TrueHadith

وصیتوں کا بیان اور آنحضرت صلعم کا ارشاد گرامی کہ وصیت کرنے والے کا وصیت نامہ لکھا ہوا ہونا چاہیے، اور فرمان الٰہی کہ جب تم میں سے کوئی شخص مرنے لگے اور مال چھورے، تو والدین اور رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق تم پر وصیت فرض ہے، نیز پرہیز گاروں کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے، جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے اور جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا طرفداری کا ڈر رکھتا ہو، اور ان کے درمیان صلح کرادے تو ان پر گناہ نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے، جنف سے مراد ہے، جھک جانا، متجانف (جھکنے والا) اسی سے ہے۔

Sahih BukhariHadith 2533

Narrated by Abdullah bin Umar

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَکْتُوبَةٌ عِنْدَهُ تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن یوسف، مالک نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو جس کے پاس وصیت کے لائق کچھ مال ہو، یہ جائز نہیں کہ دو شب بھی بغیر اس کے رہے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو، امام مالک کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن مسلم نے بھی عمرو بن دینار سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا۔

Narrated Abdullah bin Umar: Allah's Apostle said, "It is not permissible for any Muslim who has something to will to stay for two nights without having his last will and testament written and kept ready with him."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2534

Narrated by Amr bin Al-Harith

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلَا دِينَارًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَائَ وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً

ابراہم بن حارث، یحیی بن ابی بکر، زہیر بن معاویہ جعفی، ابواسحاق عمرو بن حارث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسبتی بھائی، یعنی ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت جویریہ بنت حارث کے بھائی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی درہم چھوڑا اور نہ کوئی غلام، نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی چیز، سوائے اپنے سفید خچر اور اسلحہ اور ایک زمین کے، جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کردیا تھا۔

Narrated Amr bin Al-Harith: (The brother of the wife of Allah's Apostle. Juwaira bint Al-Harith) When Allah's Apostle died, he did not leave any Dirham or Dinar (i.e. money), a slave or a slave woman or anything else except his white mule, his arms and a piece of land which he had given in charity .

Permalink

Sahih BukhariHadith 2535

Narrated by Talha bin Musarrif

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا هَلْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَی فَقَالَ لَا فَقُلْتُ کَيْفَ کُتِبَ عَلَی النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَی بِکِتَابِ اللَّهِ

خلاد بن یحیی ، مالک طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ وصیت کی تھی، انہوں نے کہا، نہیں! میں نے کہا، پھر کیوں کر لوگوں پر وصیت فرض کی گئی، یا انہیں وصیت کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن شریف پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔

Narrated Talha bin Musarrif: I asked 'Abdullah bin Abu Aufa "Did the Prophet make a will?" He replied, "No," I asked him, "How is it then that the making of a will has been enjoined on people, (or that they are ordered to make a will)?" He replied, "The Prophet bequeathed Allah's Book (i.e. Quran)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2536

Narrated by Al-Aswad

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ ذَکَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ وَقَدْ کُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَی صَدْرِي أَوْ قَالَتْ حَجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَمَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ

عمر بن زرارہ، اسماعیل، ابن عون، ابراہیم، اسود سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰعنہا کے سامنے لوگوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی حضرت علی تھے جس پر انہوں نے کہا کہ آپ نے کب انہیں وصیت کی؟ میں تو آنحضرت کو اپنے سینے سے یا اپنی گود سے تکیہ لگائے ہوئے تھی، آپ نے پانی کا طشت مانگا اور میری گود میں جھک گئے مجھے معلوم بھی نہیں ہوا، کہ آپ کی وفات ہوگئی بتاؤ آپ نے انہیں وصیت کب کی؟

Narrated Al-Aswad: In the presence of 'Aisha some people mentioned that the Prophet had appointed 'Ali by will as his successor. 'Aisha said, "When did he appoint him by will? Verily when he died he was resting against my chest (or said: in my lap) and he asked for a wash-basin and then collapsed while in that state, and I could not even perceive that he had died, so when did he appoint him by will?"

Permalink