Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَنَا فِيهِمْ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ ذَلِکَ کُلُّهُ فَکَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ فَکَانَ يُقَوِّتُنَا کُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی فَنِيَ فَلَمْ يَکُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ قَالَ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْهُ ذَلِکَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا
عبداللہ بن یوسف، مالک، وہب بن کیسان، جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساحل کی طرف ایک لشکر بھیجا، جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح کو مقرر کیا اور وہ لوگ تین سو آدمی تھے، میں بھی ان میں تھا، ہم لوگ باہر نکلے یہاں تک کہ راستہ ہی میں توشہ ختم ہو گیا، ابوعبیدہ نے حکم دیا کہ اس لشکر کے تمام لوگ اپنا توشہ ایک جگہ جمع کریں چنانچہ وہ تمام توشے جمع کیے گئے، تو کل دو تھیلے کھجور کے ہوئے جس سے روزانہ تھوڑا تھوڑا ہم لوگوں کو دیا کرتے تھے، ہر آدمی کو ایک کھجور ملتی تھی، وہب نے کہا ایک کھجور سے کیا ہوتا ہوگا، جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کی قدر اس وقت معلوم ہوئی جب بالکل ختم ہو گئی، راوی کا بیان کہ پھر ہم لوگ سمندر کے پاس پہنچے تو چھوٹی پہاڑی کی طرح ایک مچھلی نظر آئی، لشکر نے اس مچھلی کو اٹھارہ دن تک کھایا، پھر ابوعبیدہ نے حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں، پھر اونٹ کے گزرنے کا حکم دیا، تو اونٹ اس کے اندر سے نکل گیا اور پسلیاں اس کی نہیں لگیں۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: "Allah's Apostle sent an army towards the east coast and appointed Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah as their chief, and the army consisted of three-hundred men including myself. We marched on till we reached a place where our food was about to finish. Abu- 'Ubaida ordered us to collect all the journey food and it was collected. My (our) journey food was dates. Abu 'Ubaida kept on giving us our daily ration in small amounts from it, till it was exhausted. The share of everyone of us used to be one date only." I said, "How could one date benefit you?" Jabir replied, "We came to know its value when even that too finished." Jabir added, "When we reached the sea-shore, we saw a huge fish which was like a small mountain. The army ate from it for eighteen days. Then Abu 'Ubaida ordered that two of its ribs be fixed and they were fixed in the ground. Then he ordered that a she-camel be ridden and it passed under the two ribs (forming an arch) without touching them."
Narrated by Salama
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَفَّتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا بَقَاؤُکُمْ بَعْدَ إِبِلِکُمْ فَدَخَلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادِ فِي النَّاسِ فَيَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَبُسِطَ لِذَلِکَ نِطَعٌ وَجَعَلُوهُ عَلَی النِّطَعِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا وَبَرَّکَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَاحْتَثَی النَّاسُ حَتَّی فَرَغُوا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ
بشر بن مرحوم، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں کے توشے ختم ہو گئے اور لوگ محتاج ہو گئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اپنے اونٹ کی اجازت چاہی تو آپ نے ان لوگوں کو اجازت دیدی، حضرت عمر لوگوں سے ملے تو لوگوں نے ان سے سارا ماجرا بیان کیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اپنے اونٹ ذبح کرنے کے بعد تمہاری بقا کا کیا سامان ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اپنے اونٹ ذبح کر نیکے بعد لوگ کس طرح جئیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنا بچا ہوا سامان لے کر آئیں اور اس کے لیے ایک دسترخوان بچھایا گیا، پھر اسی پر وہ تمام تو شے رکھے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان میں برکت کی دعا کی، پھر لوگوں کو ان کا برتن لے کر بلایا، تو لوگوں نے لپ بھر بھر کر لینا شروع کیا، جب لوگ لے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
Narrated Salama: Once the journey food diminished and the people were reduced to poverty. They went to the Prophet and asked his permission to slaughter their camels, and he agreed. 'Umar met them and they told him about it, and he said, "How would you survive after slaughtering your camels?" Then he went to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! How would they survive after slaughtering their camels?" Allah's Apostle ordered 'Umar, "Call upon the people to bring what has remained of their food." A leather sheet was spread and al I the journey food was collected and heaped over it. Allah's Apostle stood up and invoked Allah to bless it, and then directed all the people to come with their utensils, and they started taking from it till all of them got what was sufficient for them. Allah's Apostle then said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and I am His Apostle. "
Narrated by Rafi bin Khadij
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَنَنْحَرُ جَزُورًا فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ
محمد بن یوسف، اوزاعی، ابوالنجاشی، رافع، بن خدیج نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور اونٹ ذبح کرتے تھے، پھر اس کا گوشت دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا اور ہم لوگ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اس کا پکا ہوا گوست کھا لیتے۔
Narrated Rafi bin Khadij: We used to offer the 'Asr prayer with the Prophet and slaughter a camel, the meat of which would be divided in ten parts. We would eat the cooked meat before sunset.
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا کَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَائٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ
محمد بن علاء حماد بن اسامہ، برید، ابوبردہ، ابوموسیٰ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشعر قبیلہ کے لوگ جہاد میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے، تو جو کچھ ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں، پھر آپس میں ایک برتن سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
Narrated Abu Musa: The Prophet said, "When the people of Ash'ari tribe ran short of food during the holy battles, or the food of their families in Medina ran short, they would collect all their remaining food in one sheet and then distribute it among themselves equally by measuring it with a bowl. So, these people are from me, and I am from them."