Narrated by Abu Mas'ud Al-Ansari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَکَادُ أُدْرِکُ الصَّلَاةَ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلَانٌ فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ يَوْمِئِذٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّکُمْ مُنَفِّرُونَ فَمَنْ صَلَّی بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الْمَرِيضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ
محمد بن کثیر، سفیان، ابوخالد، قیس بن ابی حازم، ابومسعودانصاری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (آکر) کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ہو سکتا ہے کہ میں نماز (جماعت کے ساتھ) نہ پاسکوں کیونکہ فلاں شخص ہمیں (بہت) طویل نماز پڑھایا کرتا ہے ابومسعود کہتے ہیں کہ میں نے نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ میں نہیں دیکھا آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! تم ایسی سختیاں کر کے لوگوں کو دین سے نفرت دلاتے ہو، دیکھو جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے اس چاہئے کہ (قراۃ کے ادا میں) تخفیف کرے اس لئے کہ مقتدیوں میں مریض بھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی ہوتے ہیں اور ضرورت والے بھی ہوتے ہیں۔
Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari: Once a man said to Allah's Apostle "O Allah's Apostle! I may not attend the (compulsory congregational) prayer because so and so (the Imam) prolongs the prayer when he leads us for it. The narrator added: "I never saw the Prophet more furious in giving advice than he was on that day. The Prophet said, "O people! Some of you make others dislike good deeds (the prayers). So whoever leads the people in prayer should shorten it because among them there are the sick the weak and the needy (having some jobs to do)."
Narrated by Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَ بُو عَامِرِالْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ الْمَدِينِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ وِکَائَهَا أَوْ قَالَ وِعَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ فَغَضِبَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ قَالَ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَرْعَی الشَّجَرَ فَذَرْهَا حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ
عبداللہ بن محمد، ابوعامر عقدی، سلیمان بن بلال مدینی، ربیعہ بن ابوعبدالرحمن، یزید، (منبعث کے آزاد کردہ غلام) زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے گری پڑی چیز کا حکم پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی بندش کو پہچان لے پھر سال بھر اس کی تشہیر کرے (اگر اس کا کوئی مالک نہ ملے تو) اس سے فائدہ اٹھائے، اور اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردے، پھر اس شخص نے کہا کہ کھویا ہوا اونٹ اگر ملے؟ تو آپ غضب ناک ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، پس راوی نے کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا کہ تجھے اس اونٹ سے کیا مطلب، اس کی مشک اور اس کی سم (اس کے پاؤں) اس کے ساتھ ہیں، پانی پر پہنچے گا پانی پی لے گا اور درخت کھائے گا، لہذا اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک مل جائے پھر اس شخص نے کہا کہ کھوئی بکری (کا پکڑ لینا کیسا ہے) آپ نے فرمایا کہ اس کو پکڑ لو (کیونکہ وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی) یا اگر (کسی کے) ہاتھ نہ لگی تو بھیڑیے کی۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: A man asked the Prophet about the picking up of a "Luqata" (fallen lost thing). The Prophet replied, "Recognize and remember its tying material and its container, and make public announcement (about it) for one year, then utilize it but give it to its owner if he comes." Then the person asked about the lost camel. On that, the Prophet got angry and his cheeks or his Face became red and he said, "You have no concern with it as it has its water container, and its feet and it will reach water, and eat (the leaves) of trees till its owner finds it." The man then asked about the lost sheep. The Prophet replied, "It is either for you, for your brother (another person) or for the wolf."
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَائَ کَرِهَهَا فَلَمَّا أُکْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُوکَ سَالِمٌ مَوْلَی شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
محمد بن علاء، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند باتیں پوچھی گئیں جو آپ کے خلاف مزاج تھیں، جب آپ کے سامنے کثرت کی گئی، تو آپ کو غصہ آگیا اور آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو کچھ چاہو، مجھ سے پوچھو ایک شخص نے کہا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا باپ حذافہ ہے پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے، آپ نے فرمایا تیرا باپ سالم ہے، شبیہہ کا مولی، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے چہرہ میں آثار غضب دیکھے، تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتے ہیں۔
Narrated Abu Musa: The Prophet was asked about things which he did not like, but when the questioners insisted, the Prophet got angry. He then said to the people, "Ask me anything you like." A man asked, "Who is my father?" The Prophet replied, "Your father is Hudhafa." Then another man got up and said, "Who is my father, O Allah's Apostle?" He replied, "Your father is Salim, Maula (the freed slave) of Shaiba." So when 'Umar saw that (the anger) on the face of the Prophet he said, "O Allah's Apostle! We repent to Allah (Our offending you)."