TrueHadith

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 158

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّی فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید، اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اس ہتھیار سے اپنے پیٹ کو زخمی کرتا رہے گا، ہمشیہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہے گا اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ اسے چوستا رہے گا اور دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر قتل کیا تو وہ پہاڑ سے یوں ہی گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہے گا۔

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace be upon him) observed: He who killed himself with steel (weapon) would be the eternal denizen of the Fire of Hell and he would have that weapon in his hand and would be thrusting that in his stomach for ever and ever, he who drank poison and killed himself would sip that in the Fire of Hell where he is doomed for ever and ever; and he who killed himself by falling from (the top of) a mountain would constantly fall in the Fire of Hell and would live there for ever and ever.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210301)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ذَکْوَانَ

زہیر بن حرب، جریر، سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، ابن قاسم، یحیی بن حبیب، حارثی، خالد بن حارث، شعبہ ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 159

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَهُوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْئٍ لَا يَمْلِکُهُ

یحیی بن یحیی، ابومعاویہ ابن سلام، یحیی بن ابی کثیر، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک، رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے غزوہ حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیعت کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی اسلام کے علاوہ دوسری ملت پر جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو جائے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا تو قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا اور اگر کسی آدمی نے غیر مملوکہ چیز کی منت مانی تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔

Thabit b. Dahhak reported that he pledged allegiance to the Messenger of Allah (may peace be upon him) under the Tree, and verily the Messenger of Allah (may peace be upon him) observed: He who took an oath of a religion other than Islam, in the state of being a liar, would became so, as he professed. He who killed himself with a thing would be tormented on the Day of Resurrection with that very thing. One is not obliged to offer votive offering of a thing which is not in his possession.

Permalink

Sahih MuslimHadith 160

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِکُ وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ ادَّعَی دَعْوَی کَاذِبَةً لِيَتَکَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً وَمَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ فَاجِرَةٍ

ابوغسان، معاذ ابن ہشام، یحیی ابن ابی کثیر، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی پر ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے جس کا وہ مالک نہ ہو اور مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے اپنے آپ کو دینا میں کسی چیز سے قتل کر ڈالا قیامت کے دن وہ اسی سے عذاب دیا جائے گا اور جس نے اپنے مال میں زیادتی کی خاطر جھوٹا دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا مال اور کم کر دے گا اور یہی حال اس آدمی کا ہوگا جو حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائے گا۔

Thabit b. Dahhak reported that he pledged allegiance to the Messenger of Allah (may peace be upon him) under the Tree, and verily the Messenger of Allah (may peace be upon him) observed: He who took an oath of a religion other than Islam, in the state of being a liar, would became so, as he professed. He who killed himself with a thing would be tormented on the Day of Resurrection with that very thing. One is not obliged to offer votive offering of a thing which is not in his possession.

Permalink

Sahih MuslimHadith 161

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ کُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ الثَّوْرِيِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَهْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، عبدالوارث بن عبدالصمد، عبدالصمد بن عبدالوارث، شعبہ، ایوب، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک انصاری، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ثوری، خالد حذاء، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک، رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنی قسم کے مطابق ہوگا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دیں گے جس چیز سے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا سفیان کی روایت یہی ہے اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے کہنے کے مطابق ہوگا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کیا تو قیامت کے دن وہ اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا۔

It is narrated on the authority of Thabit b. al-Dahhak that the Apostle of Allah (may peace be upon him) observes: None is obliged to give votive offering (of a thing) which is not in his possession and the cursing of a believer is tantamount to killing him, and he who killed himself with a thing in this world would be tormented with that (very thing) on the Day of Resurrection, and he who made a false claim to increase (his wealth), Allah would make no addition but that of paucity, and he who perjured would earn the wrath of God

Permalink

Sahih MuslimHadith 162

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَی بِالْإِسْلَامِ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی النَّارِ فَکَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلَکِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا فَلَمَّا کَانَ مِنْ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَی الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَی فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ

محمد بن رافع، عبد ابن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن المسیب، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم غزؤہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں جو اسلام کا دعوی کرتا تھا فرمایا کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے پھر جب جنگ شروع ہوئی تو وہ آدمی بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور زخمی ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس آدمی کے بارے میں فرما رہے تھے کہ یہ دوزخی ہے اس نے تو آج خوب بہادری سے لڑائی کی ہے اور مرچکا ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ دوزخ میں گیا بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے فرمان کی تہہ تک نہ پہنچ سکے اسی دوران اس کے ابھی نہ مرنے بلکہ شدید زخمی ہونے کی اطلاع ملی پھر جب رات ہوئی تو وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کر سکا تو اس نے اپنے آپ کو قتل کر ڈالا آپ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ اللہ سب سے بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں آواز لگادیں کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس دین کی برے آدمی کے ذریعے بھی مدد کرا دیتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Huraira: We participated in the Battle of Hunain along with the Messenger of Allah (may peace be upon him). He (the Holy Prophet) said about a man who claimed to be a Muslim that he was one of the denizens of the Fire (of Hell). When we were in the thick of the battle that man fought desperately and was wounded. It was said: Messenger of Allah, the person whom you at first called as the denizen of Fire fought desperately and died. Upon this the Apostle of Allah (may peace be upon him) remarked: He was doomed to the Fire (of Hell). Some men were on the verge of doubt (about his fate) when it was said that he was not dead but fatally wounded. When it was night he could not stand the (pain of his) wound and killed himself. The Apostle (may peace be upon him) was informed of that. He (the Holy Prophet) observed: Allah is Great, I bear testimony to the fact that I am the servant of Allah and His messenger. He then commanded Bilal to announce to the people that none but a Muslim would enter Paradise. Verily Allah helps this faith even by a sinful person.

Permalink

Sahih MuslimHadith 163

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ حَيٌّ مِنْ الْعَرَبِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَی هُوَ وَالْمُشْرِکُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَسْکَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَی عَسْکَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ فَقَالُوا مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ کَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ کُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَی سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَکَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِکَ فَقُلْتُ أَنَا لَکُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ حَتَّی جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ إِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابوحازم ، سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکوں کا ایک غزوہ میں آمنا سامنا ہوا اور نوبت سخت کشت و خون تک پہنچ گئی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لشکر کی طرف تشریف لے گئے اور مشرکین اپنے لشکر کی طرف چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک آدمی ایسا تھا کہ وہ اکا دکا کافر کو نہیں چھوڑتا تھا بلکہ اس کا پیچھا کرکے تلوار سے اسے اڑا دیتا تھا صحابہ کرام یہ کہنے لگے کہ اس آدمی کی طرح آج ہمارے کوئی کام نہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ایک نے کہا کہ میں مستقل اس کے ساتھ رہوں گا پھر وہ صحابی اس کے ساتھ رہے جہاں ٹھہرتا اس کے ساتھ ٹھہرتے اور جب وہ تیزی کے ساتھ چلتا تو یہ بھی تیزی کے ساتھ چلتے حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ سخت زخمی ہوگیا اس نے زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے جلد موت کو گلے سے لگا لینا چاہا تو تلوار کا دستہ زمین پر رکھ کا اس کی نوک دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی پھر اس پر زور دے کر خود کو قتل کر ڈالا تب وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کے بارے میں دوزخی ہونے کے متعلق فرمایا تھا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تھا اور میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ میں تمہاری خاطر اس کی خبر رکھوں گا پھر میں اس کی جستجو میں نکلا وہ آدمی بالآخر سخت زخمی ہوا اور مرنے کی جلدی میں اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھ کو اس کی نوک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھ کر زور دے کر خود کو مار ڈالا یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی لوگوں کی نظر میں جنتیوں والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی لوگوں کی نظر میں دوزخ والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ بالآخر جنتی ہوتا ہے۔

It is reported on the authority of Sahl b. Sa'd al-Sa'idi that there was an encounter between the Messenger of Allah (may peace be upon him) and the polytheists, and they fought (against one another). At the conclusion of the battle the Messenger of Allah (may peace be upon him) bent his steps towards his army and they (the enemies) bent their steps towards their army. And there was a person (his name was Quzman and he was one of the hypocrites) among the Companions of the Messenger of Allah (may peace be upon him) who did not spare a detached (fighter of the enemy) but pursued and killed him with the sword. They (the Companions of the Holy Prophet) said: None served us better today than this man Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him) remarked: Verily he is one of the denizens of Fire. One of the people (Muslims) said: I will constantly shadow him. Then this man went out along with him. He halted whenever he halted, and ran along with him whenever he ran. He (the narrator) said: The man was seriously injured. He (could not stand the pain) and hastened his own death. He placed the blade of the sword on the ground with the tip between his chest and then pressed himself against the sword and killed himself. Then the man (following him) went to the Messenger of Allah (may peace be upon him) and said: I bear testimony that verily thou art the Messenger of Allah, He (the Holy Prophet) said: What is the matter? He replied: The person about whom you just mentioned that he was one among the denizens of Fire and the people were surprised (at this) and I said to them that I would bring (the news about him) and consequently I went out in search of him till I (found him ) to be very seriously injured. He hastened his death. He placed the blade of the sword upon the ground and its tip between his chest and then pressed himself against that and killed himself. Thereupon the Messenger of Allah (may peace be upon him) remarked: A person performs the deeds which to the people appear to be the deeds befitting the dweller of Paradise, but he is in fact one of the denizens of Hell. And verily a person does an act which in the eyes of public is one which is done by the denizens of Hell, but the person is one among the dwellers of Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith 164

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُا إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ کِنَانَتِهِ فَنَکَأَهَا فَلَمْ يَرْقَأْ الدَّمُ حَتَّی مَاتَ قَالَ رَبُّکُمْ قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ

محمد بن رافع، زبیر ی، محمد بن عبد اللہ، ابن زبیر، شیبان، کہتے ہیں میں نے حضرت حسن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو پھوڑا نکلا پھر جب اسے سخت تکلیف ہوئی تو اس نے ترکش سے تیر نکال کر اس سے پھوڑا چیر دیا اور خون بند نہ ہونے کہ وجہ سے وہ آدمی مر گیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی پھر حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف دراز کر کے فرمایا اللہ کی قسم یہ حدیث جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اسی مسجد میں مجھ سے بیان فرمائی۔

It is reported on the authority of Hasan: A person belonging to the people of the past suffered from a boil, when it pained him, he drew out an arrow from the quiver and pierced it. And the bleeding did not stop till he died. Your Lord said: I forbade his entrance into Paradise. Then he (Hasan) stretched his hand towards the mosque and said: By God, Jundab transmitted this hadith to me from the Messenger of Allah (may peace be upon him) in this very mosque.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1210308)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِينَا وَمَا نَخْشَی أَنْ يَکُونَ جُنْدَبٌ کَذَبَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِرَجُلٍ فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ خُرَاجٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

محمد بن ابوبکر مقدمی، وہب بن جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم سے حضرت جندب بن عبداللہ البجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم نہ بھولے اور نہ ہی ڈر ہے کہ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس کو غلط منسوب کیا ہو حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کے پھوڑا نکلا تھا پھر اسی حدیث کے مطابق ذکر فرمایا۔

It is reported on the authority of Hasan: Jundab b. 'Abdullah al-Bajali narrated this hadith in this mosque which we can neither forget and at the same time we have no apprehension that Jundab could attribute a lie to the Messenger of Allah (may peace be upon him). He (the Holy Prophet) observed: A person belonging to the people of the past suffered from a boil, and then the rest of the hadith was narrated.

Permalink