ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذُکِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ

ابوغسان مسمعی، معاذ، ابن ہشام، مطر، حضرت ابوالعالیہ براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ نماز میں تاخیر کرتے ہیں راوی ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا تو مجھے درد ہونے لگا اور فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل کر دیا کرو راوی نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ران پر بھی ہاتھ مارا تھا۔

Abu'l-'Aliyat al-Bara' reported: I said to 'Abdullah b. Samit: We say our Jumu'a prayer behind those rulers who defer the prayer. He ('Abdullah b. Samit), struck. my thigh that I felt pain and said: I asked Abu Dharr about it, he struck my thigh and said: I asked the Messenger of Allah (may peace be upon him) about it. Upon this he said: Observe prayer at its prescribed time, and treat prayer along with them (along with those Imams who deter prayer) as Nafl. 'Abdullah said: It was narrated to me that the Messenger of Allah (may peace be upon him) struck the thigh of Abu Dharr.

Permalink