TrueHadith

رمضان کے روزوں کے فرض ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کے اے ایمان والوں ! تم پر روزہ فرض کئے گئے ہیں ۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے شاید کہ تم متقی ہوجاو

Sahih BukhariHadith 1758

Narrated by Talha bin 'Ubaid-Ullah

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصِّيَامِ فَقَالَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الزَّکَاةِ فَقَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَالَ وَالَّذِي أَکْرَمَکَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ

قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ابوسہل اپنے والد سے وہ طلحہ بن عبیداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بال الجھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتائیے کہ ہم پر اللہ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا پانچ نمازیں لیکن اگر تو نفل پڑھے تو اور بات ہے، پھر اس نے عرض کیا کہ ہمیں بتائیے کہ کتنے روزے اللہ نے ہم پر فرض کئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے، لیکن اگر تو نفل رکھے تو الگ بات ہے۔ پھر اس نے عرض کیا کہ ہمیں بتائیے کہ اللہ نے ہم پر کتنی زکوۃ فرض کی ہے؟ راوی کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرائع اسلام بتا دئیے اس شخص نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو باعزت بنایا، میں اس سے نہ تو کچھ کم کروں گا نہ تو کچھ زیادہ کروں گا جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا اگر اپنے قول میں سچا ہے یا یہ فرمایا کہ وہ شخص جنت میں جائے گا اگر اپنے قول میں سچا ہے۔

Narrated Talha bin 'Ubaid-Ullah: A bedouin with unkempt hair came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! Inform me what Allah has made compulsory for me as regards the prayers." He replied: "You have to offer perfectly the five compulsory prayers in a day and night (24 hours), unless you want to pray Nawafil." The bedouin further asked, "Inform me what Allah has made compulsory for me as regards fasting." He replied, "You have to fast during the whole month of Ramadan, unless you want to fast more as Nawafil." The bedouin further asked, "Tell me how much Zakat Allah has enjoined on me." Thus, Allah's Apostle informed him about all the rules (i.e. fundamentals) of Islam. The bedouin then said, "By Him Who has honored you, I will neither perform any Nawafil nor will I decrease what Allah has enjoined on me. Allah's Apostle said, "If he is saying the truth, he will succeed (or he will be granted Paradise)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 1759

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشُورَائَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِکَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ

مسدد، اسماعیل، ایوب، نافع، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اسکے روزے کا حکم دیا۔ جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو چھوڑ دیا گیا اور عبداللہ اس دن روزہ نہ رکھنے کی عادت ہوتی اگر اس دن پڑجاتا تو رکھ لیتے۔

Narrated Ibn 'Umar: The Prophet observed the fast on the 10th of Muharram ('Ashura), and ordered (Muslims) to fast on that day, but when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, the fasting of the 'Ashura' was abandoned. 'Abdullah did not use to fast on that day unless it coincided with his routine fasting by chance.

Permalink

Sahih BukhariHadith 1760

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عِرَاکَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا کَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَائَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّی فُرِضَ رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَائَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ

قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراق بن مالک، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کے روزے رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے روزوں کا حکم دیا یہاں تک کہ جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے، تو رسول اللہ نے فرمایا کہ جو چاہے روزے رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔

Narrated 'Aisha: (The tribe of) Quraish used to fast on the day of Ashura' in the Pre-lslamic period, and then Allah's Apostle ordered (Muslims) to fast on it till the fasting in the month of Ramadan was prescribed; whereupon the Prophet said, "He who wants to fast (on 'Ashura') may fast, and he who does not want to fast may not fast."

Permalink