TrueHadith

اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔

Sahih MuslimHadith 4345

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ فَبَلَغَ ذَلِکَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَکَأَنَّهُمْ کَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَکَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً

زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابن ضحی مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت رکھی تو یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ لوگوں تک پہنچی تو ان لوگوں نے اسے ناپسند سمجھا اور اس سے پرہیز کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو پھر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ جن کو یہ بات پہنچی ہے کہ میں نے ایک کام کرنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ اسے ناپسند سمجھ رہے ہیں اور اس سے پرہیز کر رہے ہیں اللہ کی قسم میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور میں ہی اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔

Abu Musa Ash'ari reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad, Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet of repentance, and the Prophet of Mercy.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1231610)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ

ابوسعید اشج حفص ابن عیاث اسحاق بن ابراہیم، علی بن حشرم عیسیٰ بن یونس، اعمش حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of A'mash through a different chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4346

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّی بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً

ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے کرنے کے بارے میں اجازت عطا فرمائی تو لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے بچنے لگے جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام کے کرنے کی میں اجازت دی ہے اور وہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اللہ کی قسم میں سب سے زیادہ اللہ کو جانتا ہوں اور میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔

'A'isha reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) granted permission for doing a thing, but some persons amongst the people avoided it. This was conveyed to Allah's Apostle (may peace be upon him), and he was so much annoyed that the sign of his anger appeared on his face. He then said: What has happened to the people that they avoid that for which permission has been granted to me? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and fear Him most amongst them.

Permalink