TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے سے پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن کا بیان اور ابوبردہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن سلام نے کہا، کیا میں تمہیں اس برتن میں نہ پلاؤں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاہے

Sahih BukhariHadith 5206

Narrated by Sahl bin Sad

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُکِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَائَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَکِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا کَلَّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ فَقَالَ قَدْ أَعَذْتُکِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا قَالَتْ لَا قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ لِيَخْطُبَکِ قَالَتْ کُنْتُ أَنَا أَشْقَی مِنْ ذَلِکَ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّی جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ اسْقِنَا يَا سَهْلُ فَخَرَجْتُ لَهُمْ بِهَذَا الْقَدَحِ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِکَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ قَالَ ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَعْدَ ذَلِکَ فَوَهَبَهُ لَهُ

سعید بن ابی مریم، ابوغسان، اباحازم، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید ساعدی کو بھیجا کہ اس کے پاس کسی کو بھیج کر بلائیں، چنانچہ ایک آدمی اس کے پاس بھیجا گیا تو وہ عورت آئی اور بنی ساعدہ کے مکانات میں ٹھہری، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے یہاں تک کہ اس عورت کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ اپنا سرجھکائے ہوئے تھی، جب اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کی تو اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو پناہ دی، لوگوں نے اس سے پوچھا کیا تو جانتی ہے کہ یہ کون تھے؟ اس نے کہا نہیں، لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جو تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تھے، اس عورت نے کہا کہ میں بدبخت ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سقیفہ بنی ساعدہ میں تشریف لائے، یہاں تک کہ آپ اور آپ کے ساتھی بیٹھ گئے، پھر فرمایا اے سہل! ہمیں پانی پلاؤ، تو میں یہ پیالہ ان لوگوں کے لئے لے کر آیا اور اسی میں ان سب کو پلایا، راوی کا بیان ہے کہ سہل نے وہی پیالہ نکالا اور ہم نے اس میں پیا، پھر اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزنے وہ پیالہ ان سے مانگا تو انہوں نے وہ پیالہ ان کو ہبہ کردیا۔

Narrated Sahl bin Sad: An Arab lady was mentioned to the Prophet so he asked Abu Usaid As-Sa'idi to send for her, and he sent for her and she came and stayed in the castle of Bani Sa'ida. The Prophet came out and went to her and entered upon her. Behold, it was a lady sitting with a drooping head. When the Prophet spoke to her, she said, "I seek refuge with Allah from you." He said, "I grant you refuge from me." They said to her, "Do you know who this is?" She said, "No." They said, "This is Allah's Apostle who has come to command your hand in marriage." She said, "I am very unlucky to lose this chance." Then the Prophet and his companions went towards the shed of Bani Sa'ida and sat there. Then he said, "Give us water, O Sahl!" So I took out this drinking bowl and gave them water in it. The sub-narrator added: Sahl took out for us that very drinking bowl and we all drank from it. Later on Umar bin 'Abdul 'Aziz requested Sahl to give it to him as a present, and he gave it to him as a present.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5207

Narrated by 'Asim al-Ahwal

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِکٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ رَأَيْتُ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَ قَدْ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَهُ بِفِضَّةٍ قَالَ وَهُوَ قَدَحٌ جَيِّدٌ عَرِيضٌ مِنْ نُضَارٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْقَدَحِ أَکْثَرَ مِنْ کَذَا وَکَذَا قَالَ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ إِنَّهُ کَانَ فِيهِ حَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَأَرَادَ أَنَسٌ أَنْ يَجْعَلَ مَکَانَهَا حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ لَا تُغَيِّرَنَّ شَيْئًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَکَهُ

حسن بن مدرک، یحیی بن حماد، ابوعوانہ، عاصم احول کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا جو پھٹ گیا تھا اور اس میں چاندی کی پٹیاں جڑی ہوئی تھیں اور یہ پیالہ بہت اچھا اور چوڑانضار (ایک قسم کی لکڑی) کا بنا ہوا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی اتنی بار (بہت زیادہ مرتبہ) سے زیادہ دفعہ پلایا ہے اور ابن سیرین کا بیان ہے کہ اس میں لوہے کا ایک حلقہ جڑا ہوا تھا، انس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی کا حلقہ اس میں جڑ دیں تو ان سے ابوطلحہ نے کہا کہ اس چیز کو نہ بدلو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہے، اس لئے انہوں نے (اپنا ارادہ) ترک کردیا۔

Narrated 'Asim al-Ahwal: I saw the drinking bowl of the Prophet with Anas bin Malik, and it had been broken, and he had mended it with silver plates. That drinking bowl was quite wide and made of Nadar wood, Anas said, "I gave water to the Prophet in that bowl more than so-and-so (for a long period)." Ibn Sirin said: Around that bowl there was an iron ring, and Anas wanted to replace it with a silver or gold ring, but Abu Talha said to him, "Do not change a thing that Allah's Apostle has made." So Anas left it as it was.

Permalink