TrueHadith

اللہ تعالیٰ کے قول اور وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے پھر دوبارہ زندہ کرے گا کا بیان ربیع بن خثیم اور حسن نے فرمایا ہر چیز اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے

Sahih BukhariHadith 2952

Narrated by 'Imran bin Husain

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا بَنِي تَمِيمٍ أَبْشِرُوا قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَجَائَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْيَمَنِ اقْبَلُوا الْبُشْرَی إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَبِلْنَا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بَدْئَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ رَاحِلَتُکَ تَفَلَّتَتْ لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ

محمد بن کثیر سفیان جامع بن شداد صفوان بن محرز عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ بنو تمیم کی ایک جماعت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی آپ نے فرمایا اے بنو تمیم خوشخبری حاصل کرو انہوں نے جواب دیا کہ (اے رسول اللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خوشخبری تو دیدی لہذا اب کچھ عطا فرمائیے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا پھر اہل یمن آپ کی خدمت میں آئے آپ نے فرمایا اے اہل یمن بشارت کو قبول کرو کیونکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابتدائے آفرینش و عرش کے بارے میں بیان فرمانے لگے پھر ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے عمران تمہاری سواری بھاگ گئی (عمران کہتے ہیں کہ) کاش میں اس کی یہ باتیں چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس وعظ سے کھڑا نہ ہوتا۔

Narrated 'Imran bin Husain: Some people of Bani Tamim came to the Prophet and he said (to them), "O Bani Tamim! rejoice with glad tidings." They said, "You have given us glad tidings, now give us something." On hearing that the color of his face changed then the people of Yemen came to him and he said, "O people of Yemen ! Accept the good tidings, as Bani Tamim has refused them." The Yemenites said, "We accept them. Then the Prophet started taking about the beginning of creation and about Allah's Throne. In the mean time a man came saying, "O 'Imran! Your she-camel has run away!'' (I got up and went away), but l wish I had not left that place (for I missed what Allah's Apostle had said).

Permalink

Sahih BukhariHadith 2953

Narrated by Imran bin Husain

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلْتُ نَاقَتِي بِالْبَابِ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالُوا جِئْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ کَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَکُنْ شَيْئٌ غَيْرُهُ وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَکَتَبَ فِي الذِّکْرِ کُلَّ شَيْئٍ وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَنَادَی مُنَادٍ ذَهَبَتْ نَاقَتُکَ يَا ابْنَ الْحُصَيْنِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هِيَ يَقْطَعُ دُونَهَا السَّرَابُ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ تَرَکْتُهَا وَرَوَی عِيسَی عَنْ رَقَبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْئِ الْخَلْقِ حَتَّی دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ حَفِظَ ذَلِکَ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ

عمر بن حفص بن غیاث ان کے ولد اعمش جامع بن شداد صفوان بن محرز عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی اونٹنی کو دروازہ پر باندھ کر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنوتمیم کے کچھ لوگ آئے آپ نے فرمایا بشارت قبول کرو اے بنوتمیم! انہوں نے دو مرتبہ کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو دی ہے اب کچھ عطا بھی تو فرمائیے پھر یمن کے کچھ لوگ حاضر خدمت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن بشارت قبول کرو کیونکہ نبی تمیم نے تو اسے رد کردیا ہے انہوں نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے قبول کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس امر (دین) کے بارے میں کچھ دریافت کرنے کیلئے حاضر ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ابتد اء میں) اللہ تعالیٰ کا وجود تھا اور کوئی چیز موجود نہیں تھی اس کا عرش پانی پر تھا اور اس نے ہر ہونے ولی چیز کو لوح محفوظ میں لکھ لیا تھا اور اس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے اتنی ہی بات سنی) کہ ایک منادی نے آواز دی کہ اے ابن حصین! تیری اونٹنی بھاگ گئی میں (اٹھ کر) چلا تو وہ اتنی دور چلی گئی تھی کہ سراب بیچ میں حائل ہوگیا بس خدا کی قسم! میں نے تمنا کی کہ میں اسے چھوڑ دیتا عیسیٰ رقبہ قیس بن مسلم طارق بن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان ایک مقام پر کھڑے ہوئے اور آپ نے ابتدائے آفرینش کی بابت ہمیں بتلایا حتیٰ کہ (یہ بھی بتلایا کہ) جنتی اپنی منزلوں اور دوزخی اپنی جگہوں میں داخل ہو گئے اس بات کو یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھول گیا جو بھول گیا۔

Narrated Imran bin Husain: I went to the Prophet and tied my she-camel at the gate. The people of Bani Tamim came to the Prophet who said "O Bani Tamim! Accept the good tidings." They said twice, 'You have given us the good tidings, now give us something" Then some Yemenites came to him and he said, "Accept the good tidings, O people of Yemem, for Bani Tamim refused them." They said, "We accept it, O Allah's Apostle! We have come to ask you about this matter (i.e. the start of creations)." He said, "First of all, there was nothing but Allah, and (then He created His Throne). His throne was over the water, and He wrote everything in the Book (in the Heaven) and created the Heavens and the Earth." Then a man shouted, "O Ibn Husain! Your she-camel has gone away!" So, I went away and could not see the she-camel because of the mirage. By Allah, I wished I had left that she-camel (but not that gathering). Narrated 'Umar: One day the Prophet stood up amongst us for a long period and informed us about the beginning of creation (and talked about everything in detail) till he mentioned how the people of Paradise will enter their places and the people of Hell will enter their places. Some remembered what he had said, and some forgot it.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2954

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی يَشْتِمُنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتِمَنِي وَيُکَذِّبُنِي وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَمَّا شَتْمُهُ فَقَوْلُهُ إِنَّ لِي وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِيبُهُ فَقَوْلُهُ لَيْسَ يُعِيدُنِي کَمَا بَدَأَنِي

عبداللہ بن ابی شیبہ ابواحمد سفیان ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ اس کے لئے مناسب نہیں کہ مجھ کو گالی دے اور مجھے جھوٹا سمجھتا ہے حالانکہ یہ اس کے لئے مناسب نہیں گالی دینا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرے اولاد ہے (یعنی شرک کرتا ہے) اور جھوٹا سمجھنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہ کرے گا جیسے پہلے اس نے پیدا کیا۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Allah the Most Superior said, "The son of Adam slights Me, and he should not slight Me, and he disbelieves in Me, and he ought not to do so. As for his slighting Me, it is that he says that I have a son; and his disbelief in Me is his statement that I shall not recreate him as I have created (him) before."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2955

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَی اللَّهُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِي کِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي

قتیبہ بن سعید مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس لے لوح محفوظ میں لکھ لیا سو وہ اس کے پاس عرش کے اوپر موجود ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "When Allah completed the creation, He wrote in His Book which is with Him on His Throne, "My Mercy overpowers My Anger."

Permalink