TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پانی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ مباشرت کرو لیکن اپنے لئے آگے کا خیال مد نظر رکھو۔

Sahih BukhariHadith 4163

Narrated by Nafi'

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَکَلَّمْ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْهُ فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی مَکَانٍ قَالَ تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ قُلْتُ لَا قَالَ أُنْزِلَتْ فِي کَذَا وَکَذَا ثُمَّ مَضَی وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ قَالَ يَأْتِيهَا فِي رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ

اسحاق ، نضر، عبداللہ بن عون، نافع، مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ قرآن کی تلاوت کے درمیان کسی سے بات نہ کرتے تھے ایک دن میں ان کے پاس گیا تو وہ سورت بقرہ پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ 2۔ البقرۃ : 223) تو فرمایا تم کو معلوم ہے کہ یہ آیت کس وقت اتری؟ میں نے لا علمی کا اظہار کیا، تو آپ نے وجہ نزول بیان کی اور پھر تلاوت میں مصروف ہو گئے (دوسری سند) عبدالصمد، عبدالوارث، ایوب، نافع سے، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ 2۔ البقرۃ : 223) سے مطلب یہ ہے کہ مرد عورت سے جماع کرے بعض لوگ اغلام کرتے تھے چنانچہ اس آیت سے اس فعل سے روکا گیا ہے یہی حدیث یحیی ، قطان، عبیداللہ، نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

Narrated Nafi': Whenever Ibn 'Umar recited the Qur'an, he would not speak to anyone till he had finished his recitation. Once I held the Qur'an and he recited Surat-al-Baqara from his memory and then stopped at a certain Verse and said, "Do you know in what connection this Verse was revealed? " I replied, "No." He said, "It was revealed in such-and-such connection." Ibn 'Umar then resumed his recitation. Nafi added regarding the Verse:--"So go to your tilth when or how you will" Ibn 'Umar said, "It means one should approach his wife in .."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4164

Narrated by Jabir

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَتْ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا جَامَعَهَا مِنْ وَرَائِهَا جَائَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ

ابو نعیم، سفیان، ابن منکدر، حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جو آدمی اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے جماع کرتا ہے اس کی اولاد احول یعنی بھینگی پیدا ہوتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرما کر یہود کے اس عقیدہ اور خیال کو غلط قرار دیا اور فرمایا جس طرح چاہو جماع کر سکتے ہو۔

Narrated Jabir: Jews used to say: "If one has sexual intercourse with his wife from the back, then she will deliver a squint-eyed child." So this Verse was revealed:-- "Your wives are a tilth unto you; so go to your tilth when or how you will." (2.223)

Permalink