TrueHadith

جہاں بھی ہو، قبلہ کی طرف منہ کرنے کا بیان، اور ابوہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کر اور تکبیر کہہ

Sahih BukhariHadith 384

Narrated by Bara' bin 'Azib

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَی الْکَعْبَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِي السَّمَائِ فَتَوَجَّهَ نَحْوَ الْکَعْبَةِ وَقَالَ السُّفَهَائُ مِنْ النَّاسِ وَهُمْ الْيَهُودُ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمْ الَّتِي کَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ فَصَلَّی مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّی فَمَرَّ عَلَی قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ تَوَجَّهَ نَحْوَ الْکَعْبَةِ فَتَحَرَّفَ الْقَوْمُ حَتَّی تَوَجَّهُوا نَحْوَ الْکَعْبَةِ

عبداللہ بن رجاء، اسرائیل، ابواسحاق ، براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف سولہ مہینے یا سترہ مہینے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کیا جائے، تو اللہ عز وجل نے حکم نازل فرمایا قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِي السَّمَائِ ، پس آپ قبلہ جدید کی طرف پھر گئے، بعض لوگوں نے جو کہ یہود تھے، کہا کہ مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے جس پر وہ اب تک تھے، کس نے پھیر دیا؟ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کہہ دو مشرق ومغرب اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہتا ہے راہ راست کی طرف ہدایت دیتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص نے نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے بعد وہ چلا اور انصار کے کچھ لوگوں پر عصر کی نماز میں گذرا، وہ بیت المقدس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ رہے تھے، تو اس نے (اپنی نسبت) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی ہے اور آپ نے کعبہ کی طرف منہ کرلیا ہے، تب سب لوگ کعبہ کی طرف پھر گئے۔

Narrated Bara' bin 'Azib: Allah's Apostle prayed facing Baitul-Maqdis for sixteen or seventeen months but he loved to face the Ka'ba (at Mecca) so Allah revealed: "Verily, We have seen the turning of your face to the heaven!" (2:144) So the Prophet faced the Ka'ba and the fools amongst the people namely "the Jews" said, "What has turned them from their Qibla (Bait-ul-Maqdis) which they formerly observed"" (Allah revealed): "Say: 'To Allah belongs the East and the West. He guides whom he will to a straight path'." (2:142) a man prayed with the Prophet (facing the Ka'ba) and went out. He saw some of the Ansar praying the 'Asr prayer with their faces towards Bait-ul-Maqdis, he said, "I bear witness that I prayed with Allah's Apostle facing the Ka'ba." So all the people turned their faces towards the Ka'ba.

Permalink

Sahih BukhariHadith 385

Narrated by Jabir

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ فَإِذَا أَرَادَ الْفَرِيضَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ

مسلم بن ابراہیم، ہشام بن عبداللہ ، یحیی بن ابی کیثر، محمد بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر جس طرف وہ آپ کو لے کر چلتی (اسی طرف نماز پڑھتے) اور جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔

Narrated Jabir: Allah's Apostle used to pray (optional, non-obligatory prayer) while riding on his mount (Rahila) wherever it turned, and whenever he wanted to pray the compulsory prayer he dismounted and prayed facing the Qibla.

Permalink

Sahih BukhariHadith 386

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ کَذَا وَکَذَا فَثَنَی رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ لَنَبَّأْتُکُمْ بِهِ وَلَکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَکِّرُونِي وَإِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ

عثمان، جریر، منصور، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، ابراہیم کہتے ہیں یہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے (نماز میں کچھ) زیادہ کردیا تھا، یا کم کردیا تھا، الغرض! جب آپ سلام پھیر چکے، تو آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی بات نماز میں نئی ہو گئی؟ آپ نے فرمایا وہ کیا؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس قدر نماز پڑھی، پس آپ نے اپنے دونوں پیروں کو سمیٹ لیا اور قبلہ کی طرف منہ کرکے دو سجدے کئے، اس کے بعد سلام پھیرا پھر جب ہماری طرف اپنا منہ کیا تو فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم ہو جاتا، تو میں تمہیں پہلے سے مطلع کرتا، لیکن میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں، لہذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلاؤ، اور جب تم میں سے کسے شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہئے کہ صیحح حالت کے معلوم کرنے کی کو شش کرے اور اسی پر نماز تمام کردے، پھر سلام پھیر کر دو سجدے کرے۔

Narrated 'Abdullah: The Prophet prayed (and the subnarrator Ibrahim said, "I do not know whether he prayed more or less than usual"), and when he had finished the prayers he was asked, "O Allah's Apostle! Has there been any change in the prayers?" He said, "what is it?' The people said, "You have prayed so much and so much." So the Prophet bent his legs, faced the Qibla and performed two prostrations (of Sahu) and finished his prayers with Tasiim (by turning his face to right and left saying: 'As-Salamu'Alaikum-Warahmat-ullah'). When he turned his face to us he said, "If there had been anything changed in the prayer, surely I would have informed you but I am a human being like you and liable to forget like you. So if I forget remind me and if anyone of you is doubtful about his prayer, he should follow what he thinks to be correct and complete his prayer accordingly and finish it and do two prostrations (of Sahu)."

Permalink