TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم کو سفر میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو ۔ تیمموا کے معنی قصد اور ارادہ کے ہیں ۃآئین کے معنی قصد کرنے والے اممت اور تیمت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ لامستم اور تمسوھن اور دخلتمب بھن اور افضا ان سب کے معنی مباشرت (جماع) کے ہیں

Sahih BukhariHadith 4241

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلَا تَرَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَی فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي مِنْ التَّحَرُّکِ إِلَّا مَکَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَخِذِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَيْرِ مَائٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ يَا آلَ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي کُنْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا الْعِقْدُ تَحْتَهُ

اسماعیل، امام مالک، عبدالرحمٰن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ زوجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر کو گئی جب ہم مقام بیداء میں پہنچے تو میرا ہار کہیں گم ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی جگہ ٹھر گئے اور لوگ ہار ڈھونڈنے لگے اور یہ جگہ ایسی تھی کہ پانی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور ساتھ بھی پانی موجود نہ تھا کچھ لوگ حضرت ابوبکرکے پاس آئے اور کہا حضرت عائشہ کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے سب لوگوں کو رکنا پڑا ہے اور نہ وہ پانی پر ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر رکھے ہوئے سو رہے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور تمام لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا ہے کہ جہاں پانی بھی دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس پانی موجود ہے اور انہوں نے مجھے سخت سست کہا ہے، میں اس لئے خاموش ہو رہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر رکھے ہوئے سو رہے تھے حالانکہ انہوں نے میری کو کھ میں انگلی بھی ماری تھی۔ آخرصبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے مگر پانی موجود نہیں تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (یعنی آیت تیمم) نازل فرمائی، حضرت اسید بن حضیر نے کہا کہ اس آیت کے نزول کا سبب حضرت ابوبکر کی اولاد کی بزرگی اور کرامت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میرا اونٹ کھڑا ہوا تو ہار اس کے نیچے سے برآمد ہوا اور مجھے مل گیا۔

Narrated Aisha: The wife of the Prophet : We set out with Allah's Apostle on one of his journeys, and when we were at Baida' or at Dhat-al-Jaish, a necklace of mine was broken (and lost). Allah's Apostle stayed there to look for it, and so did the people along with him. Neither were they at a place of water, nor did they have any water with them. So the people went to Abu Bakr As-Siddiq and said, "Don't you see what 'Aisha has done? She has made Allah's Apostle and the people, stay where there is no water and they have no water with them." Abu Bakr came while Allah's Apostle was sleeping with his head on my thigh. He said (to me), "You have detained Allah's Apostle and the people where there is no water, and they have no water with them." So he admonished me and said what Allah wished him to say, and he hit me on my flanks with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain! but the position of Allah's Apostle on my thigh. So Allah's Apostle got up when dawn broke and there was no water, so Allah revealed the Verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said, "It is not the first blessing of yours, O the family of Abu Bakr." Then we made the camel on which I was riding, got up, and found the necklace under it.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4242

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَائِ وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ فَثَنَی رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا أَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ فَلَکَزَنِي لَکْزَةً شَدِيدَةً وَقَالَ حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ فَبِي الْمَوْتُ لِمَکَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَوْجَعَنِي ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَحَضَرَتْ الصُّبْحُ فَالْتُمِسَ الْمَائُ فَلَمْ يُوجَدْ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِ الْآيَةَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لَقَدْ بَارَکَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيکُمْ يَا آلَ أَبِي بَکْرٍ مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَکَةٌ لَهُمْ

یحیی بن سلیمان، ابن وہب، عمرو بن حارث، عبد الرحنٰ بن قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم مدینہ کو واپس آرہے تھے کہ راستہ میں مقام بیداء میں میرا ہار گم ہوگیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھا دیا اور اسی جگہ ٹھہر گئے اور آرام کرنے لگے اور اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ لیا تھوڑی دیر میں میرے باپ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور میرے سینہ پر ہاتھ مار کر کہا تم نے سب لوگوں کو یہاں روک کر بڑی پریشانی میں ڈال دیا ہے مجھے بڑی تکلیف ہوئی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیال سے برداشت کر گئی اور خاموش رہی صبح کو جب آحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاگے تو پانی طلب کیا مگر پانی موجود نہیں تھا چنانچہ اس وقت آیت (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ آخر تک) 5۔ المائدہ : 6) نازل ہوئی اس موقع پر اسید بن حضیر نے کہا کہ اے اولاد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم لوگوں کیلئے باعث برکت و رحمت ہو کہ تمہاری وجہ سے آیت تیّمم نازل ہوئی۔

Narrated Aisha: A necklace of mine was lost at Al-Baida' and we were on our way to Medina. The Prophet made his camel kneel down and dismounted and laid his head on my lap and slept. Abu Bakr came to me and hit me violently on the chest and said, "You have detained the people because of a necklace." I kept as motionless as a dead person because of the position of Allah's Apostle ; (on my lap) although Abu Bakr had hurt me (with the slap). Then the Prophet woke up and it was the time for the morning (prayer). Water was sought, but in vain; so the following Verse was revealed:-- "O you who believe! When you intend to offer prayer.." (5.6) Usaid bin Hudair said, "Allah has blessed the people for your sake, O the family of Abu Bakr. You are but a blessing for them."

Permalink