TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں ۔

Sahih MuslimHadith 4291

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الْغَدَاةَ جَائَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَائُ فَمَا يُؤْتَی بِإِنَائٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَائُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا

مجاہد بن موسیٰ ابوبکر بن نضر بن ابی نضر ہارون بن عبداللہ ابی نضر ابوبکر ابونضر ہاشم بن قاسم سلیمان بن مغیرہ ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو مدینہ منورہ کے خادم اپنے برتنوں میں پانی لے کر آتے پھر جو برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے اور اکثر اوقات سخت سردی کے موسم میں بھی یہ اتفاقات پیش آجاتے تو پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔

Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger (may peace be upon him) had completed his dawn prayer, the servants of Medina came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4292

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ

محمد بن رافع ابونضر سلیمان ثابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حجامت بنا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام آپ کے اردگرد تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بال مبارک نیچے گرے بلکہ کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بال گرے۔

Anas reported: I saw when the Messenger of Allah (may peace be upon him) got his hair cut by the barber, his Companions came round him and they eagerly wanted that no hair should fall but in the hand of a person.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4293

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً کَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْئٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْکَ حَاجَةً فَقَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّکَکِ شِئْتِ حَتَّی أَقْضِيَ لَکِ حَاجَتَکِ فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّی فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت بن انس، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا وہ عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کام ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام فلاں تو جس جگہ چاہتی ہے ٹھہر لے میں تیراکام کر دوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راستہ میں اس عورت سے علیحدگی میں بات کی یہاں تک کہ وہ اپنے کام سے فارغ ہو گئی۔

Anas reported that a woman had a partial derangement in her mind, so she said: "Allah's Messenger, I want something from you." He said: Mother of so and so, see on which side of the road you would like (to stand and talk) so that I may do the needful for you. He stood aside with her on the roadside until she got what she needed.

Permalink