TrueHadith

قصہ غزوہ بنی مصطلق بنی مصطلق خزاعہ کی ایک شاخ ہے اس غزوہ کو مریسیع بھی کہتے ہیں کہ ابن اسحاق نے کہا کہ یہ جنگ ھ میں اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ ھ میں ہوئی اور نعمان بن راشد نے زہری سے سے روایت کی کہ تہمت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعی اسی جنگ میں ہوا۔

Sahih BukhariHadith 3823

Narrated by Ibn Muhairiz

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ کَائِنَةٌ

قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ربیع بن ابی عبدالرحمن، محمد بن یحیی بن حبان، حضرت ابن محیریز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے مسجد نبوی میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور ان سے میں نے عزل کا مسئلہ دریافت کیا آپ نے کہا کہ ہم غزوہ بنی مصطلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہاں عرب کی باندیاں ہاتھ آئیں اور ادھر ہم کو عورتوں کی خواہش تھی اور بے عورت رہنا مشکل ہو رہا تھا ہم عزل کرنا چاہتے تھے مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کا خیال آتے ہی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور یہ مسئلہ پوچھا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عزل نہ کرنے میں کیا برائی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم میں جو جان قیامت تک آنے والی ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔

Narrated Ibn Muhairiz: I entered the Mosque and saw Abu Said Al-Khudri and sat beside him and asked him about Al-Azl (i.e. coitus interruptus). Abu Said said, "We went out with Allah's Apostle for the Ghazwa of Banu Al-Mustaliq and we received captives from among the Arab captives and we desired women and celibacy became hard on us and we loved to do coitus interruptus. So when we intended to do coitus interrupt us, we said, 'How can we do coitus interruptus before asking Allah's Apostle who is present among us?" We asked (him) about it and he said, 'It is better for you not to do so, for if any soul (till the Day of Resurrection) is predestined to exist, it will exist."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3824

Narrated by Jabir bin 'Abdullah

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ فَلَمَّا أَدْرَکَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهُوَ فِي وَادٍ کَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَاسْتَظَلَّ بِهَا وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ وَبَيْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْنَا فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِي مُخْتَرِطٌ صَلْتًا قَالَ مَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قُلْتُ اللَّهُ فَشَامَهُ ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هَذَا قَالَ وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمود، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی سلمہ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہم نجد کی جنگ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب دوپہر کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سایہ دار درخت کے نیچے آرام کرنے لگے اور تلوار کو لٹکا دیا ہم لوگ بھی ادھر ادھر درختوں کے نیچے سایہ کے لئے متفرق ہو گئے تھوڑی ہی دیر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ہم گئے اور دیکھا کہ ایک اعرابی پاس بیٹھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اعرابی نے میرے سوتے ہی آکر تلوار میرے اوپر کھینچ لی، میں جاگ اٹھا یہ میرے سامنے تلوار تانے ہوئے کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا۔ بتاؤ تم کو میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ! پھر تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا دیکھ یہ بیٹھا ہے۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی سزا نہیں دی۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah: We took part in the Ghazwa of Najd along with Allah's Apostle and when the time for the afternoon rest approached while he was in a valley with plenty of thorny trees, he dismounted under a tree and rested in its shade and hung his sword (on it). The people dispersed amongst the trees in order to have shade. While we were in this state, Allah's Apostle called us and we came and found a bedouin sitting in front of him. The Prophet said, "This (Bedouin) came to me while I was asleep, and he took my sword stealthily. I woke up while he was standing by my head, holding my sword without its sheath. He said, 'Who will save you from me?' I replied, 'Allah.' So he sheathed it (i.e. the sword) and sat down, and here he is." But Allah's Apostle did not punish him.

Permalink