Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّی وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّی ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ فَقَالَ لَهُ مَاذَا تَرَی قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَکَاذِبٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِّطَ عَلَيْکَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَکَ فِي قَتْلِهِ وَقَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ إِلَی النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ يَعْنِي فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ أَوْ زَمْرَةٌ فَرَأَتْ أمُّ ابْنِ صَيّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ وَقَالَ إِسْحَاقُ الْکَلْبِيُّ وَعُقَيْلٌ رَمْرَمَةٌ وَقَالَ مَعْمَرٌ رَمْزَةٌ
عبدان، عبداللہ ، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمراہ ابن صیاد کی طرف چلے کچھ اور لوگ بھی ساتھ تھے ان لوگوں نے ابن صیاد کو بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ابن صیاد کو حضور کے آنے کی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مارا پھر ابن صیاد سے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ آپ کی طرف ابن صیاد نے دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا آپ نے اس سے فرمایا کہ تو دیکھتا کیا ہے ؟ ابن صیاد نے فرمایا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر امر مشتبہ کردیا پھر اس سے آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک بات اپنے دل میں چھپائی ہے تو بتا کیا ہے ؟ ابن صیاد نے کہا وہ دخ ہے آپ نے فرمایا تو ذلیل وخوار ہو تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑادوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو تجھے اس پر قدرت نہ ہوگی اور اگر وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے سالم نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب اس درخت کے پاس گئے جہاں ابن صیاد تھا آپ یہ خیال کر رہے تھے ابن صیاد سے قبل اس کے کہ وہ آپ کو دیکھے کچھ سنیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا اس حال میں کہ وہ لیٹا ہوا تھا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس سے کچھ آواز آرہی تھی ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا حالانکہ آپ درختوں کی آڑ میں سے ہو کر آرہے تھے اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف جو ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں ابن صیاد اٹھ بیٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو معاملہ کھل جاتا اور شعیب نے اپنی حدیث میں فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ یا زَمْزَمَةٌ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل نے رمرمہ اور معمر نے رَمْزَةٌ روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: 'Umar set out along with the Prophet (p.b.u.h) with a group of people to Ibn Saiyad till they saw him playing with the boys near the hillocks of Bani Mughala. Ibn Saiyad at that time was nearing his puberty and did not notice (us) until the Prophet stroked him with his hand and said to him, "Do you testify that I am Allah's Apostle?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Messenger of illiterates." Then Ibn Saiyad asked the Prophet (p.b.u.h), "Do you testify that I am Allah's Apostle?" The Prophet (p.b.u.h) refuted it and said, "I believe in Allah and His Apostles." Then he said (to Ibn Saiyad), "What do you think?" Ibn Saiyad answered, "True people and liars visit me." The Prophet said, "You have been confused as to this matter." Then the Prophet said to him, "I have kept something (in my mind) for you, (can you tell me that?)" Ibn Saiyad said, "It is Al-Dukh (the smoke)." (2) The Prophet said, "Let you be in ignominy. You cannot cross your limits." On that 'Umar, said, "O Allah's Apostle! Allow me to chop his head off." The Prophet (p.b.u.h) said, "If he is he (i.e. Dajjal), then you cannot over-power him, and if he is not, then there is no use of murdering him." (Ibn 'Umar added): Later on Allah's Apostle (p.b.u.h) once again went along with Ubai bin Ka'b to the date-palm trees (garden) where Ibn Saiyad was staying. The Prophet (p.b.u.h) wanted to hear something from Ibn Saiyad before Ibn Saiyad could see him, and the Prophet (p.b.u.h) saw him lying covered with a sheet and from where his murmurs were heard. Ibn Saiyad's mother saw Allah's Apostle while he was hiding himself behind the trunks of the date-palm trees. She addressed Ibn Saiyad, "O Saf ! (and this was the name of Ibn Saiyad) Here is Muhammad." And with that Ibn Saiyad got up. The Prophet said, "Had this woman left him (Had she not disturbed him), then Ibn Saiyad would have revealed the reality of his case. ________________________________________
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ کَانَ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَی أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار پڑا۔ تو اس کے پاس نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیادت کے لیے تشریف لے گئے آپ اس کے سر کے پاس بیٹھے اور فرمایا اسلام لے آ ! اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس کھڑا تھا اس نے اپنے بیٹے سے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا مان اور وہ اسلام لے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے باہر نکل آئے اللہ کا شکر ہے جس نے اس کو آگ سے نجات دی
Narrated Anas: A young Jewish boy used to serve the Prophet and he became sick. So the Prophet went to visit him. He sat near his head and asked him to embrace Islam. The boy looked at his father, who was sitting there; the latter told him to obey Abu-l-Qasim and the boy embraced Islam. The Prophet came out saying: "Praises be to Allah Who saved the boy from the Hell-fire." ________________________________________
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ کُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِنْ الْمُسْتَضْعَفِينَ أَنَا مِنْ الْوِلْدَانِ وَأُمِّي مِنْ النِّسَائِ
علی بن عبداللہ ، سفیان، عبیداللہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں اور میری ماں کمزورں میں سے تھیں میں بچوں میں سے اور میری ماں عورتوں میں سے کمزور تھیں۔
Narrated Ibn Abbas: My mother and I were among the weak and oppressed. I from among the children, and my mother from among the women. ________________________________________
Narrated by Ibn Shihab
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ يُصَلَّی عَلَی کُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّی وَإِنْ کَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَی فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً وَإِنْ کَانَتْ أُمُّهُ عَلَی غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّی عَلَی مَنْ لَا يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَانَ يُحَدِّثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَائَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا الْآيَةَ
ابوالیمان، شعیب، ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہر وفات پانے والے بچے پر نماز پڑھی جائے گی اگرچہ وہ زانیہ کا ہی ہو۔ اس لئے کہ بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین یا صرف اس کا باپ مسلمان ہونے کا دعوی کرے اور اگر اس کی ماں اسلام پر نہ ہو تو وہ چلا کر روئے تو اس پر نماز پڑھی جائے گی اور جو چلا کر نہ روئے تو اس پر نماز نہ پڑھی جائے گی اس لئے کہ وہ ساقط ہوگیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ اسلامی فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، یا مجوسی بنا لیتے ہیں جس طرح جانور صحیح سالم عضو والا بچہ جنتا ہے، کیا تم اس میں سے کوئی عضو کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت آخر تک تلاوت کرتے اللہ تعالیٰ کی فطرت وہ ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔
Narrated Ibn Shihab: The funeral prayer should be offered for every child even if he were the son of a prostitute as he was born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone). If his parents are Muslims, particularly the father, even if his mother were a non-Muslim, and if he after the delivery cries (even once) before his death (i.e. born alive) then the funeral prayer must be offered. And if the child does not cry after his delivery (i.e. born dead) then his funeral prayer should not be offered, and he will be considered as a miscarriage. Abu Huraira, narrated that the Prophet said, "Every child is born with a true faith (i.e. to worship none but Allah Alone) but his parents convert him to Judaism or to Christianity or to Magainism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?" Then Abu Huraira recited the holy verses: 'The pure Allah's Islamic nature (true faith i.e. to worship none but Allah Alone), with which He has created human beings.' " (30.30). ________________________________________
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَائَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِکَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
عبدان، عبداللہ ، یونس، زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا لیتے ہیں جس طرح جانور بچے دیتا ہے کیا تم دیکھتے ہو کوئی عضو اس کا کٹا ہوا؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے اللہ کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا اللہ کے دین میں تبدیلی نہیں ہے یہ ہی سیدھا دین ہے۔
Narrated Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) but his parents convert him to Judaism, Christianity or Magainism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?" Then Abu Huraira recited the holy verses: "The pure Allah's Islamic nature (true faith of Islam) (i.e. worshipping none but Allah) with which He has created human beings. No change let there be in the religion of Allah (i.e. joining none in worship with Allah). That is the straight religion (Islam) but most of men know, not." (30.30) ________________________________________