TrueHadith

نماز میں اشارہ کرنے کا بیان، اس کو کریب نے ام سلمہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔

Sahih BukhariHadith 1158

Narrated by Sahl bin Sad As-Sa'idi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ کَانَ بَيْنَهُمْ شَيْئٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَجَائَ بِلَالٌ إِلَی أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتْ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَکَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَأَقَامَ بِلَالٌ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَکَبَّرَ لِلنَّاسِ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَی وَرَائَهُ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَکُمْ حِينَ نَابَکُمْ شَيْئٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَائِ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِلَّا الْتَفَتَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا کَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، ابوحازم ، سہل بن سعد ساعدی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبرملی کہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان کچھ جھگڑا ہے، اس لئے آپ لوگوں کے ساتھ نکلے، تاکہ ان کے درمیان صلح کرا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکنا پڑا اور نماز کا وقت آگیا، بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا اے ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روک لئے گئے اور نماز کا وقت آچکا ہے کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں، اگر تمھاری خواہش ہو بلال نے تکبیر کہی اور ابوبکر آگے بڑھے، پھر تکبیر تحریمہ کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ صف میں مل گئے تو لوگوں نے تالی بجانا شروع کردی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے، جب لوگوں نے بہت زیادہ تالی بجانا شروع کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مڑے اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حکم دیتے ہوئے اشارہ کیا کہ نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کی حمد بیان کی اور الٹے پاؤں پیچھے لوٹ گئے یہاں تک کہ صف میں آکر کھڑے ہوگئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے لوگو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب نماز میں تمہیں کوئی بات پیش آتی ہے تو تالی بجانا شروع کردیتے ہو، حالانکہ تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے، جب نماز میں کوئی بات پیش آئے تو سبحان اللہ کہنا چاہئے، اس لئے جو شخص بھی سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا وہ ضرور متوجہ ہوگا، (پھر ابوبکر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا) اے ابوبکر رضی اللہ عنہ تمہیں کس چیز نے نماز پڑھانے سے روکا جب کہ میں نے تمہیں نماز پڑھانے کا اشارہ کیا؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ابوقحافہ کے بیٹے کے لئے مناسب نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔

Narrated Sahl bin Sad As-Sa'idi : The news about the differences amongst the people of Bani'Amr bin 'Auf reached Allah's Apostle and so he went to them along with some of his companions to affect a reconciliation between them. Allah's Apostle was delayed there, and the time of the prayer was due. Bilal went to Abu Bakr and said to him, "Allah's Apostle has been delayed (there) and the time of prayer is due. So will you lead the people in prayer?" Abu Bakr said, "Yes, if you wish." Bilal pronounced the Iqama and Abu Bakr, went forward and said Takbir for the people. In the mean-time Allah's Apostle came crossing the rows (of the praying people) and stood in the (first) row and the people started clapping. Abu Bakr, would never glance side-ways in his prayer but when the people clapped much he looked back and (saw) Allah's Apostle . Allah's Apostle beckoned him to carry on the prayer. Abu Bakr raised his hands and thanked Allah, and retreated till he reached the (first) row. Allah's Apostle went forward and led the people in the prayer. When he completed the prayer he faced the people and said, "O people! Why did you start clapping when something unusual happened to you in the prayer? Clapping is only for women. So whoever amongst you comes across something in the prayer should say, 'Subhan-Allah' for there is none who will not turn round on hearing him saying Subhan-Allah. O Ab-u Bakr! What prevented you from leading the people in the prayer when I beckoned you to do so?" Abu Bakr replied, "How dare the son of Abu Quhafa lead the prayer in the presence of Allah's Apostle ?" ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1159

Narrated by Asma'

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي قَائِمَةً وَالنَّاسُ قِيَامٌ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَی السَّمَائِ فَقُلْتُ آيَةٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ

یحیی بن سلیمان، ابن وہب، ثوری، ہشام، فاطمہ، اسماء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچی اس حال میں کہ وہ کھڑی ہو کر نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی کھڑے تھے تو میں نے کہا لوگوں کا کیا حال ہے تو انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا میں نے کہا کیا کوئی نشانی ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا، یعنی ہاں کہا۔

Narrated Asma': I went to 'Aisha and she was standing praying and the people, too, were standing (praying). So I said, "What is the matter with the people?" She beckoned with her head towards the sky. I said, "(Is there) a sign?" She nodded intending to say, "Yes." ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1160

Narrated by 'Aisha the wife of the Prophet

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاکٍ جَالِسًا وَصَلَّی وَرَائَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا

اسمعیل، مالک، ہشام اپنے والد سے اور وہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کی حالت میں اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ کے پیچھے قوم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو آپ نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اسلئے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے اس لئے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ

Narrated 'Aisha the wife of the Prophet: Allah's Apostle during his illness prayed in his house sitting, whereas some people followed him standing, but the Prophet beckoned them to sit down. On completion of the prayer he said, "The Imam is to be followed. So, bow when he bows, and raise your head when he raises his head." (See Hadith No. 657 Vol 1 for taking the verdict).

Permalink