TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو تم کو ملاقات کے وقت السلام علیکم کہے اسے یہ مت کہو کہ تو مومن نہیں ہے اور سلم سلم اور سلام سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی سلامتی ۔

Sahih BukhariHadith 4225

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَيْکُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَلَحِقَهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِکَ إِلَی قَوْلِهِ تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا تِلْکَ الْغُنَيْمَةُ قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ

علی بن عبد اللہ، سفیان، عمروبن دینار، عطاء، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کی کہ (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰ ى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۔ الخ) 4۔ النسآء : 94) والی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ مسلمان کسی جہاد سے واپس آرہے تھے کہ انہیں راستہ میں ایک گڈریا ملا تو اس نے مسلمانوں سے السلام علیکم کہا، مسلمانوں نے اس کو مار ڈالا اور اس کی تمام بکریاں لے لیں چنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیت میں السلام کا لفظ پڑھا ہے،

Narrated Ibn Abbas: Regarding the Verse: "And say not to anyone who offers you peace (by accepting Islam), You are not a believer." There was a man amidst his sheep. The Muslims pursued him, and he said (to them) "Peace be on you." But they killed him and took over his sheep. Thereupon Allah revealed in that concern, the above Verse up to:-- "...seeking the perishable good of this life." (4.94) i.e. those sheep.

Permalink