TrueHadith

تفسیر سورت قیامۃ(آیت) اس کے ساتھ زبان نہ ہلاؤ تاکہ جلد یاد ہو جائے اور ابن عباس نے کہا سدا بمعنی مہمل لیفجر امامہ سے مراد یہ ہے کہ عنقریب توبہ کروں عنقریب عمل کروں گا لا وزر بمعنے لا حصن کوئی بچاؤ کی صورت نہیں ہے۔

Sahih BukhariHadith 4546

Narrated by Ibn Abbas

حدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِي عَائِشَةَ وَکَانَ ثِقَةً عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ حَرَّکَ بِهِ لِسَانَهُ وَوَصَفَ سُفْيَانُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ

حمیدی، سفیان، موسیٰ بن ابی عائشہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ اپنی زبان کو حرکت دیتے اور سفیان نے بیان کیا کہ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے (لَا تُحَرِّكْ بِه لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه ) 75۔ القیامۃ : 16) نازل فرمائی۔ (آیت) بیشک ہم پر ہے اس کا جمع کرنا اور ہم پر ہے اس کا پڑھوانا۔

Narrated Ibn Abbas: The Prophet used to move his tongue when the divine Inspiration was being revealed to him. (Sufyan, a subnarrator, demonstrated (how the Prophet used to move his lips) and added. "In order to memorize it." So Allah revealed: "Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith." (75.16)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4547

Narrated by Musa bin Abi Aisha

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَی لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَانَ يُحَرِّکُ شَفَتَيْهِ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ يَخْشَی أَنْ يَنْفَلِتَ مِنْهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ أَنْ تَقْرَأَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ يَقُولُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ أَنْ نُبَيِّنَهُ عَلَی لِسَانِکَ

عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ) 75۔ القیامۃ : 16) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا جب آپ پر قرآن نازل ہوتا تو آپ اپنے دونوں ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے تو یہ کہا گیا کہ آپ بھول جانے کے خوف سے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں اس لئے کہ ہم پر اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہے جمع کرنے سے مراد سینے میں جمع کرنا اور پڑھوانا یہ کہ آپ اس کو پڑھیں گے پس جب ہم اس کو پڑھیں یعنی آیت نازل کی جائے تو جبریل کی قرات کی اتباع کرو پھر ہم پر اس کا بیان کرنا ہے یعنی ہم آپ کی زبان سے بیان کرا دیں گے (آیت) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ۔75۔ القیامۃ) کے متعلق ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ قراناہ سے مراد یہ ہے کہ ہم اس کو بیان کریں اور فاتبع سے مراد یہ ہے کہ آپ اس پر عمل کریں گے۔

Narrated Musa bin Abi Aisha: That he asked Said bin Jubair regarding (the statement of Allah). 'Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith.' He said, "Ibn 'Abbas said that the Prophet used to move his lips when the Divine Inspiration was being revealed to him. So the Prophet was ordered not to move his tongue, which he used to do, lest some words should escape his memory. 'It is for Us to collect it' means, We will collect it in your chest;' and its recitation' means, We will make you recite it. 'But when We recite it (i.e. when it is revealed to you), follow its recital; it is for Us to explain it and make it clear,' (i.e. We will explain it through your tongue).

Permalink

Sahih BukhariHadith 4548

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَکَانَ مِمَّا يُحَرِّکُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَکَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ قَالَ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِکَ قَالَ فَکَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ کَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْلَی لَکَ فَأَوْلَی تَوَعُّدٌ

قتیبہ بن سعید، جریر، موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس آیت (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ) کے متعلق بیان کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام وحی لے کر اترتے اور آپ اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے تو آپ کو تکلیف ہوتی اور یہ آپ کی ہونٹوں کی حرکت سے معلوم ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے آیت (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ) 75۔ القیامۃ) نازل فرمائی ہے جو سورت (لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ) 75۔ القیامۃ میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کے سینہ میں اس کا جمع کرنا ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھوانا پھر جب ہم پڑھیں تو اس کے پڑھنے کی اتباع کیجئے یعنی جب ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنئے پھر ہم پر اس کا بیان کرنا یعنی آپ کی زبان سے ہم اس کو بیان کرا دیں گے، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس کے بعد جبریل علیہ السلام آتے تو آپ اپنا سر جھکالیتے اور جب وہ چلے جاتے تو آپ اس کو پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا (آیت) ( اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى) 75۔ القیامۃ : 34) کا معنی تو عد کا ہے۔

Narrated Ibn Abbas: (as regards) Allah's Statement: "Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith." (75.16) When Gabriel revealed the Divine Inspiration in Allah's Apostle , he (Allah's Apostle) moved his tongue and lips, and that state used to be very hard for him, and that movement indicated that revelation was taking place. So Allah revealed in Surat Al-Qiyama which begins: 'I do swear by the Day of Resurrection...' (75) the Verses:-- 'Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith. It is for Us to collect it (Quran) in your mind, and give you the ability to recite it by heart. (75.16-17) Ibn Abbas added: It is for Us to collect it (Qur'an) (in your mind), and give you the ability to recite it by heart means, "When We reveal it, listen. Then it is for Us to explain it," means, 'It is for us to explain it through your tongue.' So whenever Gabriel came to Allah's Apostle ' he would keep quiet (and listen), and when the Angel left, the Prophet would recite that revelation as Allah promised him.

Permalink