TrueHadith

میدان جنگ سے فرار نہ ہونے کی بیعت کا بیان اور بعض کہتے ہیں موت پر ہے حسب فرمان الہٰی کہ بے شک اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہوگیا جب کہ اے رسول اکرم تم سے لوگ درخت کے تلے بیعت کر رہے تھے

Sahih BukhariHadith 2737

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَمَنْ يُطِعْ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي وَإِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَی بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَی اللَّهِ وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهُ بِذَلِکَ أَجْرًا وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ

نیز اسی اسناد سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو شخص حاکم شریعت کی اطاعت کرے گا اس نے میری اطاعت کی اور جو حاکم کی خلاف ورزی کر یگا اس نے میری نافرمانی کی سنو امام ڈھال کی طرح ہے اسکی آڑ لے کر جنگ کی جاتی ہے اور اسی کی پناہ لی جاتی ہے پس اگر وہ اسے ڈرنے اور عدل وانصاف کرنے کا حکم دے تو اس کو ثواب ملے گا اور وہ اگر اس کی خلاف ورزی کرے تو اس پر گناہ ہوگا۔

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 2738

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجَعْنَا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَی الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعْنَا تَحْتَهَا کَانَتْ رَحْمَةً مِنْ اللَّهِ فَسَأَلْتُ نَافِعًا عَلَی أَيِّ شَيْئٍ بَايَعَهُمْ عَلَی الْمَوْتِ قَالَ لَا بَلْ بَايَعَهُمْ عَلَی الصَّبْرِ

موسی ، جویریہ، نافع ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سال آئندہ یعنی بیعت رضوان کے بعد جب ہم پھر لوٹے تو ہمارے دونوں ساتھیوں میں سے کسی نے اس درخت کو نہ پایا جس کے نیچے ہم نے بیعت کی تھی جہاں اللہ کی مہربانی تھی اس کے بعد میں نے نافع سے پوچھا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کس بات پر بیعت لی تھی موت پر؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ جنگ میں ثابت قدم رہنے پر بیعت لی تھی۔

Narrated Ibn 'Umar: When we reached (Hudaibiya) in the next year (of the treaty of Hudaibiya), not even two men amongst us agreed unanimously as to which was the tree under which we had given the pledge of allegiance, and that was out of Allah's Mercy. (The sub narrator asked Naf'i, "For what did the Prophet take their pledge of allegiance, was it for death?" Naf'i replied "No, but he took their pledge of allegiance for patience.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 2739

Narrated by 'Abdullah bin Zaid

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا کَانَ زَمَنُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ لَهُ إِنَّ ابْنَ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَی الْمَوْتِ فَقَالَ لَا أُبَايِعُ عَلَی هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن اسماعیل وہیب عمرو عباد حضرت عبداللہ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ واقعہ حرہ کے زمانہ میں ایک شخص نے آکر مجھ سے کہا کہ حنظلہ کے بیٹے لوگوں سے موت پر بیعت لے رہے ہیں تو حضرت عبداللہ نے کہا کہ ہم رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے اس شرط پر بیعت نہیں کریں گے۔

Narrated 'Abdullah bin Zaid: that in the time (of the battle) of Al-Harra a person came to him and said, "Ibn Hanzala is taking the pledge of allegiance from the people for death." He said, "I will never give a pledge of allegiance for such a thing to anyone after Allah's Apostle."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2740

Narrated by Yazid bin Ubaid

حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَی ظِلِّ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا خَفَّ النَّاسُ قَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ کُنْتُمْ تُبَايِعُونَ يَوْمَئِذٍ قَالَ عَلَی الْمَوْتِ

مکی بن ابراہیم یزید بن ابی عبید سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت رضوان کے بعد ایک درخت کے سایہ کی طرف چلا لوگوں کے کم ہو جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن اکوع آئیے بیعت نہیں کر نے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو بیعت کر چکا ہوں فرمایا مکررچنانچہ میں دوبار بیعت کی میں نے ان سے کہا اے ابومسلم! تم نے اس دن کس بات پر بیعت کی تھی انہوں نے جواب دیا موت پر بیعت کی تھی۔

Narrated Yazid bin Ubaid: Salama said, "I gave the Pledge of allegiance (Al-Ridwan) to Allah's Apostle and then I moved to the shade of a tree. When the number of people around the Prophet diminished, he said, 'O Ibn Al-Akwa ! Will you not give to me the pledge of Allegiance?' I replied, 'O Allah's Apostle! I have already given to you the pledge of Allegiance.' He said, 'Do it again.' So I gave the pledge of allegiance for the second time." I asked 'O Abu Muslim! For what did you give he pledge of Allegiance on that day?" He replied, "We gave the pledge of Allegiance for death."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2741

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ کَانَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَی الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَکْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حفص شعبہ حمید انس سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن انصار کہہ رہے تھے ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے اور جب تک زندہ رہیں گے لگاتار جہاد کرتے رہیں گے اور جہاد ہی ہماری زندگی ہے جس کے جواب میں رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اے اللہ عیش تو آخرت ہی کی ہے اور اے اللہ! تو انصار ومہاجرین کو سر بلند کر اور انہیں عیش وآرام عطا فرما۔

Narrated Anas: On the day (of the battle) of the Trench, the Ansar were saying, "We are those who have sworn allegiance to Muhammad for Jihaid (for ever) as long as we live." The Prophet replied to them, "O Allah! There is no life except the life of the Hereafter. So honor the Ansar and emigrants with Your Generosity." And Narrated Mujashi: My brother and I came to the Prophet and I requested him to take the pledge of allegiance from us for migration. He said, "Migration has passed away with its people." I asked, "For what will you take the pledge of allegiance from us then?" He said, "I will take (the pledge) for Islam and Jihad."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2742

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي فَقُلْتُ بَايِعْنَا عَلَی الْهِجْرَةِ فَقَالَ مَضَتْ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا فَقُلْتُ عَلَامَ تُبَايِعُنَا قَالَ عَلَی الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ

اسحاق محمد بن فضیل عاصم ابوعثمان مجاشع سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو مسلمانوں کے لئے ختم ہو چکی تو میں نے عرض کیا آپ کس بات پر ہم سے بیعت لیں گے ارشاد فرمایا اسلام اور جہاد پر۔

-

Permalink