Narrated by Anas
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ شُفِّعْتُ فَقُلْتُ يَا رَبِّ أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ فَيَدْخُلُونَ ثُمَّ أَقُولُ أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَی شَيْئٍ فَقَالَ أَنَسٌ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یوسف بن راشد، احمد بن عبداللہ ، ابوبن عیاش، حمید، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا کہ اے پروردگار اس شخص کو بخش دے جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو چنانچہ وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے پھر میں عرض کروں گا اس شخص کو جنت میں داخل کر دے جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں گویا رسول اللہ کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں (جن سے اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا) ۔
Narrated Anas: I heard the Prophet saying, "On the Day of Resurrection I will intercede and say, "O my Lord! Admit into Paradise (even) those who have faith equal to a mustard seed in their hearts." Such people will enter Paradise, and then I will say, 'O (Allah) admit into Paradise (even) those who have the least amount of faith in their hearts." Anas then said: As if I were just now looking at the fingers of Allah's Apostle.
Narrated by Ma'bad bin Hilal Al'Anzi
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ قَالَ اجْتَمَعْنَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَذَهَبْنَا إِلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَذَهَبْنَا مَعَنَا بِثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ لَنَا عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ فَإِذَا هُوَ فِي قَصْرِهِ فَوَافَقْنَاهُ يُصَلِّي الضُّحَی فَاسْتَأْذَنَّا فَأَذِنَ لَنَا وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَی فِرَاشِهِ فَقُلْنَا لِثَابِتٍ لَا تَسْأَلْهُ عَنْ شَيْئٍ أَوَّلَ مِنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ فَقَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَؤُلَائِ إِخْوَانُکَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ جَائُوکَ يَسْأَلُونَکَ عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ فَقَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُوسَی فَإِنَّهُ کَلِيمُ اللَّهِ فَيَأْتُونَ مُوسَی فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِعِيسَی فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَکَلِمَتُهُ فَيَأْتُونَ عِيسَی فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَقُولُ أَنَا لَهَا فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَی أَدْنَی أَدْنَی مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ أَنَسٍ قُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِنَا لَوْ مَرَرْنَا بِالْحَسَنِ وَهُوَ مُتَوَارٍ فِي مَنْزِلِ أَبِي خَلِيفَةَ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَأَذِنَ لَنَا فَقُلْنَا لَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ جِئْنَاکَ مِنْ عِنْدِ أَخِيکَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَلَمْ نَرَ مِثْلَ مَا حَدَّثَنَا فِي الشَّفَاعَةِ فَقَالَ هِيهْ فَحَدَّثْنَاهُ بِالْحَدِيثِ فَانْتَهَی إِلَی هَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ هِيهْ فَقُلْنَا لَمْ يَزِدْ لَنَا عَلَی هَذَا فَقَالَ لَقَدْ حَدَّثَنِي وَهُوَ جَمِيعٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ کَرِهَ أَنْ تَتَّکِلُوا قُلْنَا يَا أَبَا سَعِيدٍ فَحَدِّثْنَا فَضَحِکَ وَقَالَ خُلِقَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا مَا ذَکَرْتُهُ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ حَدَّثَنِي کَمَا حَدَّثَکُمْ بِهِ قَالَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَقُولُ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَکِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، معبد بن ہلا ل، عنزی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ہم بصرہ کے کئی آدمی ایک جگہ جمع ہوئے اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک کے پاس گئے، اپنے ساتھ ثابت بنانی کو بھی لے چلے تاکہ وہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہمارے لئے شفاعت کی حدیث کے متعلق پوچھیں۔ اس وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے محل میں تھے ہم نے داخل ہونے کی اجازت چاہی، انہوں نے اجازت دی، اسوقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے ثابت سے کہا کہ ان سے شفاعت کی حدیث سے پہلے کوئی چیز نہ پوچھنا، چنانچہ ثابت نے کہا اے ابوحمزہ! یہ تمہارے بھائی بصرہ والے ہیں اور تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ تم سے شفاعت کی حدیث پوچھیں، انہوں نے کہا ہم سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ (دریا کی طرح) موج ماریں گے (بے قرار ہوں گے) تو یہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اپنے پروردگار کے پاس ہماری شفاعت کیجئے وہ کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں، لیکن تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کے خلیل ہیں پھر یہ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے کلیم ہیں لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے وہ جواب دیں گے کہ میں اسکا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے میں اس کا اہل نہیں ہوں، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، لوگ میرے پاس آئیں تو میں کہوں گا میں اس کا اہل ہوں، میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اجازت ملے گی اور اللہ میرے دل میں ایسے کلمات ڈال دے گا جو اب مجھے یاد نہیں اور میں ان ہی کلمات سے اس کی حمد بیان کروں گا اور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ کہے گا اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول ہو گی، میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت، میری امت، حکم ہوگا کہ جس کے دل میں ایک جو برابر بھی ایمان ہو اسکو دوزخ سے نکال لو، چنانچہ میں جاؤں گا اور یہ کروں گا پھر لوٹ کر آؤں گا اور ان ہی کلمات سے اس کی حمد بیان کروں گا اور سجدے میں گر جاؤں گا تو کہا جائے گا اے محمد سر اٹھاؤ اور کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا اور شفاعت کرو قبول ہوگی میں عرض کروں گا، اے رب! میری امت، میری امت، تو کہا جائے گا کہ جاؤ اور دوزخ میں سے اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں ذرہ یا رائی کے برابر ایمان ہو، میں جاؤں گا ایسا ہی کروں گا پھر لوٹ کر آؤں گا اور ان ہی کلمات سے اس کی حمد بیان کروں گا پھر میں سجدے میں گر جاؤں گا تو کہا جائے گا اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول ہوگی میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور اس شخص کو دوزخ سے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانہ سے بھی کم ایمان ہو، میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا سعید کا بیان ہے کہ جب ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ کاش ہم لوگ حسن (بصری) کے پاس چلتے جو اس وقت ابوخلیفہ کے مکان میں چھپے ہوئے تھے اور ان سے وہ حدیث بیان کرتے جو ہم سے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی ہے چنانچہ ہم لوگ ان کے پاس آئے، انہیں سلام کیا، انہوں نے اندر آنے کی اجازت دی، ہم نے کہا کہ اے ابوسعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک کے پاس سے آئے ہیں، شفاعت کے متعلق جیسی حدیث انہوں نے بیان کی ہم نے ویسی نہیں سنی، انہوں نے بیان کی، جب اس آخری مقام پر پہنچے تو انہوں نے کہا اور بیان کرو ہم نے کہا اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کیا انہوں نے کہا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جبکہ وہ ہوش و حو اس میں تھے بیس سال کا عرصہ ہوا مجھ سے یہ حدیث بیان کی میں نہیں جانتا کہ وہ بھول گئے یا اس لئے اس کے ذکر کو ناپسند کیا کہ لوگ بھروسہ کر بیٹھیں اور عمل چھوڑ دیں، ہم نے کہا اے ابوسعید! ہم سے بیان کیجئے تو وہ ہنسے اور کہا سچ ہے انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے، میں تم سے وہ حدیث بیان کردوں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جس طرح تم سے بیان کیا پھر کہا کہ آپ نے فرمایا میں چوتھی بار لوٹ کر آؤں گا اور ان ہی کلمات سے اس کی حمد بیان کروں گا پھر سجدہ میں گر جاؤں گا تو اللہ کہے گا کہ محمد سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول ہو گی، میں عرض کروں گا اے رب مجھے ان لوگوں کی اجازت دے جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ قسم ہے میری عزت و جلال کی اور عظمت و کبریائی کی کہ میں دوزخ سے اسکو نکال دونگا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو۔
Narrated Ma'bad bin Hilal Al'Anzi: We, i.e., some people from Basra gathered and went to Anas bin Malik, and we went in company with Thabit Al-Bunnani so that he might ask him about the Hadith of Intercession on our behalf. Behold, Anas was in his palace, and our arrival coincided with his Duha prayer. We asked permission to enter and he admitted us while he was sitting on his bed. We said to Thabit, "Do not ask him about anything else first but the Hadith of Intercession." He said, "O Abu Hamza! There are your brethren from Basra coming to ask you about the Hadith of Intercession." Anas then said, "Muhammad talked to us saying, 'On the Day of Resurrection the people will surge with each other like waves, and then they will come to Adam and say, 'Please intercede for us with your Lord.' He will say, 'I am not fit for that but you'd better go to Abraham as he is the Khalil of the Beneficent.' They will go to Abraham and he will say, 'I am not fit for that, but you'd better go to Moses as he is the one to whom Allah spoke directly.' So they will go to Moses and he will say, 'I am not fit for that, but you'd better go to Jesus as he is a soul created by Allah and His Word.' (Be: And it was) they will go to Jesus and he will say, 'I am not fit for that, but you'd better go to Muhammad.' They would come to me and I would say, 'I am for that.' Then I will ask for my Lord's permission, and it will be given, and then He will inspire me to praise Him with such praises as I do not know now. So I will praise Him with those praises and will fall down, prostrate before Him. Then it will be said, 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for your will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will say, 'O Lord, my followers! My followers!' And then it will be said, 'Go and take out of Hell (Fire) all those who have faith in their hearts, equal to the weight of a barley grain.' I will go and do so and return to praise Him with the same praises, and fall down (prostrate) before Him. Then it will be said, 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to, and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will say, 'O Lord, my followers! My followers!' It will be said, 'Go and take out of it all those who have faith in their hearts equal to the weight of a small ant or a mustard seed.' I will go and do so and return to praise Him with the same praises, and fall down in prostration before Him. It will be said, 'O, Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to, and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will say, 'O Lord, my followers!' Then He will say, 'Go and take out (all those) in whose hearts there is faith even to the lightest, lightest mustard seed. (Take them) out of the Fire.' I will go and do so."' When we left Anas, I said to some of my companions, "Let's pass by Al-Hasan who is hiding himself in the house of Abi Khalifa and request him to tell us what Anas bin Malik has told us." So we went to him and we greeted him and he admitted us. We said to him, "O Abu Said! We came to you from your brother Anas Bin Malik and he related to us a Hadith about the intercession the like of which I have never heard." He said, "What is that?" Then we told him of the Hadith and said, "He stopped at this point (of the Hadith)." He said, "What then?" We said, "He did not add anything to that." He said, Anas related the Hadith to me twenty years ago when he was a young fellow. I don't know whether he forgot or if he did not like to let you depend on what he might have said." We said, "O Abu Said ! Let us know that." He smiled and said, "Man was created hasty. I did not mention that, but that I wanted to inform you of it. Anas told me the same as he told you and said that the Prophet added, 'I then return for a fourth time and praise Him similarly and prostrate before Him me the same as he 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for you will be granted (your request): and intercede, for your intercession will be accepted .' I will say, 'O Lord, allow me to intercede for whoever said, 'None has the right to be worshiped except Allah.' Then Allah will say, 'By my Power, and my Majesty, and by My Supremacy, and by My Greatness, I will take out of Hell (Fire) whoever said: 'None has the right to be worshipped except Allah.' ''
Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَبْوًا فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ ادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ رَبِّ الْجَنَّةُ مَلْأَی فَيَقُولُ لَهُ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَکُلُّ ذَلِکَ يُعِيدُ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ مَلْأَی فَيَقُولُ إِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْيَا عَشْرَ مِرَارٍ
محمد بن خالد، عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، منصور، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت میں، جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا اور دوزخ والوں میں دوزخ سے سب سے پیچھے نکلنے والا ایک آدمی ہوگا، جو گھسٹ کر نکلے گا اس کا پروردگار اس سے فرمائے گا کہ جنت میں داخل ہو جا، وہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار جنت تو بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین بار یہ فرمائے گا، اور ہربار وہ یہی جواب دے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تیرے لئے دنیا کی طرح دس گنا ہے۔
Narrated 'Abdullah: Allah's Apostle said, "The person who will be the last one to enter Paradise and the last to come out of Hell (Fire) will be a man who will come out crawling, and his Lord will say to him, 'Enter Paradise.' He will reply, 'O Lord, Paradise is full.' Allah will give him the same order thrice, and each time the man will give Him the same reply, i.e., 'Paradise is full.' Thereupon Allah will say (to him), 'Ten times of the world is for you.' "
Narrated by 'Adi bin Hatim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْکُمْ أَحَدٌ إِلَّا سَيُکَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَی إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَی إِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَی إِلَّا النَّارَ تِلْقَائَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ بِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
علی بن حجر، عیسیٰ بن یونس، اعمش، خثیمہ، عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر آدمی سے اس کا رب اس طرح کلام فرمائے گا کہ اس کے درمیان اور خدا کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا اور بائیں طرف دیکھے گا تو اس کو اپنے ہی نظر آئیں گے اور اپنے آ گے دیکھے گا تو جہنم نظر آئے گی، پس دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے عوض کیوں نہ ہو اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے خثیمہ کے واسطہ سے اسی طرح نقل کیا اور اس میں اتنا زیادہ ہے، اگرچہ اچھی بات ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔
Narrated 'Adi bin Hatim: Allah's Apostle said, "There will be none among you but his Lord will talk to him, and there will be no interpreter between him and Allah. He will look to his right and see nothing but his deeds which he has sent forward, and will look to his left and see nothing but his deeds which he has sent forward, and will look in front of him and see nothing but the (Hell) Fire facing him. So save yourself from the (Hell) Fire even with half a date (given in charity)." Al-A'mash said: 'Amr bin Murra said, Khaithama narrated the same and added, '..even with a good word.' "
Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ حَبْرٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ إِنَّهُ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَعَلَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْمَائَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَی إِصْبَعٍ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا وَتَصْدِيقًا لِقَوْلِهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِلَی قَوْلِهِ يُشْرِکُونَ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابراہیم، عبید ہ، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ یہود کا ایک عالم (آپ کے پاس) آیا اور کہا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمین کو ایک انگلی پر، اور پانی اور کیچڑ کو ایک انگلی پر اور دیگر تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا پھر ان کو ہلا کر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ اس بات کو پسند کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک کھل گئے، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِه ) سے یشرکون 6۔ الانعام : 91) تک۔
Narrated 'Abdullah: A priest from the Jews came (to the Prophet) and said, "On the Day of Resurrection, Allah will place all the heavens on one finger, and the Earth on one finger, and the waters and the land on one finger, and all the creation on one finger, and then He will shake them and say. 'I am the King! I am the King!'" I saw the Prophet smiling till his premolar teeth became visible expressing his amazement and his belief in what he had said. Then the Prophet recited: 'No just estimate have they made of Allah such as due to Him (up to)...; High is He above the partners they attribute to Him.' (39.67)
Narrated by Safwan bin Muhriz
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ کَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَی قَالَ يَدْنُو أَحَدُکُمْ مِنْ رَبِّهِ حَتَّی يَضَعَ کَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ أَعَمِلْتَ کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ وَيَقُولُ عَمِلْتَ کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَرِّرُهُ ثُمَّ يَقُولُ إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْکَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَکَ الْيَوْمَ وَقَالَ آدَمُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسدد، ابوعوانہ، قتادہ ، صفوان بن محرز سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرگوشی کے متعلق کس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ تم میں سے ایک شخص اپنے پروردگار سے قریب ہوگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پردہ اس پر ڈال دے گا پھر فرمائے گا کہ تو نے فلاں فلاں کام کئے تھے، وہ عرض کرے گا ہاں! اور اس طرح اس سے اقرار کرالے گا، تو فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی کی تھی آج میں ان کو بخش دیتا ہوں۔ اور آدم کا بیان ہے کہ ہم نے شیبان سے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا۔
Narrated Safwan bin Muhriz: A man asked Ibn 'Umar, "What have you heard from Allah's Apostle regarding An-Najwa?" He said, "Everyone of you will come close to His Lord Who will screen him from the people and say to him, 'Did you do so-and-so?' He will reply, 'Yes.' Then Allah will say, 'Did you do so-and-so?' He will reply, 'Yes.' So Allah will question him and make him confess, and then Allah will say, 'I screened your sins in the world and forgive them for you today.' "