TrueHadith

دودھ پلانے والی ماں کا بیان، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ) جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں

Sahih BukhariHadith 4709

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ کَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ نَعَمْ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ

اسماعیل، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرماتے تھے کہ میں نے ایک شخص کی آواز سنی، جو حفصہ کے مکان میں جانے کی اجازت مانگ رہا تھا، تو میں نے کہا یا رسول اللہ کوئی غیر آدمی آپ کے مکان میں جانا چاہتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ فلاں شخص ہے جو حفصہ کا رضاعی چچا ہے، حضرت عائشہ نے پوچھا اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو میرا رضاعی چچا تھا تو کیا میں اس سے پردہ نہ کرتی، آپ نے فرمایا ہاں! جو رشتہ نسب سے حرام ہے وہ دودھ پینے سے بھی حرام ہوجاتا ہے۔

Narrated 'Aisha: (the wife of the Prophet) that while Allah's Apostle was with her, she heard a voice of a man asking permission to enter the house of Hafsa. 'Aisha added: I said, "O Allah's Apostle! This man is asking permission to enter your house." The Prophet said, "I think he is so-and-so," naming the foster-uncle of Hafsa. 'Aisha said, "If so-and-so," naming her foster uncle, "were living, could he enter upon me?" The Prophet said, "Yes, for foster suckling relations make all those things unlawful which are unlawful through corresponding birth (blood) relations."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4710

Narrated by Ibn 'Abbas

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ مِثْلَهُ

مسدد، یحیی ، شعبہ، قتادہ، جابر بن زید، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ حمزہ کی بیٹی سے شادی کیوں نہیں کرلیتے، تو آپ نے فرمایا کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور بشر بن عمر نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے قتادہ سے سنا کہ وہ جابر بن زید سے اسی طرح کی روایت نقل کرتے تھے۔

Narrated Ibn 'Abbas: It was said to the Prophet, "Won't you marry the daughter of Hamza?" He said, "She is my foster niece (brother's daughter). "

Permalink

Sahih BukhariHadith 4711

Narrated by Um Habiba

حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْکِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ أَوَتُحِبِّينَ ذَلِکِ فَقُلْتُ نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَکَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِکِ لَا يَحِلُّ لِي قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِيدُ أَنْ تَنْکِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَکُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِکُنَّ وَلَا أَخَوَاتِکُنَّ قَالَ عُرْوَةُ وثُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ کَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ

حکم بن نافع، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، زینب بنت ابی سلمہ، ام حبیبہ بنت ابوسفیان کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ آپ میری بہن بنت ابوسفیان سے نکاح کرلیجئے، ارشاد فرمایا، تجھے سوکن ناگوار معلوم نہ ہوگی، میں نے عرض کیا اب بھی میں ہی آپ کی اکیلی بیوی نہیں ہوں، بلکہ میں تو اپنی بہن کو بھلائیوں میں اپنا شریک کرنا چاہتی ہوں، اس پر آپ نے فرمایا میرے لئے یہ جائز نہیں کہ دو بہنوں کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں رکھوں، اس پر میں نے عرض کیا ہم نے سنا ہے آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، آپ نے فرمایا ابوسلمہ کی بیٹی سے؟ میں نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا اگر پہلے خاوند سے بیوی کی بیٹی وہ نہ ہوتی تب بھی میرے لئے حلال نہ تھی، کیوں کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، میرے سامنے تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو پیش نہ کرو، کیوں کہ وہ میرے لئے حلال نہیں، عروہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی، جسے ابولہب نے آزاد کردیا، پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، جب ابولہب مر گیا تو کسی گھر والے نے اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تجھ سے کیا معاملہ کیا گیا، جواب دیا جب سے تم سے جدا ہواہوں سخت عذاب میں مبتلا ہوں، ثوبیہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مل جاتا ہے، جس سے میری پیاس بجھ جاتی ہے۔

Narrated Um Habiba: (daughter of Abu Sufyan) I said, "O Allah's Apostle! Marry my sister. the daughter of Abu Sufyan." The Prophet said, "Do you like that?" I replied, "Yes, for even now I am not your only wife and I like that my sister should share the good with me." The Prophet said, "But that is not lawful for me." I said, We have heard that you want to marry the daughter of Abu Salama." He said, "(You mean) the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my step-daughter, she would be unlawful for me to marry as she is my foster niece. I and Abu Salama were suckled by Thuwaiba. So you should not present to me your daughters or your sisters (in marriage)." Narrated 'Ursa; Thuwaiba was the freed slave girl of Abu Lahb whom he had manumitted, and then she suckled the Prophet. When Abu Lahb died, one of his relatives saw him in a dream in a very bad state and asked him, "What have you encountered?" Abu Lahb said, "I have not found any rest since I left you, except that I have been given water to drink in this (the space between his thumb and other fingers) and that is because of my manumitting Thuwaiba."

Permalink