Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ شَکَوْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَکِي فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَائِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاکِبَةٌ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ
عبداللہ بن یوسف، مالک، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکات کی کہ میں بیمار ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر تو طواف کر لے چنانچہ میں نے طواف کرلیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشہ میں سورت (وَطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ) پڑھ رہے تھے۔
Narrated Um Salama: I complained to Allah's Apostle that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka'ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Apostle was offering the prayer by the side of the Ka'ba and was reciting: 'By the Mount (Saini) and by a Decree Inscribed.'
Narrated by Jubair bin Mut'im
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثُونِي عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْئٍ أَمْ هُمْ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَا يُوقِنُونَ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّکَ أَمْ هُمْ الْمُسَيْطِرُونَ قَالَ کَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ زَادَ الَّذِي قَالُوا لِي
حمیدی، سفیان، زہری، محمد بن جبیر بن مطعم، جبیر بن مطعم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورت طور پڑھتے ہوئے سنا جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ) 52۔ الطور : 35) قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے، سفیان کا بیان ہے کہ میں زہری کو بواسطہ محمد بن جبیر بن مطعم، جبیر بن مطعم سے نقل کرتے ہوئے سنا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورت طور پڑھتے ہوئے سنا لیکن اس میں یہ زیادتی نہیں تھی کہ قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔
Narrated Jubair bin Mut'im: I heard the Prophet reciting Surat At-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument).