TrueHadith

جس عورت کا شوہر مرجائے وہ چار ماہ دس دن تک اس کا سوگ منائے گی اور زہری نے کہا کہ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ کمسن لڑکی جس کا شوہر مرجائے وہ خوشبو لگائے، اس لئے کہ اس پر بھی عدت ہے

Sahih BukhariHadith 4918

Narrated by Humaid bin Nafi'

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

عبداللہ بن یوسف، مالک، عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم، حمید بن نافع، زینب بنت ابی سلمہ کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھ سے یہ تین احادیث بیان کیں، زینب بیان کرتی ہیں کہ میں ام حبیبہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، جب کہ ان کے والد ابوسفیان بن حرب نے وفات پائی، ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق یا کسی اور چیز کی زردی تھی اور اس سے ایک لڑکی کے خوشبو لگائی پھر اپنے رخسار پر لگالی، پھر بیان کیا کہ بخدا! مجھ کو خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مگر اس وجہ سے (میں نے خوشبو لگائی) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، بجز شوہر کے کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے،

Narrated Humaid bin Nafi': Zainab bint Abu Salama told me these three narrations: Zainab said: I went to Um Habiba, the wife of the Prophet when her father, Abu- Sufyan bin Herb had died. Um ,Habiba asked for a perfume which contained yellow scent (Khaluq) or some other scent, and she first perfumed one of the girls with it and then rubbed her cheeks with it and said, "By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Apostle saying, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for a dead person for more than three days unless he is her husband for whom she should mourn for four months and ten days.' " Zainab further said: I want to Zainab bint Jahsh when her brother died. She asked for perfume and used some of it and said, "By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Apostle saying on the pulpit, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days except for her husband for whom she should mourn for four months and ten days.' " Zainab further said, "I heard my mother, Um Salama saying that a woman came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! The husband of my daughter has died and she is suffering from an eye disease, can she apply kohl to her eye?" Allah's Apostle replied, "No," twice or thrice. (Every time she repeated her question) he said, "No." Then Allah's Apostle added, "It is just a matter of four months and ten days. In the Pre-Islamic Period of ignorance a widow among you should throw a globe of dung when one year has elapsed." I said to Zainab, "What does 'throwing a globe of dung when one year had elapsed' mean?" Zainab said, "When a lady was bereaved of her husband, she would live in a wretched small room and put on the worst clothes she had and would not touch any scent till one year had elapsed. Then she would bring an animal, e.g. a donkey, a sheep or a bird and rub her body against it. The animal against which she would rub her body would scarcely survive. Only then she would come out of her room, whereupon she would be given a globe of dung which she would throw away and then she would use the scent she liked or the like."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4919

قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

زینب نے بیان کیا کہ میں زینب بنت جحش کے پاس گئی، جب کہ ان کے بھائی نے وفات پائی، انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر اسے استعمال کیا، پھر فرمایا کہ بخدا مجھے خوشبو کی حاجت نہیں تھی، بجز اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ کسی مومن عورت کے لئے حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے،

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 4920

قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِي ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا

زینب رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے ام سلمہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے تو کیا ہم اس کو سرمہ لگائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا نہیں نہیں، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ چار مہینے دس دن تک انتظار کرے اور تم میں سے ایک عورت جاہلیت کے زمانہ میں ایک سال کے بعد مینگنی پھیکنتی تھی (اس کے بعد عدت سے باہرہوتی تھی) حمید کا بیان ہے کہ میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ یہ مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے تو زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو ایک تنگ کوٹھڑی میں داخل ہوجاتی اور خراب قسم کا کپڑا پہن لیتی اور خوشبو نہیں لگاتی یہاں تک کہ ایک سال گزر جاتا پھر اس کے پاس کوئی چوپایہ گدھا، بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا اور اس پر ہاتھ پھیرتی، بہت کم ایسا ہوتا کہ جس پر وہ ہاتھ پھیرے اور وہ مر نہ جائے پھر وہ باہر نکل آتی اور اس کے پاس لوگ مینگنی لاتے جسے پھینکتی وہ پھر واپس ہوجاتی اور جو کام کرنا چاہتی مثلا خوشبو وغیرہ لگانا تو وہ کرتی، مالک سے کسی نے پوچھا کہ تفتض سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس سے اپنی کھال ملتی تھی۔

-

Permalink