TrueHadith

قمیص پہننے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا قول جو یوسف علیہ السلام کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میری قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پہ ڈال دو تو ان کی بینائی لوٹ آئے گی

Sahih BukhariHadith 5348

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ مَا هُوَ أَسْفَلُ مِنْ الْکَعْبَيْنِ

قتیبہ، حماد، ایوب، نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! محرم کون سے کپڑے پہنے، تو آپ نے فرمایا کہ محرم قمیص، پاجامہ اور برنس (ٹوپی) اور موزے نہ پہنے، مگر یہ کہ اسے جوتا میسر نہ ہوسکے تو ٹخنوں کے نیچے نیچے (موزہ) پہن لے (ٹخنے) نہیں چھپنے چاہئیں۔

Narrated Ibn 'Umar: A man asked, "O Allah s Apostle What kind of clothes should a Muhrim wear?" The Prophet, said, "A Muhrim should not wear a shirt, trousers a hooded cloak, or Khuffs (leather socks covering the ankles) unless he cannot get sandals, in which case he should cut the part (of the Khuff) that covers the ankles."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5349

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَی ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّی تَغْشَی أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ کُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَةٍ بِمَکَانِهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ هَکَذَا فِي جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ تَابَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ فِي الْجُبَّتَيْنِ وَقَالَ حَنْظَلَةُ سَمِعْتُ طَاوُسًا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ جُبَّتَانِ وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ جُبَّتَانِ

عبداللہ بن محمد، ابوعامر، ابراہیم بن نافع، حسن، طاؤس ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور خیرات کرنے والے کی ایک مثال بیان کی ہے کہ وہ ان دو آدمیوں کی طرح ہیں جو لوہے کی دو زرہیں پہنے ہوئے ہیں ان کے دونوں ہاتھ سینوں اور ہنسلیوں تک پہنچے ہوئے ہیں صدقہ کرنے والا جب بھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو وہ زرہ چوڑی اور ڈھیلی ہوجائے گی یہاں تک کہ پاؤں کے پاس آجائے گی اور پیر کی انگلیوں کو ڈھک لے گی اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس کی زرہ اس پر تنگ ہوتی جائے گی اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جکڑے ہوئے ہوگا حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ کو اپنی انگلیان اپنی جیب میں ڈال کر بتاتے ہوئے دیکھا کہ وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن کشادہ نہیں ہوتا ہے اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے جبتان کا لفظ سنا ہے اور جعفر نے اعرج سے جبتان کا لفظ روایت کیا۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle has set forth an example for a miser and a charitable person by comparing them to two men wearing two iron cloaks and their hands are raised to their breasts and necks. Whenever the charitable man tries to give a charitable gift, his iron cloak expands till it becomes so wide that it will cover his fingertips and obliterate his tracks And, whenever the miser wants to give a charitable gift, his cloak becomes very tight over him and every ring gets stuck to its place Abu Huraira added; I saw Allah's Apostle putting his finger in the (chest) pocket of his shirt like that If you but saw him trying to widen (the opening of his shirt) but it did not widen

Permalink

Sahih BukhariHadith 5350

Narrated by Abdullah bin 'Umar

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَائَ ابْنُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَکَ أُکَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ إِذَا فَرَغْتَ مِنْهُ فَآذِنَّا فَلَمَّا فَرَغَ آذَنَهُ بِهِ فَجَائَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَجَذَبَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ نَهَاکَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَی الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ فَتَرَکَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ

صدقہ، یحیی بن سعید، عبیداللہ ، نافع، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے (جو مومن تھے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اپنی قمیص عنایت فرمادیں تاکہ اس کا کفن بنا لوں اور اس پر آپ نماز پڑھ دیجئے اور اس کی بخشش کے لئے دعا کردیجئے، آپ نے اپنی قمیص دے دی، اور فرمایا کہ جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے بتا دینا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، کیا اللہ نے آپ کو منافقین پر پڑھنے سے منع نہیں فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، اگر آپ ان کے لئے ستر بار بھی بخشش کی دعا کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں کبھی نہ بخشے گا، پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان میں سے جو مرجائے کسی پر کبھی بھی نماز نہ پڑھو، تو ان پر نماز پڑھنا ترک کر دیا گیا۔

Narrated Abdullah bin 'Umar: When Abdullah bin Ubdi (bin Salul) died, his son came to Allah's Apostle and said ' O Allah's Apostle, give me your shirt so that I may shroud my fathers body in it. And please offer a funeral prayer for him and invoke Allah for his forgiveness." The Prophet gave him his shirt and said to him 'Inform us when you finish (and the funeral procession is ready) call us. When he had finished he told the Prophet and the Prophet proceeded to order his funeral prayers but Umar stopped him and said, "Didn't Allah forbid you to offer the funeral prayer for the hypocrites when He said: "Whether you (O Muhammad) ask forgiveness for them or ask not forgiveness for them: (and even) if you ask forgiveness for them seventy times. Allah will not forgive them." (9.80) Then there was revealed: "And never (O Muhammad) pray for any of them that dies, nor stand at his grave." (9.34) Thenceforth the Prophet did not offer funeral prayers for the hypocrites.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5351

Narrated by Jabir bin Abdullah

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ قَبْرَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ وَوُضِعَ عَلَی رُکْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ

عبداللہ بن عثمان، ابن عیینہ، عمرو، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو اس کے نکالنے کا حکم دیا (جب وہ نکالا گیا تو) آپ نے اپنے دونوں گھٹنوں پر اس کو رکھا اور اس پر دم کیا اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ و اللہ اعلم۔

Narrated Jabir bin Abdullah: The Prophet came to visit Abdullah bin Ubai (bin Salul) after he had been put in his grave. The Prophet ordered that 'Abdullah be taken out. He was taken out and was placed on the knees on the knees of the Prophet, who blew his (blessed) breath on him and dressed the body with his own shirt. And Allah knows better.

Permalink