TrueHadith

زکوٰۃ میں اسباب لینے کا بیان، اور طاو

Sahih BukhariHadith 1356

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَتَبَ لَهُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَی وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْئٌ

محمد بن عبداللہ ، عبداللہ (بن مثنی) ثمامہ، حضرت انس نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھ بھیجا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فرض کیا ہے۔ اس میں یہ بھی تھا کہ اور جس شخص پر بنت مخاض ایک سال کی اونٹنی واجب ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون (دو سال کی اونٹنی) ہو تو وہ اس سے لی جائے، اور زکوۃ وصول کرنے والا اس کو بیس درہم یا دو بکریاں دے گا اور اگر اس کے پاس اس قیمت کی بنت مخاض نہیں بلکہ بنت لبون ہو تو وہ اس سے لے لیا جائے گا اور اس کے بدلے کچھ نہیں دیا جائے گا۔

Narrated Anas: Abu Bakr wrote to me what Allah had instructed His Apostle (p.b.u.h) to do regarding the one who had to pay one Bint Makhad (i.e. one year-old she-camel) as Zakat, and he did not have it but had got Bint Labun (two year old she-camel). (He wrote that) it could be accepted from him as Zakat, and the collector of Zakat would return him 20 Dirhams or two sheep; and if the Zakat payer had not a Bint Makhad, but he had Ibn Labun (a two year old he-camel) then it could be accepted as his Zakat, but he would not be paid anything .

Permalink

Sahih BukhariHadith 1357

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَشْهَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَرَأَی أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَائَ فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَی أُذُنِهِ وَإِلَی حَلْقِهِ

مومل، اسماعیل، ایوب، عطاء بن ابی رباح سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز (عید) پڑھی پھر آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کی اپنی آواز نہیں سنا سکے ہیں۔ تو آپ ان عورتوں کے پاس آئے اور بلال بھی اپنے کپڑے پھیلائے ہوئے ساتھ تھے، آپ نے ان کو نصیحت کی اور حکم دیا کہ صدقہ کریں چنانچہ عورتوں نے یہ چیزیں پھینکنا شروع کیں، ایوب نے اپنے کانوں اور حلق کی طرف اشارہ کیا۔

Narrated Ibn Abbas : I am a witness that Allah's Apostle offered the Id prayer before delivering the sermon and then he thought that the women would not be able to hear him (because of the distance), so he went to them along with Bilal who was spreading his garment. The Prophet advised and ordered them to give in charity. So the women started giving their ornaments (in charity). (The sub-narrator Aiyub pointed towards his ears and neck meaning that they gave ornaments from those places such as ear-rings and necklaces.) ________________________________________

Permalink