TrueHadith

میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 5110

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُکَ حَتَّی يَبْعَثَکَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

یحیی بن یحیی، مالک نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی مر جاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو جنت والوں کا مقام اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے تو دوزخ والوں کا مقام اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے اٹھا کر اس جگہ نہ پہنچادے۔

Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as say- ing: When any one of you dies, he is shown his seat (in the Hereafter) morning and evening; if he is amongst the inmates of Paradise (he is shown the seat) from amongst the inmates of Paradise and if he is one from amongst the denizens of Hell (he is shown the seat) from amongst the denizens of Hell, and it would be said to him: That is your seat until Allah raises you on the Day of Resurrection (and sends you to your proper seat).

Permalink

Sahih MuslimHadith 5111

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُکَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو صبح شام اس کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے تو جنت اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے تو دوزخ والوں کا مقام اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے جہاں قیامت کے دن تجھے اٹھا کر پہنچا دیا جائے گا۔

Ibn Umar reported that Allah's Apostle (may peace be upon him) said: When a person dies, he is shown his seat morning and evening. If he is one amongst the inmates of Paradise (he is shown his seat) in Paradise and if he is one amongst the denizens of Hell-Fire (he is shown his seat) in the Hell-Fire. Then it is said to him: That is your seat where you would be sent on the Day of Resurrection.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5112

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَی بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَکَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ قَالَ کَذَا کَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ فَقَالَ مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ فَمَتَی مَاتَ هَؤُلَائِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاکِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَی فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ

یحیی بن ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی بن ایوب، ابن علیہ، سعید جریر، ابی نضرہ حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی ہے بلکہ یہ حدیث میں حضرت زید بن ثابت سے سنی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر بنو نجار کے باغ میں جا رہے تھے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ گدھا بدک گیا قریب تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے گرا دے وہاں اس جگہ دیکھا کہ چھ یا پانچ یا چار قبریں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کوئی ان قبروالوں کا پہنچانتا ہے تو ایک آدمی نے عرض کیا میں ان قبر والوں کو جانتا ہوں آپ نے فرمایا یہ لوگ کب مرے ہیں اس آدمی نے عرض کیا یہ لوگ شرک کی حالت میں مرے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جماعت کو ان قبروں میں عذاب ہو رہا ہے کاش کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی قبر کا عذاب سنا دے جسے میں سن رہا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم لوگ دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں آپ نے فرمایا تم ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں آپ نے فرمایا تم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

Abu Sa'id al-Khudri reported: I did not hear this hadith from Allah's Apostle (may peace be upon him) directly but it was Zaid b. Thabit who narrated it from him. As Allah's Apostle (may peace be upon him) was going along with us towards the dwellings of Bani an-Najjar, riding upon his pony, it shied and he was about to fall. He found four, five or six graves there. He said: Who amongst you knows about those lying in the graves? A person said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) said: In what state did they die? He said: They died as polytheists. He said: These people are passing through the ordeal in the graves. If it were not the reason that you would stop burying (your dead) in the graves on listening to the torment in the grave which I am listening to, I would have certainly made you hear that. Then turning his face towards us, he said: Seek refuge with Allah from the torment of Hell. They said: We seek refuge with Allah from the torment of Hell. He said: Seek refuge with Allah from the torment of the grave. They said: We seek refuge with Allali from the torment of the grave. He said: Seek refuge with Allah from turmoil, its visible and invisible (aspects), and they said: We seek refuge with Allah from turmoil and its visible and invisible aspects and he said: Seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal, and they said We seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5113

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا عذاب سنا دے۔

Anas reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: If you were not (to abandon) the burying of the dead (in the grave), I would have certainly supplicated Allah that He should make you listen the torment of the grave.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5114

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْبَرَائِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابی محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عون بن ابی جحیفہ زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ابن بشار یحیی قطان زہیر یحیی براء، حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہوجانے کے بعد باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آواز سنی تو آپ نے فرمایا یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Ayyub through some other chains of transmitters (and the words are):" Allah's Messenger (may peace be upon him) went out after the sun had set and he heard some sound and said: It is the Jews who are being tormented in their graves.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5115

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّی عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ قَالَ يَأْتِيهِ مَلَکَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا کُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ قَالَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَی مَقْعَدِکَ مِنْ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَکَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنْ الْجَنَّةِ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ قَتَادَةُ وَذُکِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَی يَوْمِ يُبْعَثُونَ

عبد بن حمید یونس بن محمد بن شیبان عبدالرحمن قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر واپس چلے آتے ہیں تو وہ مردہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے آپ نے فرمایا اس مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس مردے کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ تو اس آدمی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتا ہے اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے دوزخ والے ٹھکانے کو دیکھ اس کے بدلے میں اللہ نے تجھے جنت میں ٹھکانہ دیا ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مردہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے یہ بات کر دی گئی کہ اس مومن کی قبر میں ستر ہاتھ کشادگی کر دی جاتی ہے اور قیامت کے دن تک کے لئے اس کی قبر کو راحت و آرام سے بھر دیا جاتا ہے۔

Anas b. Malik reported Allah's Apostle (may peace be upon him) having said: When the servant is placed in his grave and his companions retrace their steps arid he hears the noise of the footsteps, then two angels come to him and make him sit and say to him: What you have to say about this person (the Holy Prophet)? If he is d believer, lie would say: I bear testimony to the fact that he is a servant of Allali and His Messenger. Then it would be said to him: Look to your seat in the Hell- Fire, for Allah has substituted (the seat of yours) with a seat in Paradise. Allah's Messenger (may peace be upon him) said: He would be shown both the seats. Qatada said: It was mentioned to us that his grave (the grave of a believer) expands to seventy cubits and is full with verdure until the Day when they would be resurrected.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5116

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا

محمد بن منہال ضریر یزید بن زریع سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میت کو جب اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے جب واپس جاتے ہیں تو یہ مردہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔

Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: When the dead body. is placed in the grave, he listens to the sound of the shoes (as his friends and relatives return after burying him).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232718)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّی عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ

عمر بن زرارہ عبد الوہاب ابن عطاء، سعید قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندے کو اس کی اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر واپس ہوتے ہیں پھر شیبان عن قتادہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (may peace be upon him) said: When the servant is placed in his grave and his friends retrace their steps. The rest of the liadith is the same as transmitted by Qatada.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5117

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ فَيُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّکَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ

محمد بن بشار، ابن عثمان عبدی محمد بن جعفر، شعبہ، علقمہ بن مرثد سعید بن عبیدہ حضرت برا بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آیت کریمہ (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ) 14۔ ابراہیم : 27) قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے مردے سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اللہ عزوجل کے فرمان یثبت کا یہ معنی ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دنیا وآخرت کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے کہ جو قول ثابت کے ساتھ ایمان لائے۔

Al-Bara' b. 'Azib reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: This verse:" Allah grants steadfastness to those who believe with firm word," was rereaied in connection with the torment of the grave. It would be said to him: Who is your Lord? And he would say: Allah is my Lord and Muhammad is my Apostle (may peace be upon him), and that is (what is implied) by the words of Allah, the Exalted:" Allah keeps steadfast those who believe with firm word in this world and in the Hereafter."

Permalink

Sahih MuslimHadith 5118

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابوبکر بن نافع ، عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، خیثمہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ یثبت اللہ الذین قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Al-Bara' b. 'Azib reported that this verse:" Allah keeps steadfast those who believe with firm word in th;s world and the Hereafter," was revealed in con- nection with the torment of the grave.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5119

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَکَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکِ وَعَلَی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَی رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَکَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَکَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً کَانَتْ عَلَيْهِ عَلَی أَنْفِهِ هَکَذَا

عبیداللہ بن عمر قواریری حماد بن زید بدیل عبداللہ بن شقیق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے سجن کی طرف لے چلو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لییے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا)۔

Abu Huraira reported: When the soul of a believer would go out (of his body) it would be received bv two angels who would take it to the sky. Hammad (one of the narrators in the chain of transmitters) mentioned the swetness of its odour, (and further said) that the dwellers of the sky say: Here comes the pious soul from the side of the earth Let there be blessings of Allah upon the body in which it resides. And it is carried (by the angels) to its Lord, the Exalted and Glorious. He would say: Take it to its destined end. And if he is a nonbeliever and as it (the soul) leaves the body-Hammad made a mention of its foul smell and of its being cursed-the dwellers of the sky say: There comes a dirty soul from the side of the earth, and it would be said: Take it to its destined end. Abu Huraira reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) put a thin cloth which was with him upon his nose while making a mention (of the foul smell) of the soul of a non-believer.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5120

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ کُنْتُ مَعَ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَائَيْنَا الْهِلَالَ وَکُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ أَمَا تَرَاهُ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَی فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَهَی إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا

اسحاق بن عمر بن سلیط ہذلی سلیمان بن مغیرہ ثابت انس، عمر شیبان بن فروخ سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے تو ہم سب چاند دیکھنے لگے میری نظر ذرا تیز تھی تو میں نے چاند دیکھ لیا میرے علاوہ ان میں سے کسی نے چاند نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے یہ کہا کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاند دکھائی نہیں دے رہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں عنقریب چاند دیکھوں گا اور میں اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا کہ انہوں نے ہم سے بدر والوں کا واقعہ بیان کرنا شروع کردیا اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنگ بدر سے ایک دن پہلے بدر والوں کے ٹھکانے دکھانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ اگر اللہ نے چاہا تو کل فلاں اس جگہ گرے گا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ لوگ اس حد سے نہ ہٹے کہ جو حد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر وہ سب ایک کنوئیں میں ایک دوسرے پر گرا دیئے گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ ان کی طرف آ گئے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے وہ کچھ پا لیا ہے کہ جس کا تم سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے جان جسموں سے کیسے بات فرما رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ان سے زیادہ میری بات سننے والے نہیں ہو سوائے اس کے کہ یہ مجھے کچھ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔

Anas b. Malik reported: We were along with Umar between Mecca and Medina that we began to look for the new moon. And I was a man with sharp eye- sight, so I could see it, but none except me saw it. I began to say to 'Umar: Don't you see it? But he would not see it. Thereupon Umar said: I would soon be able to see it (when it will shine more brightly). I lay upon bed. He then made a mention of the people of Badr to us and said: Allah's Messenger (may peace be upon him) showed us one day before (the actual battle) the place of death of the people (participating) in (the Battle) of Badr and he was saying: This would be the place of death of so and so tomorrow, if Allah wills. Umar said: By Him Who sent him with truth, they did not miss the places (of their death) which Allah's Messenger (may peace be upon him) had pointed for them. Then they were all thrown in a well one after another. Allah's Messenger (may peace be upon him) then went to them and said: O, so and so, the son of so and so; O so and so, the son of so and so, have you found correct what Allah and His Messenger had promised you? I have, however, found absolutely true what Allah had promised with me. Umar said: Allah's Messenger, how are you talking with the bodies without soul in them. Thereupon he said: You cannot hear more distinctly than (their hearing) of what I say, but with this exception that they have not power to make any reply.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5121

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ قَتْلَی بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّی يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَکِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ

ہداب بن خالد حماد بن سلمہ ثابت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے بدر کے مقتولین کو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں آواز دی اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام اے امیہ بن خلف اے عقبہ بن ربیعہ اے شیبہ بن ربیعہ کیا تم نے وہ کچھ نہیں پالیا کہ جس کا تم سے تمہارے رب نے سچا وعدہ کیا تھا میں نے تو وہ کچھ پالیا ہے کہ جس کا میرے رب نے مجھ سے سچا وعدہ کیا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا سنا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ کیسے سن سکتے ہیں اور کیسے جواب دے سکتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن یہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں ڈال دو تو انہیں ڈال دیا گیا۔

Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) let the dead bodies of the unbelievers who fought in Badr (lie unburied) for three days. He then came to them and sat by their side and called them and said: O Abu Jahl b. Hisham, O Umayya b. Khalaf, O Utba b. Rab'ila, O Shaiba b. Rabi'a, have you not found what your Lord had promised with you to be correct? As for me, I have found the promises of my Lord to be (perfectly) correct. Umar listened to the words of Allah's Apostle (may peace be upon him) and said: Allah's Messenger, how do they listen and respond to you? They are dead and their bodies have decayed. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, what I am saying to them, even you cannot hear more distinctly than they, but they lack the power to reply. Then'he commanded that they should be buried in the well of Badr.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232724)

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ح و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ذَکَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا وَفِي حَدِيثِ رَوْحٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَائِ بَدْرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ

یوسف بن حماد عبدالاعلی سعید قتادہ، انس بن مالک، طلحہ محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت ابوطلحہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن ہوا اور اللہ کے نبی کو کافروں پر غلبہ ہوا تو آپ نے حکم فرمایا کہ کچھ اوپر تیس آدمی اور راوی کی روایت میں ہے کہ چوبیس قریشی سرداروں کو بدر کے کنوئیں میں سے ایک کنوئیں میں ڈال دو اور پھر باقی روایت مذکورہ روایت ثابت عن انس کی طرح ہے۔

Aba Talha reported: When it was the Day of Badr and Allah's Apostle (may peace be upon him) had gained victory over them (the Meccans), he commanded more than twenty persons, and in another hadith these are counted as twenty-four persons, from the non-believers of the Quraish to be thrown into the well of Badr. The rest of the hadith is the same.

Permalink