Narrated by Ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ الْآيَةَ قَالَ کَانَ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ ثَقِيفَ أَوْ رَجُلَانِ مِنْ ثَقِيفَ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ قُرَيْشٍ فِي بَيْتٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا قَالَ بَعْضُهُمْ يَسْمَعُ بَعْضَهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَئِنْ کَانَ يَسْمَعُ بَعْضَهُ لَقَدْ يَسْمَعُ کُلَّهُ فَأُنْزِلَتْ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ الْآيَةَ
صلت بن محمد، یزید بن زریع، روح بن قاسم، منصور، مجاہد، ابومعمر، ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آیت (وَمَا كُنْتُمْ تَسْ تَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا اَبْصَارُكُمْ ۔ الْآيَةَ) 41۔فصلت : 22) کی تفسیر میں کہا کہ قریش کے دو شخص اور ان دونوں کا ایک داماد جو ثقفی تھا (یا راوی کو شک ہے) ثقیف کے دو شخص اور ان دونوں کا ایک داماد جو قریشی تھا ایک گھر میں تھے ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتیں سنتا ہے ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ بعض بات سنتا ہے تو ان میں سے دوسرے نے کہا کہ اگر اللہ بعض بات سنتا ہے تو ساری باتیں سنتا ہوگا تو یہ آیت (وَمَا كُنْتُمْ تَسْ تَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا اَبْصَارُكُمْ ۔ الْآيَةَ) 41۔فصلت : 22) نازل ہوئی (آیت) (وذلکم ظنکم) (یہ تمہارا گمان ہی ہے جو تم اپنے رب کے متعلق کیا کرتے تھے) ۔
Narrated Ibn Mas'ud: (regarding) the Verse: 'And you have not been screening against yourself lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you..' (41.22) While two persons from Quraish and their brother-in-law from Thaqif (or two persons from Thaqif and their brother-in-law from Quraish) were in a house, they said to each other, "Do you think that Allah hears our talks?" Some said, "He hears a portion thereof" Others said, "If He can hear a portion of it, He can hear all of it." Then the following Verse was revealed: 'And you have not been screening against yourself lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you...' (41.22)
Narrated by 'Abdullah
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ کَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلَةٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ قَالَ الْآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الْآخَرُ إِنْ کَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُودُکُمْ الْآيَةَ وَکَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُنَا بِهَذَا فَيَقُولُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ أَوْ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ حُمَيْدٌ أَحَدُهُمْ أَوْ اثْنَانِ مِنْهُمْ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَی مَنْصُورٍ وَتَرَکَ ذَلِکَ مِرَارًا غَيْرواحِدَةٍ
حمیدی، سفیان، منصور، مجاہد، ابومعمر، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی بیٹھے ہوئے تھے ان کے پیٹ کی چربیاں بہت زیادہ تھیں (یعنی موٹے تھے) لیکن ان کی سمجھ کم تھی ان میں سے ایک نے کہا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس کو اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ اگر ہم بآواز بلند بولتے ہیں تو وہ سن لیتا ہے اور اگر آہستہ بولتے ہیں تو نہیں سنتا ہے دوسرے شخص نے کہا کہ جب وہ اس کو سن لیتا ہے جو ہم بآ آواز بلند بولیں تو اس کو وہ بھی سننا چاہئے جو ہم آہستہ بولیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَمَا كُنْتُمْ تَسْ تَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا اَبْصَارُكُمْ ۔ الْآيَةَ) 41۔فصلت : 22) نازل فرمائی اور سفیان ہم سے اس حدیث کو بیان کرتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم سے منصور یا ابن ابی نجیح یا حمید ان میں سے ایک یا دو نے روایت کیا پھر منصور قائم ہو گئے اور ایک سے زیادہ متعدد بار اس کو چھوڑ دیا (آیت) پس اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کا ٹھکانا ہے۔ آخر تک۔
Narrated 'Abdullah: There gathered near the House (i.e. the Ka'ba) two Quraishi persons and a person from Thaqif (or two persons from Thaqif and one from Quraish), and all of them with very fat bellies but very little intelligence. One of them said, "Do you think that Allah hears what we say?" Another said, "He hears us when we talk in a loud voice, but He doesn't hear us when we talk in a low tone." The third said, "If He can hear when we talk in a loud tone, then He can also hear when we speak in a low tone." Then Allah, the Honorable, the Majestic revealed: 'And you have not been screening against yourself lest your ears, and eyes and your skins should testify against you....' (41.22-23)
Narrated by 'Abdullah bin Mas'ud
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ
عمرو بن علی، یحیی ، سفیان ثوری، منصور، مجاہد، ابومعمر، حضرت عبداللہ سے مثل حدیث سابق روایت کرتے ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: (As above, Hadith No. 341).