Narrated by Al-Qasim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا لَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةَ
محمد بن بشار، غندر، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ فاطمہ کو کیا ہوگیا، کیا خدا سے نہیں ڈرتی کہ کہتی ہے کہ طلاق والی عورت نہ نفقہ کی اور نہ رہنے کی جگہ کی مستحق ہے۔
Narrated Al-Qasim: Aisha said, "What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah?" by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband)
Narrated by Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْکُرَانِ أَنَّ يَحْيَی بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الحَکَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَی بَيْتِهَا قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَکَمِ غَلَبَنِي وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَوَمَا بَلَغَکِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ لَا يَضُرُّکَ أَنْ لَا تَذْکُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَکَمِ إِنْ کَانَ بِکِ شَرٌّ فَحَسْبُکِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنْ الشَّرِّ
اسماعیل، مالک، یحیی بن سعید، قاسم بن محمد و سلیمان بن یسار، دونوں کہتے ہیں کہ یحیی بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دی اور اس کو عبدالرحمن نے سناتوعائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو جب کہ وہ مدینہ کا گورنر تھا کہلا بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور اس کو اس کے گھر میں واپس کر، مردان نے سفیان کی حدیث میں بیان کیا کہ عبدالرحمن بن حکم مجھ پر دلیل میں غالب آگیا، اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ تجھے فاطمہ بنت قیس کا واقعہ معلوم نہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس کا واقعہ بیان نہ کرو تو تمہارے لئے کوئی حرج نہیں، (وہ حجت نہیں بن سکتی) مروان بن حکم نے کہا کہ اگر تمہارے خیال میں شر تھا تو جو شر ان کے درمیان تھا یہ بھی کافی حجت ہے۔
Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar: that Yahya bin Said bin Al-'As divorced the daughter of 'Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. Abdur-Rahman took her to his house. On that 'Aisha sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, "Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house." Marwan (in Sulaiman's version) said, "Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument)." (In Al-Qasim's versions Marwan said, "Have you not heard of the case of Fatima bint Qais?" Aisha said, "The case of Fatima bint Qais is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to 'Aisha, "The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of 'Abdur-Rahman."
Narrated by Qasim
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ قَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ وَقَالَتْ إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عمرو بن عباس، ابن مہدی، سفیان عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ فلاں یعنی حکم کی پوتی کو اس کے شوہر نے طلاق بتہ دے دی ہے اور وہ گھر سے نکل گئی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس نے برا کیا، پھر عروہ نے کہا کیا آپ نے نہیں سنا کہ فاطمہ کیا کہتی ہے اور ابن ابی الزناد نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد سے اس اضافہ کے ساتھ روایت کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو بہت زیادہ برا سمجھا اور فرمایا کہ فاطمہ ایک ڈر والے مکان میں تھی اور اس کے اطراف میں ہمیشہ ڈر لگا رہتا تھا، اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی۔
Narrated Qasim: Ursa said to Aisha, "Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house)." 'Aisha said, "What a bad thing she has done!" 'Ursa said (to 'Aisha), "Haven't you heard the statement of Fatima?" 'Aisha replied, "It is not in her favor to mention." 'Ursa added, 'Aisha reproached (Fatima) severely and said, "Fatima was in a lonely place, and she was proned to danger, so the Prophet allowed her (to go out of her husband's house)."