TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ ان کے لئے دعا مغفرت کریں یا نہ کریں اگر ستر بار بھی دعا کریں تو بھی اللہ نہیں بخشے گا۔

Sahih BukhariHadith 4302

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنِا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَائَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُکَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاکَ رَبُّکَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُهُ عَلَی السَّبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ قَالَ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ

عبید بن اسماعیل، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کا بیٹا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور حضور سے کہا کہ اپنا کرتہ اس کے کفن کے لئے دیدیجئے آپ نے دے دیا پھر وہ کہنے لگے کہ آپ ان کی نماز جنازہ بھی پڑھا دیجئے آپ نے چلنے کا ارادہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ منافق کی نماز پڑھا رہے ہیں اور دعائے مغفرت فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو اس سے منع فرمایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا نے مجھ کو اختیار دیا ہے کہ میں ان کے لئے دعائے مغفرت کروں یا نہ کروں اور اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اگر ان کے لئے ستر بار بھی دعائے مغفرت کی جائے گی تو بھی میں ان کو نہیں بخشوں گا۔ لہذا میں اس کے لئے ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا وہ تو منافق ہے آخر آپ نے نماز پڑھا دی۔چنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ (وَلَا تُصَلِّ عَلٰ ي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا ۔ الخ) 9۔ التوبہ : 84)یعنی اے رسول! ان منافقوں سے جو بھی مرے اس کی نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر جاؤ۔

Narrated Ibn Abbas: When 'Abdullah bin 'Ubai died, his son 'Abdullah bin 'Abdullah came to Allah's Apostle and asked him to give him his shirt in order to shroud his father in it. He gave it to him and then 'Abdullah asked the Prophet to offer the funeral prayer for him (his father). Allah's Apostle got up to offer the funeral prayer for him, but Umar got up too and got hold of the garment of Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle Will you offer the funeral prayer for him though your Lord has forbidden you to offer the prayer for him" Allah's Apostle said, "But Allah has given me the choice by saying: '(Whether you) ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them; even if you ask forgiveness for them seventy times..' (9.80) so I will ask more than seventy times." 'Umar said, "But he ('Abdullah bin 'Ubai) is a hypocrite!" However, Allah's Apostle did offer the funeral prayer for him whereupon Allah revealed: 'And never (O Muhammad) pray for anyone of them that dies, nor stand at his grave.' (9.84)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4303

Narrated by Umar bin Al-Khattab

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ ح و قَالَ غَيْرُهُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَی ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ کَذَا کَذَا وَکَذَا قَالَ أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ فَلَمَّا أَکْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَی السَّبْعِينَ يُغْفَرْ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا قَالَ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَمْکُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی نَزَلَتْ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَائَةَ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا إِلَی قَوْلِهِ وَهُمْ فَاسِقُونَ قَالَ فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ

یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، (دوسری سند) عقیل، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس، حضرت عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی مرا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ پڑھانے کے لئے بلایا گیا تو جب آپ جانے لگے تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دامن پکڑ کر عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ اس کی نماز پڑھائیں گے جس نے ایک دن یہ باتیں کہیں تھیں غرض میں نے اس کی حرکتیں آپ کو یاد دلائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قدرے مسکرائے اور ارشاد فرمایا کہ اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! مجھے جانے دو کیونکہ اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ اگر میں یہ سمجھوں کہ کوئی ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے سے بخش دیا جائے گا تو میں ستر سے زیادہ بار استغفار کروں گا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور واپس تشریف لائے کہ فورا سورت براءت کی یہ آیات نازل کی گئیں کہ (وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا الخ) کہ ان میں سے کسی کی بھی نماز جنازہ نہ پڑھئے جو کہ مر جائے اور نہ ہی ان کی قبر پر جائیے (ھم الفٰسقون) تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بعد کہا کرتے تھے کہ مجھے اپنی جرات پر حیرت ہوتی ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ سے روکا حالانکہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔

Narrated Umar bin Al-Khattab: When 'Abdullah bin Ubai bin Salul died, Allah's Apostle was called in order to offer the funeral prayer for him. When Allah's Apostle got up (to offer the prayer) I jumped towards him and said, "O Allah's Apostle! Do you offer the prayer for Ibn Ubai although he said so-and-so on such-and-such-a day?" I went on mentioning his sayings. Allah's Apostle smiled and said, "Keep away from me, O 'Umar!" But when I spoke too much to him, he said, "I have been given the choice, and I have chosen (this) ; and if I knew that if I asked forgiveness for him more than seventy times, he would be for given, I would ask it for more times than that." So Allah's Apostle offered the funeral prayer for him and then left, but he did not stay long before the two Verses of Surat-Bara'a were revealed, i.e.:-- 'And never (O Muhammad) pray for anyone of them that dies.... and died in a state of rebellion.' (9.84) Later I was astonished at my daring to speak like that to Allah's Apostle and Allah and His Apostle know best.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4304

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَائَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُکَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهُوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاکَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي اللَّهُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ فَقَالَ سَأَزِيدُهُ عَلَی سَبْعِينَ قَالَ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ إِنَّهُمْ کَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ

ابراہیم بن منذر، انس بن عیاض، عبید اللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جس وقت عبداللہ بن ابی مرا تو اس کا بیٹا عبداللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اپنا پیراھن اس کے کفن کے لئے دے دیا اور پھر اس کے جنازے کی نماز پڑھانے جانے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا کہ حضور وہ تو منافق تھا آپ منافق کی نماز کس طرح پڑھانے جا رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو منافقوں کے لئے دعاکرنے سے منع فرماتا ہے آنحضرت نے فرمایا، اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اللہ نے مجھ کو اختیار دیا ہے۔ منع نہیں کیا ہے یا خبردار کیا ہے (راوی کو شک ہے کہ آپ نے کونسا لفظ فرمایا) اگر میں چاہوں تو استغفار کر سکتا ہوں یا نہ کروں اور اللہ نے تو یہ فرمایا ہے کہ ستر مرتبہ استغفار کے بعد بھی منافق کو نہیں بخشا جائیگا۔ مگر میں اس سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں گا اس کے بعد ہم نے آپ کے ہمراہ اس کی نماز جنازہ پڑھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ (وَلَا تُصَلِّ عَلٰ ي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا۔ الخ۔) 9۔ التوبہ : 84)

Narrated Ibn Umar: When Abdullah bin Ubai died, his son 'Abdullah bin 'Abdullah came to Allah's Apostle who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but 'Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) The he added, "I will (appeal to Allah for his sake) more than seventy times." So Allah's Apostle offered the funeral prayer for him and we too, offered the prayer along with him. Then Allah revealed: "And never, O Muhammad, pray (funeral prayer) for anyone of them that dies, nor stand at his grave. Certainly they disbelieved in Allah and His Apostle and died in a state of rebellion." (9.84)

Permalink