Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا بُنِيَتْ الْکَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَکَ عَلَی رَقَبَتِکَ فَخَرَّ إِلَی الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ أَرِنِي إِزَارِي فَشَدَّهُ عَلَيْهِ
عبداللہ بن محمد، ابوعاصم، ابن جریج، عمر بن دینار، جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ دونوں پتھر اٹھا کر لاتے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی ازار اپنے کاندھوں پر ڈال لو (جب آپ نے ایسا کیا تو) بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں، پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے میری ازار دیدو، چنانچہ آپ نے اسے باندھ لیا۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: When the Ka'ba was built, the Prophet and Abbas went to bring stones (for its construction). Al Abbas said to the Prophet, "Take off your waist sheet and put it on your neck." (When the Prophet took it off) he fell on the ground with his eyes open towards the sky and said, "Give me my waist sheet." And he covered himself with it. ________________________________________
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَکِ لَمَّا بَنَوْا الْکَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَفَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ اسْتِلَامَ الرُّکْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ کی عمارت بنائی، تو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد سے اسے چھوٹا کردیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ اس کو قواعد ابراہیمی کے مطابق کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ ابھی حال ہی میں نہ گزرا ہوتا تو میں ایسا کر دیتا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یقینا سنا ہے، میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے قریب دونوں رکنوں کو بوسہ دینے کو ترک کیا۔ اس لئے کہ خانہ کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا نہیں بنا تھا۔
Narrated 'Aisha: (the wife of the Prophet) that Allah's Apostle said to her, "Do you know that when your people (Quraish) rebuilt the Ka'ba, they decreased it from its original foundation laid by Abraham?" I said, "O Allah's Apostle! Why don't you rebuild it on its original foundation laid by Abraham?" He replied, "Were it not for the fact that your people are close to the pre-lslamic Period of ignorance (i.e. they have recently become Muslims) I would have done so." The sub-narrator, 'Abdullah (bin 'Umar ) stated: 'Aisha 'must have heard this from Allah's Apostle for in my opinion Allah's Apostle had not placed his hand over the two corners of the Ka'ba opposite Al-Hijr only because the Ka'ba was not rebuilt on its original foundations laid by Abraham. ________________________________________
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ فَعَلَ ذَلِکَ قَوْمُکِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَائُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَائُوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ
مسدد، ابوالاحوص، اشعث، اسود بن یزید، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیوار کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ خانہ کعبہ میں داخل ہے؟ آپ نے فرمایا، ہاں! میں نے کہا کہ ان لوگوں نے اسے کیوں خانہ کعبہ میں داخل نہ کیا؟ آپ نے فرمایا، تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا، میں نے پوچھا، دروازے کا کیا حال ہے کہ اس کو بلند رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے کیا ہے تاکہ جس کو چاہیں داخل ہونے دیں اور جسکو چاہیں روک دیں، اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دلوں کو ناگوار گزرے گا تو میں دیواروں کو خانہ کعبہ میں داخل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین سے ملا دیتا۔ (یعنی نیچا کردیتا)
Narrated 'Aisha: I asked the Prophet whether the round wall (near Ka'ba) was part of the Ka'ba. The Prophet replied in the affirmative. I further said, "What is wrong with them, why have they not included it in the building of the Ka'ba?" He said, "Don't you see that your people (Quraish) ran short of money (so they could not include it inside the building of Ka'ba)?" I asked, "What about its gate? Why is it so high?" He replied, "Your people did this so as to admit into it whomever they liked and prevent whomever they liked. Were your people not close to the Pre-lslamic Period of ignorance (i.e. they have recently embraced Islam) and were I not afraid that they would dislike it, surely I would have included the (area of the) wall inside the building of the Ka'ba and I would have lowered its gate to the level of the ground." ________________________________________
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَدَاثَةُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ ثُمَّ لَبَنَيْتُهُ عَلَی أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّ قُرَيْشًا اسْتَقْصَرَتْ بِنَائَهُ وَجَعَلْتُ لَهُ خَلْفًا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ خَلْفًا يَعْنِي بَابًا
عبید بن اسماعیل، ابواسامہ، ہشام اپنے والد سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو توڑ ڈالتا، اور میں اسے بنیاد ابراہیمی پر بناتا، اس لئے کہ قریش نے اس کی عمارت کو چھوٹا کردیا اور اس کے لئے خلف بناتا اور ابومعاویہ سے بیان کیا کہ مجھ سے ہشام نے بیان کیا کہ خلف سے مراد دروازہ ہے۔
Narrated 'Aisha: Allah's Apostle said to me, "Were your people not close to the Pre-lslamic period of ignorance, I would have demolished the Ka'ba and would have rebuilt it on its original foundations laid by Abraham (for Quraish had curtailed its building), and I would have built a back door (too)."
Narrated by Yazid bin Ruman from 'Urwa
حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ فَذَلِکَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَی هَدْمِهِ قَالَ يَزِيدُ وَشَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ حِجَارَةً کَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ قَالَ جَرِيرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ مَوْضِعُهُ قَالَ أُرِيکَهُ الْآنَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ الْحِجْرَ فَأَشَارَ إِلَی مَکَانٍ فَقَالَ هَا هُنَا قَالَ جَرِيرٌ فَحَزَرْتُ مِنْ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا
بیان بن عمرو، یزید، جریر بن حازم، یزید بن رومان، عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اے عائشہ رضی اللہ عنہ! اگر تمہاری قوم سے جاہلیت کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کے منہدم ہونے کا حکم دیتا اور اس میں سے جو حصہ نکال دیا گیا ہے اسے میں اس میں شامل کر دیتا اور اس کو زمین سے ملا دیتا اور اس میں دو دروازے رکھتا، ایک پورب کی طرف، دوسرا پچھم کی طرف کھلتا اور بنیاد ابراہیمی کے مطابق کر دیتا۔ یہی حدیث ہے جس نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو کعبہ کے منہدم کرنے پر آمادہ کیا۔ یزید نے بیان کیا کہ میں ابن زبیر کے پاس موجود تھا، جس وقت انہوں نے اس کو گرا کر بنایا اور حجر اسود کو اس میں داخل کیا اور میں نے بنیاد ابراہیمی کے پتھر دیکھے، جو اونٹوں کی کوہان کی طرح تھے، جریر نے بیان کیا کہ میں نے یزید سے پوچھا، اس کی جگہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں ابھی تمہیں دکھاتا ہوں، میں ان کے ساتھ حجر اسود کے پاس گیا تو انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کر کے بتلایا کہ یہاں ہے۔ جریر کا بیان ہے کہ میں نے اندازہ کیا حجر اسود سے چھ گز یا اس کے قریب قریب تھا۔
Narrated Yazid bin Ruman from 'Urwa: 'Aisha said that the Prophet said to her, "O Aisha! Were your nation not close to the Pre-lslamic Period of Ignorance, I would have had the Ka'ba demolished and would have included in it the portion which had been left, and would have made it at a level with the ground and would have made two doors for it, one towards the east and the other towards the west, and then by doing this it would have been built on the foundations laid by Abraham." That was what urged Ibn-Az-Zubair to demolish the Ka'ba. Jazz said, "I saw Ibn-Az-Zubair when he demolished and rebuilt the Ka'ba and included in it a portion of Al-Hijr (the unroofed portion of Ka'ba which is at present in the form of a compound towards the north-west of the Ka'ba). I saw the original foundations of Abraham which were of stones resembling the humps of camels." So Jarir asked Yazid, "Where was the place of those stones?" Jazz said, "I will just now show it to you." So Jarir accompanied Yazid and entered Al-Hijr, and Jazz pointed to a place and said, "Here it is." Jarir said, "It appeared to me about six cubits from Al-Hijr or so." ________________________________________