حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ عَنْ عَوْفٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَا بَأْسَ بِالْقِرَائَةِ عَلَی الْعَالِمِ وَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْيَانَ قَالَ إِذَا قَرَئَ عَلَی الْمُحَدِّثِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ حَدَّثَنِي قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ يَقُولُ عَنْ مَالِکٍ وَسُفْيَانَ الْقِرَائَةُ عَلَی الْعَالِمِ وَقِرَائَتُهُ سَوَائٌ
محمد بن سلام، محمد بن حسن واسطی، عوف، حضرت حسن بصری سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عالم کے سامنے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان سے روایت کیا وہ کہتے تھے کہ جب محدث کے سامنے پڑھ چکا ہو تو حدثنی کہنے میں کوئی حرج نہیں، محمد بن سلام کا بیان ہے کہ میں نے ابوعاصم سے سنا وہ مالک اور سفیان سے نقل کرتے تھے کہ عالم کے سامنے پڑھنا اور عالم کا پڑھنا دونوں برابر ہیں۔
-
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّکُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّکِئٌ بَيْنَ ظَهْرَا نَيْهِمْ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّکِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَبْتُکَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ إِنِّي سَائِلُکَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْکَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِکَ فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَکَ فَقَالَ أَسْأَلُکَ بِرَبِّکَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَکَ آللَّهُ أَرْسَلَکَ إِلَی النَّاسِ کُلِّهِمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنْ السَّنَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَکَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَی فُقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ رَوَاهُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا
عبداللہ بن یوسف، لیث، سعید مقبری، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر (سوار آیا) اور اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں (لا کر) بٹھلایا اور اس کے پیر باندھ دیئے پھر اس نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہیں! اور (اسوقت) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، تو ہم لوگوں نے کہا کہ یہ صاف رنگ کے آدمی جوتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہیں (انہی کا نام نامی محمد ہے) پھر اس شخص نے آپ سے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو (میں موجود ہوں) اس نے آپ سے کہا کہ میں آپ سے (کچھ) پوچھنا چاہتا ہوں اور پوچھنے میں آپ پر سختی کروں گا، آپ اپنے دل میں میرے اوپر ناراض نہ ہوں آپ نے فرمایا کہ جو تیری سمجھ میں آئے، پوچھ، وہ بولا کہ میں آپ کو آپ اور آپ سے پہلے تمام لوگوں کے پروردگار کی قسم دیتا ہوں (سچ بتائے) کیا اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ خدا جانتا ہے کہ یہی بات ہے، پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ) بتائیے کہ کیا دن رات میں پانچ نمازوں کے پڑھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ خدا جانتا ہے کہ یہی بات ہے پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتائیے) کہ کیا اس مہینے (رمضان) کے روزے رکھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا خدا جانتا ہے کہ یہی بات ہے، پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتائیے) کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ ہمارے مال داروں سے لیں اور اسے ہمارے فقیروں پر تقسیم کریں، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خدا جانتا ہے کہ یہی بات ہے، اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس (شریعت) پر ایمان لایا جو آپ لائے ہیں اور میں اپنی قوم کا قاصد ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں (قبیلہ! سعد بن بکر کے بھائیوں میں سے) ۔
Narrated Anas bin Malik: While we were sitting with the Prophet in the mosque, a man came riding on a camel. He made his camel kneel down in the mosque, tied its foreleg and then said: "Who amongst you is Muhammad?" At that time the Prophet was sitting amongst us (his companions) leaning on his arm. We replied, "This white man reclining on his arm." The man then addressed him, "O Son of 'Abdul Muttalib." The Prophet said, "I am here to answer your questions." The man said to the Prophet, "I want to ask you something and will be hard in questioning. So do not get angry." The Prophet said, "Ask whatever you want." The man said, "I ask you by your Lord, and the Lord of those who were before you, has Allah sent you as an Apostle to all the mankind?" The Prophet replied, "By Allah, yes." The man further said, "I ask you by Allah. Has Allah ordered you to offer five prayers in a day and night (24 hours)? He replied, "By Allah, Yes." The man further said, "I ask you by Allah! Has Allah ordered you to observe fasts during this month of the year (i.e. Ramadan)?" He replied, "By Allah, Yes." The man further said, "I ask you by Allah. Has Allah ordered you to take Zakat (obligatory charity) from our rich people and distribute it amongst our poor people?" The Prophet replied, "By Allah, yes." Thereupon that man said, "I have believed in all that with which you have been sent, and I have been sent by my people as a messenger, and I am Dimam bin Tha'laba from the brothers of Bani Sa'd bin Bakr."
حَدَّ ثَنَا مُوسَی بْنُ اِسْمَعِيْلَ قَالَ حَدَّثنَاَ سُلَيْمَانُ بْنُ المٌغِيْرَ ةَ قَالَ حَدَّثنَاَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ اَنَسٍ قَالَ نُهِيْنَا فیِ القُرآنِ اَنْ نَّساَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ يُعْجِبُنَا اَن يَجِئَ الرَّجُلُ مِنْ اَهْلِ الْبَادِيَةِ فَسَاَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَائَ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ الْبَادِيَةِ فَسَالَهُ فَقَالَ اَتَانَا رَسُوْلَکَ فَاَخْبَرَ نَا اَنَّکَ تَزْعَمُ اَنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ اَرْسَلَکَ قَالَ صَدَقَ فَقَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالْجِبَالَ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيْهَا المْنَاَفِعَ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ قَالَ فَقَاالَّذِيْ خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الْاَرْضَ وَ نَصَبَ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فَيْهَا المْنَاَفِعَ اللهُ اَرْسَلَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ زَعَمَ رَسُوْ لُکَ اَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَزَکَوةً فِیْ اَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ بِالَّذِيْ اَرْسَلَکَ الله اَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُوْلُکَ اَنَّ عَلَيْنَا حِجُّ الَبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلاً قَالَ صَدَقَ قَالَ بِالَّذِيْ اَرْسَلَکَ اللهُ اَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَوَالَّذِيْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا اَزِيْدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئاً وَلَااَنْقُصُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنْ صَدَقَ لَيَدْ خُلَنَّ الْجَنَّةَ
موسی بن اسماعیل، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہم کو قرآن میں اس امر کی ممانعت کردی گئی تھی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (مسائل) پوچھیں (اس لئے ہم خود نہ پوچھتے تھے) اور ہماری خواہش رہتی تھی کہ کوئی سمجھ دار دیہاتی آئے اور وہ آپ سے پوچھے اور ہم خود نہ معلوم کریں (ایک دن) ایک دیہاتی شخص آیا اور اس نے آپ سے کہا کہ ہمارے پاس آپ کا قاصد پہنچا اور اس نے ہمیں اس بات کی اطلاع دی کہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کو اللہ بزرگ وبرتر نے پیغمبر بنایا ہے آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا پھر اس شخص سے کہا کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ بزرگ وبرتر نے، اس نے کہا کہ زمین کو اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ بزرگ وبرتر نے، اس نے کہا کہ پہاڑوں میں فائدے کس نے رکھے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ بزرگ وبرتر نے (یہ سن کر) وہ کہنے لگا (آپ کو) اسی (ذات) کی قسم جس نے آسمان پیدا کیا اور زمین کو پیدا کیا اور (زمین میں) پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں منافع رکھے، سچ بتائیے کہ کیا اللہ نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر اس نے کہا آپ کے قاصد نے ہم سے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے اوپر پانچ نمازیں (فرض ہیں) اور ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے، آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا (یہ سن کر) وہ بولا (آپ کو) اسی (ذات) کی قسم! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا (سچ بتائیے) کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں (پھر) اس نے کہا آپ کے قاصد نے (ہم سے یہ بھی کہا تھا) کہ ہمارے اوپر سال بھر میں ایک مہینے کے روزے (فرض) ہیں، آپ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا، وہ بولا کہ (آپ کو) اسی (ذات) کی قسم! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (سچ بتائییے) کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، اس نے کہا آپ کے قاصد نے (ہم سے یہ بھی) کہا تھا کہ ہمارے اوپربیت اللہ کا حج (فرض) ہے، جو وہاں تک جانے کی طاقت رکھے، آپ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا، وہ بولا کہ آپ کو اسی (ذات) کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (سچ بتائیے) کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، اس نے کہا تو اسکی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے میں ان باتوں پر نہ کچھ زیادتی کروں گا اور نہ کمی کروں گا (یہ سن کر صحابہ سے) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سچ کہتا ہے تو یقینا جنت میں داخل ہوگا۔
-