TrueHadith

ذمیوں کے احکام اور شادی کے بعد ان سے زناء کرنے اور امام کے پاس لائے جانے کا بیان۔

Sahih BukhariHadith 6335

Narrated by Ash-Shaibani

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی عَنْ الرَّجْمِ فَقَالَ رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَقَبْلَ النُّورِ أَمْ بَعْدَهُ قَالَ لَا أَدْرِي تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالْمُحَارِبِيُّ وَعَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ الْمَائِدَةِ وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ

موسی بن اسماعیل ، عبدالواحد ، شیبانی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے رجم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگسار کیا ہے پھر میں نے پوچھا کہ سورت نور کے نازل ہونے سے پہلے یا اس کے بعد؟ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا علی بن مسہر وخادل بن عبداللہ ومحاربی وعبیدہ بن حمید نے شیبانی سے اس کی متابعت میں روایت کی اور بعض نے سورت مائدہ کا نام لیا لیکن پہلا صحیح ہے ۔

Narrated Ash-Shaibani: I asked 'Abdullah bin Abi 'Aufa about the Rajam (stoning somebody to death for committing illegal sexual intercourse). He replied, "The Prophet carried out the penalty of Rajam," I asked, "Was that before or after the revelation of Surat-an-Nur?" He replied, "I do not know."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6336

Narrated by Abdullah bin Umar

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْيَهُودَ جَائُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَکَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ قَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَی الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ

اسمعیل بن عبداللہ ، مالک، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہود رسول اللہ کی خدمت میں آئے اور بیان کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم تورات میں کیا حکم پاتے ہو رجم کے متعلق، انہوں نے کہا کہ ہم ان کو ذلیل کرتے ہیں اور درے لگاتے ہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں تو سنگسار کرنے کا حکم ہے، چنانچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے اور اسے کھولا، ان میں سے ایک شخص نے اپنا ہاتھ رجم والی آیت پر رکھ دیا اور اس کے آگے پیچھے سے پڑھنے لگا، عبداللہ بن سلام نے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہیں پر رجم کی آیت تھی، ان لوگوں نے کہا اے محمد انہوں نے ٹھیک کہا تورات میں آیت رجم ہے چنانچہ ان کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا گیا تو وہ سنگسار کئے گئے، میں نے اس مرد کو دیکھا وہ عورت پر جھکا جاتا تھا تاکہ اس کو پتھر سے بچائے۔

Narrated Abdullah bin Umar: The jews came to Allah's Apostle and mentioned to him that a man and a lady among them had committed illegal sexual intercourse. Allah's Apostle said to them, "What do you find in the Torah regarding the Rajam?" They replied, "We only disgrace and flog them with stripes." 'Abdullah bin Salam said to them, 'You have told a lie the penalty of Rajam is in the Torah.' They brought the Torah and opened it. One of them put his hand over the verse of the Rajam and read what was before and after it. Abdullah bin Salam said to him, "Lift up your hand." Where he lifted it there appeared the verse of the Rajam. So they said, "O Muhammad! He has said the truth, the verse of the Rajam is in it (Torah)." Then Allah's Apostle ordered that the two persons (guilty of illegal sexual intercourse) be stoned to death, and so they were stoned, and I saw the man bending over the woman so as to protect her from the stones.

Permalink