و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ أَيُّکُمْ يَقُومُ إِلَی سَلَا جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِي کَتِفَيْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ قَالَ فَاسْتَضْحَکُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَی بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ کَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّی انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ فَجَائَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَکَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمْ الضِّحْکُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَذَکَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّی صَرْعَی يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَی الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
ابن عمر بن محمد بن ابان جعفی، عبدالرحیم ابن سلیمان، زکریا، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ کل ایک اونٹنی کو ذبح کیا گیا تھا ابوجہل نے کہا تم میں سے کون ہے جو بنی فلاں کی اونٹنی کی اوجھڑی کو اٹھا لائے اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں پر رکھ دے جب وہ سجدہ کریں پس قوم میں سے سب سے بدبخت اٹھا اور اوجھڑی کو اٹھا لایا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ فرمایا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان رکھ دی پھر انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا اور اتنا ہنسے کہ ایک دوسرے پر گرنے لگے اور میں کھڑا دیکھ رہا تھا کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک سے دور کر دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے کہ اپنے سر مبارک کو اٹھا نہ سکتے تھے یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اطلاع دی پس وہ آئیں اور کم سن تھیں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا پھر کافروں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو پورا کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باآواز بلند ان کے لئے بد دعا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تو تین مرتبہ کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ قریش کی گرفت فرما جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو ان کی ہنسی ختم ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ڈرنے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عقبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما اور ساتویں کا ذکر کیا جسے میں یاد نہ رکھ سکا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے تحقیق میں نے ان لوگوں کو جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیا تھا بدر کے دن مردہ دیکھا پھر انہیں کنویں میں ڈال دیا گیا ابواسحاق نے کہا اس حدیث میں ولید بن عقبہ غلط ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Mas'ud who said: While the Messenger of Allah (may peace be upon him) was saying his prayer near the Ka'ba and Abu Jahl with his companions was sitting (near by), Abu Jahl said, referring to the she-camel that had been slaughtered the previous day: Who will rise to fetch the foetus of the she-camel of so and so, and place it between the shoulders of Muhammad when he goes down in prostration (a posture in prayer). The one most accursed among the people got up, brought the foetus and, when the Prophet (may peace be upon him) went down in prostration, placed it between his shoulders. Then they laughed at him and some of them leaned upon the others with laughter. And I stood looking. If I had the power, I would have thrown it away from the back of the Messenger of Allah (may peace be upon him). The Prophet (may peace be upon him) had bent down his head in prostration and did not raise it, until a man went (to his house) and informed (his daughter) Fatima, who was a young girl (at that time) (about this ugly incident). She came and removed (the filthy thing) from him. Then she turned towards them rebuking them (the mischief-mongers). When the Prophet (may peace be upon him) had finished his prayer, he invoked God's imprecations upon them in a loud voice. When he prayed, he prayed thrice, and when he asked for God's blessings, he asked thrice. Then he said thrice: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish. When they heard his voice, laughter vanished from them and they feared his malediction. Then he said: O God, it is for Thee to deal with Abu Jahl b. Hisham, 'Utba b. Rabi'a, Shaiba b. Rabi'a. Walid b. Uqba, Umayya b. Khalaf, Uqba b. Abu Mu'ait (and he mentioned the name of the seventh person. which I did not remember). By One Who sent Muhammad with truth, I saw (all) those he had named lying slain on the Day of Badr. Their dead bodies were dragged to be thrown into a pit near the battlefield.Abu Ishiq had said that the name of Walid b. 'Uqba has been wrongly mentioned in this tradition.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَی ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَائَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَی مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاکُّ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق ، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے والے تھے اور قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد تھے کہ عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر پھینک دیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک نہ اٹھا سکتے تھے پس حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک سے اٹھایا اور ایسی بیہودہ حرکت کرنے والوں کے لئے بددعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ قریش کے سردار ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف پر گرفت فرما عبداللہ کہتے ہیں تحقیق میں نے انہیں دیکھا کہ بدر کے دن قتل کئے گئے اور سوائے امیہ یا ابی کے سب کو کنوئیں میں ڈال دیا گیا کہ اس کا جوڑ جوڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا۔
It has been narrated by Abdullah (b. Mas'ud) who said: When the Messenger of Allah (may peace be upon him) was lying postrate in prayer and around him were some people from the Quraish, 'Uqba b. Abu Mu'ait brought the foetus of a she-camel and threw it on the back of the Messenger of Allah (may peace be upon him). He did not raise his head until Fatima arrived, removed it from his back and cursed him who had done that (ugly act). He said: O Allah, it is for Thee to deal with the chiefs of the Quraish. Abu Jahl b. Hisham, 'Utba b. Rabi'a. Uqba b. Abu Mu'ait, Shaiba b. Rabi'a, Umayya b. Khalaf or Ubayy b. Khalaf (Shu'ba, one of the narrator of this tradition is in doubt about the exact person). I saw that all were slain in the Battle of Badr and their dead bodies were thrown into a well, except that of Umayya or Ubayy which was cut into pieces and was thrown into the well.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ وَکَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا يَقُولُ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثًا وَذَکَرَ فِيهِمْ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَلَمْ يَشُکَّ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، سفیان، ابواسحاق، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ (دعا فرمانے) کو پسند فرماتے تھے فرمایا اے اللہ قریش پر گرفت فرما اے اللہ قریش پر گرفت فرما اے اللہ قریش پر گرفت فرما اور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا بھی فرمایا اور شک مذکور نہیں ابواسحاق نے کہا سا تو اں میں بھول گیا ہوں۔
Abu Ishiq has narrated a similar tradition through a different chain of transmitters and has added: He (the Messenger of Allah) loved to repeat the supplication thrice. He was saying: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish (repeating these words thrice). And among the Quraish, he mentioned (the names of) al-Walid b. 'Utba and Umayya b. Khalaf. (The narrator says there is no doubt about the names of these persons but he has forgotten the name of the seventh man)
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَی سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَی عَلَی بَدْرٍ قَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ وَکَانَ يَوْمًا حَارًّا
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، زہیر، ابواسحاق ، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف رخ فرما کر قریش کے چھ آدمیوں کے لئے بد دعا کی جن میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے میں اللہ کی قسم اٹھا کے کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں مقام بدر پر مرے ہوئے دیکھا اور سورج نے ان کا حلیہ بدل دیا تھا اور یہ دن سخت گرمی کا دن تھا۔
It has been narrated on the authority of 'Abdullah that, the Messenger of Allah (may peace be upon him) turned his face towards the Ka'ba and invoked God's imprecations upon six men of the Quraish, among whom were Abu Jahl, Umayya b. Khalaf, Utba b. Rabi'a, Shaiba b. Rabi'a and 'Uqba b. Abu Mu'ait I swear by God that I saw them lying slain in the battlefield of Badr. It being a hot day, their complexion had changed (showing signs of decay).
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أَتَی عَلَيْکَ يَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِکِ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَی ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَی وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رُدُّوا عَلَيْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ قَالَ فَنَادَانِي مَلَکُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَأَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّکَ إِلَيْکَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِکَ فَمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمْ الْأَخْشَبَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، حرملہ بن یحیی، عمرو بن سواد عامری، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن احد کے دن سے بھی سخت آیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تیری قوم سے عقبہ کے دن کی سختی سے بھی زیادہ تکلیف اٹھا چکا ہوں جب میں نے اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد یا لیل بن عبد کلاں کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری مرضی کے مطابق میری بات کا جواب نہ دیا میں اپنے رخ پر غم زدہ ہو کر چلا اور قرآن الثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے ایک بادل دیکھا جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا پس اس میں سے جبرائیل نے مجھے آواز دی اس نے کہا اللہ رب العزت نے آپ کی قوم کی بات اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا سن لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہاڑوں پر مامور فرشتے کو بھیجا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پس مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور مجھے سلام کہا پھر کہا اے محمد! تحقیق اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی گفتگو سنی اور میں پہاڑوں پر مامور فرشتہ ہوں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معاملہ میں جو چاہیں مجھے حکم دیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر بچھا دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا نہیں بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی اولاد میں سے ایسی قوم کو پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔
It has been narrated on the authority of 'A'isha, the wife of the Prophet (may peace be upon him), who said to the Messenger of Allah (may peace he upon him): Messenger of Allah, has there come upon you a day more terrible than the day of Uhud. He said: I have experienced from thy people and the hardest treatment I met from them was what I received from them on the day of 'Aqaba. I betook myself to Ibn Abd Yalil b. Abd Kulal with the purpose of inviting him to Islam, but he did not respond to me as I desired. So I departed with signs of (deep) distress on my face. I did not recover until I reached Qarn al-Tha'alib. Where I raised my head, lo! near me was a cloud which had cast its shadow on me. I looked and lo! there was in it the angel Jibril who called out to me and said.: God the Honoured and Glorious, has heard what thy people have said to thee, and how they have reacted to thy call. And He has sent to thee the angel in charge of the mountains so that thou mayest order him what thou wishest (him to do) with, regard to them. The angel in charge of the mountains (then) called out to me, greeted me and said: Muhammad, God has listened to what thy people have said to thee. I am the angel in charge of the mountains, and thy Lord has sent me to thee so that thou mayest order me what thou wishest. If thou wishest that I should bring together the two mountains that stand opposite to each other at the extremities of Mecca to crush them in between, (I would do that). But the Messenger of Allah (may peace he upon him) said to him: I rather hope that God will produce from their descendants such persons as will worship Allah, the One, and will not ascribe partners to Him.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْکَ الْمَشَاهِدِ فَقَالَ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ
یحیی بن یحیی، قتیبہ بن سعید، یحیی، ابوعوانہ، اسود بن قیس، حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان جنگوں میں سے کسی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک خون آلود ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے اور تو نے جو شدت اٹھائی ہے وہ اللہ کی راہ میں اٹھائی ہے۔
It has been narrated on the authority of Jundub b. Sufyan who said: A finger of the Messenger of Allah (may peace be upon him) was wounded in one of the encounters. He said: Thou art just a little finger which has bled, and what thou hast experienced is in the cause of Allah.
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنُکِبَتْ إِصْبَعُهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، اسود بن قیس، اس سند سے بھی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ایک لشکر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوگئی تھی۔
It has been narrated on the authority of Aswad b. Qais who said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) was in a cave (or raid) when his finger was hurt.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُا أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی
اسحاق بن ابراہیم، سفیان، اسود بن قیس، حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل کو تاخیر ہوگئی تو مشرکین نے کہا محمد کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے۔
It has been narrated on the authority of Aswad b. Qais who heard Jundub saying that Gabriel delayed his visit to the Messenger of Allah (may peace be upon him) The polytheists began to say that Muhammad has been forsaken. At this Allah, the Glorious and Exalted, revealed: "Wa'dduha wa'l-laili iza saja, ma wadda'ka Rabbuka wa' ma qala" [By the glorious morning light, and by the night when it is still: thy Lord has not forsaken thee, nor is He displeased].
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُا اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَکُونَ شَيْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَکَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، اسحاق ، یحیی بن آدم، زہیر، اسود بن قیس، حضرت جندب بن ابوسفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا اے محمد میں امید کرتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ میں نے اسے دو یا تین راتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں دیکھا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں چاشت کے وقت کی قسم اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اور نہ ناراض ہوا۔
It has been narrated on the authority of Aswad b. Qais who said: I heard Jundub b. Sufyan say: The Messenger of Allah (may peace be upon him) fell ill and did not wake up for two or three nights (for prayers). A woman came to him and said: Muhammad, I hope that your satan has left you. I haven't seen him approach you for two or three nights. The narrator says: At this, Allah, the Glorious and Exalted, revealed: "By the Glorious......"
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Aswad b. Qais with the same chain of transmitters.