Narrated by Ash-Sha'bi
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيٍّ قَالَ أَخَذَ عَدِيٌّ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ حَتَّی کَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ فَلَمْ يَسْتَبِينَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادِي عِقَالَيْنِ قَالَ إِنَّ وِسَادَکَ إِذًا لَعَرِيضٌ أَنْ کَانَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِکَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ أَهُمَا الْخَيْطَانِ قَالَ إِنَّکَ لَعَرِيضُ الْقَفَا إِنْ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ
موسی بن اسماعیل، ابوعوانہ، حصین، عامر، شعبی، حضرت عدی بن حاتم طائی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے دو دھاگے سیاہ اور سفید پاس رکھے اور رات کو دیکھتا رہا اور جب تک ان میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوا کھاتا رہا صبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو ایسا کیا کہ دو سیاہ و سفید دھاگے اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لئے تھے آپ نے عدی کی بات سن کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت بڑا ہے کہ صبح کی سفید دھاری اور رات کی کالی دھاری اس کے نیچے آ گئی۔ قتیبہ بن سعید، جریر، مطرف، شعبی، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس آیت میں کالے اور سفید دھاگے سے کیا مطلب ہے؟ کیا جو میں نے کیا وہی مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی عجیب نادان ہو کہ رات کو کالے اور سفید دھاگے دیکھا کرتے ہو حالانکہ اس سے تو رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی مراد ہے۔
Narrated Ash-Sha'bi: 'Adi took a white rope (or thread) and a black one, and when some part of the night had passed, he looked at them but he could not distinguish one from the other. The next morning he said, "O Allah's Apostle! I put (a white thread and a black thread) underneath my pillow." The Prophet said, "Then your pillow is too wide if the white thread (of dawn) and the black thread (of the night) are underneath your pillow! "
Narrated by 'Adi bin Hatim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ أَهُمَا الْخَيْطَانِ قَالَ إِنَّکَ لَعَرِيضُ الْقَفَا إِنْ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ
قتیبہ بن سعید، جریر، مطرف، شعبی، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس آیت میں کالے اور سفید دھاگے سے کیا مطلب ہے؟ کیا جو میں نے کیا وہی مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی عجیب نادان ہو کہ رات کو کالے اور سفید دھاگے دیکھا کرتے ہو حالانکہ اس سے تو رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی مراد ہے۔
Narrated 'Adi bin Hatim: I said, "O Allah's Apostle! What is the meaning of the white thread distinct from the black thread? Are these two threads?" He said, "You are not intelligent if you watch the two threads." He then added, "No, it is the darkness of the night and the whiteness of the day.''
Narrated by Sahl bin Sad
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ وَأُنْزِلَتْ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ وَلَمْ يُنْزَلْ مِنْ الْفَجْرِ وَکَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَلَا يَزَالُ يَأْکُلُ حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنْ الْفَجْرِ فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ مِنْ النَّهَارِ
سعید بن ابی مریم، ابوغسان، محمد بن مطرف، ابوحازم ، سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب کلوا واشربوا والی آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے اپنے پیر میں کالا اور سفید دھاگا باندھ لیا اور رات کو جب تک ان دھاگوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا کھاتے پیتے رہے پھر اس کے بعد (من الفجر) کے الفاظ نازل ہوئے تو سب کو پتہ چلا کہ سیاہ دھاگے سے مراد رات اور سفید دھاگے سے مراد دن ہے (یعنی صبح صادق کی روشنی تک کھانے پینے کی اجازت ہے)
Narrated Sahl bin Sad: The Verse:-- "And eat and drink until the white thread appears to you distinct from the black thread." was revealed, but: '... of dawn' was not revealed (along with it) so some men, when intending to fast, used to tie their legs, one with white thread and the other with black thread and would keep on eating till they could distinguish one thread from the other. Then Allah revealed' ... of dawn,' whereupon they understood that meant the night and the day.