Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْفِتْنَةِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنْ الْخَزَائِنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ يَا رُبَّ کَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ
ابن مقاتل، عبداللہ ، معمر، زہری، ہند بنت حارث، ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات جاگے تو فرمایا سبحان اللہ کیا کیا آزمائش کی چیزیں اور کیا کیا خزانے رات کو اتارے گئے، کوئی شخص ہے جو ان حجرہ والی عورتوں کو جگادے بہت سی عورتیں دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Narrated Um Salama: One night the Prophet got up and said, "Subhan Allah! How many afflictions Allah has revealed tonight and how many treasures have been sent down (disclosed). Go and wake the sleeping lady occupants of these dwellings up (for prayers), perhaps a well-dressed in this world may be naked in the Hereafter."
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام لَيْلَةً فَقَالَ أَلَا تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِکَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا
ابوالیمان، شعیب، زہری، علی بن حسین، حسین بن علی، علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شب ان کے پاس آئے اور فاطمہ بنت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، تو فرمایا کہ تم دونوں نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانیں خدا کے قبضہ میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا تو ہم اٹھیں گے، جب ہم لوگوں نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹ گئے اور ہم لوگوں کی طرف کچھ بھی متوجہ نہ ہوئے پھر میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیٹھ پھیر رہے تھے ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا انسان تمام چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
Narrated 'Ali bin Abi Talib One night Allah's Apostle came to me and Fatima, the daughter of the Prophet and asked, "Won't you pray (at night)?" I said, "O Allah's Apostle! Our souls are in the hands of Allah and if He wants us to get up He will make us get up." When I said that, he left us without saying anything and I heard that he was hitting his thigh and saying, "But man is more quarrelsome than anything." (18.54) ________________________________________
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ وَمَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَی قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا
عبداللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عروہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وایت کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو چھوڑ دیتے تھے حالانکہ وہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبوب ہوتا تھا لیکن اس خوف سے چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل کرنے لگیں اور وہ فرض نہ ہوجائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی اور میں پڑھتی ہوں۔
Narrated 'Aisha: Allah's Apostle used to give up a good deed, although he loved to do it, for fear that people might act on it and it might be made compulsory for them. The Prophet never prayed the Duha prayer, but I offer it. ________________________________________
Narrated by 'Aisha, the mother of the faithful believers
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّی بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّی مِنْ الْقَابِلَةِ فَکَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْکُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْکُمْ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ
عبداللہ بن یوسف، مالک، شہاب، عروہ بن زبیر، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑھی، پھر دوسری رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی، پھر تیسری یا چوتھی رات کو لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس نہیں آئے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس چیز کو دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے باہر آنے سے کسی چیز نے نہیں روکا، بجز اس خوف کے کہ کبھی تم پر فرض نہ ہوجائے۔
Narrated 'Aisha, the mother of the faithful believers: One night Allah's Apostle offered the prayer in the Mosque and the people followed him. The next night he also offered the prayer and too many people gathered. On the third and the fourth nights more people gathered, but Allah's Apostle did not come out to them. In the morning he said, "I saw what you were doing and nothing but the fear that it (i.e. the prayer) might be enjoined on you, stopped me from coming to you." And that happened in the month of Ramadan. ________________________________________