TrueHadith

عمرہ قضاء کا بیان اسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔

Sahih BukhariHadith 3920

Narrated by Al-Bara

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَی أَهْلُ مَکَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَکَّةَ حَتَّی قَاضَاهُمْ عَلَی أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ کَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا لَا نُقِرُّ لَکَ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاکَ شَيْئًا وَلَکِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْحُ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوکَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَکْتُبُ فَکَتَبَ هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يُدْخِلُ مَکَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَی الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِکَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الْأَجَلُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام دُونَکِ ابْنَةَ عَمِّکِ حَمَلَتْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي فَقَضَی بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْکَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، ابواسحاق ، براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ذیقعدہ میں عمرہ کا ارادہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے انکار کیا، یہاں تک کہ آپ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ (آئندہ سال) مکہ میں تین دن مقیم رہیں گے، جب مسلمانوں نے صلح نامہ لکھا ( تو اس میں یہ) لکھ دیا کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صلح نامہ ہے تو کفار نے کہا کہ ہم تو اسکا اقرار نہیں کرتے اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول سمجھتے تو آپ کو ہم بالکل نہ روکتے، لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں (یہی لکھئے) تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی، پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ لفظ رسول اللہ مٹادو، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا بخدا میں تو اسے کبھی نہیں مٹاسکتا، تو رسول اللہ نے وہ صلح نامہ لے لیا، حالانکہ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے پھر بھی آپ نے یہ لکھا، یہ محمد بن عبداللہ کا صلح نامہ ہے کہ آپ مکہ میں سوائے غلاف پوش تلوار کے دوسرے ہتھیار لے کر نہ آئیں گے اور اہل مکہ میں اگر کوئی آپ کیساتھ جانا چاہے گا تو آپ اسے نہیں لے جائیں گے اور اگر آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی مکہ میں رہنا چاہے گا تو آپ نہ روکیں گے (سال آئندہ) جب آپ مکہ تشریف لائے اور (تین دن کی) مدت پوری ہوگئی تو کفار نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آکر کہا کہ آپ اپنے ساتھی (آنحضرت) سے کہہ دیجئے کہ تشریف لے جائیں کیونکہ مدت پوری ہوگئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے تشریف لے گئے، حضرت حمزہ کی صاحبزادی چچا چچا پکارتی ہوئی آپ کے پیچھے چلی تو انہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لے لیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر حضرت فاطمہ سے کہا کہ اپنے چچا کی صاحبزادی کو لے لو، کہ میں نے اسے لے لیا ہے (مدینہ پہنچ کر) علی، زید اور جعفر نے جھگڑا کیا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے ہی (پہلے) اسے لیا ہے اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہے جعفر نے کہا، یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہے، اور اسکی خالہ میرے نکاح میں ہے زید نے کہا یہ میری بھتیجی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت جعفر کے حق میں) اسکی خالہ کی وجہ سے فیصلہ فرمایا اور فرمایا کہ خالہ ماں کے درجہ میں ہوتی ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطور تسلی فرمایا کہ تم مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تو میری صورت اور سیرت میں مشابہ ہے اور زید سے فرمایا تو ہمارا بھائی اور محبوب ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حمزہ کی صاحبزادی سے نکاح کیوں نہیں کرلیتے؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔

Narrated Al-Bara: When the Prophet went out for the 'Umra in the month of Dhal-Qa'da, the people of Mecca did not allow him to enter Mecca till he agreed to conclude a peace treaty with them by virtue of which he would stay in Mecca for three days only (in the following year). When the agreement was being written, the Muslims wrote: "This is the peace treaty, which Muhammad, Apostle of Allah has concluded." The infidels said (to the Prophet), "We do not agree with you on this, for if we knew that you are Apostle of Allah we would not have prevented you for anything (i.e. entering Mecca, etc.), but you are Muhammad, the son of 'Abdullah." Then he said to 'Ali, "Erase (the name of) 'Apostle of Allah'." 'Ali said, "No, by Allah, I will never erase you (i.e. your name)." Then Allah's Apostle took the writing sheet...and he did not know a better writing..and he wrote or got it the following written! "This is the peace treaty which Muhammad, the son of 'Abdullah, has concluded: "Muhammad should not bring arms into Mecca except sheathed swords, and should not take with him any person of the people of Mecca even if such a person wanted to follow him, and if any of his companions wants to stay in Mecca, he should not forbid him." (In the next year) when the Prophet entered Mecca and the allowed period of stay elapsed, the infidels came to Ali and said "Tell your companion (Muhammad) to go out, as the allowed period of his stay has finished." So the Prophet departed (from Mecca) and the daughter of Hamza followed him shouting "O Uncle, O Uncle!" Ali took her by the hand and said to Fatima, "Take the daughter of your uncle." So she made her ride (on her horse). (When they reached Medina) 'Ali, Zaid and Ja'far quarreled about her. 'Ali said, "I took her for she is the daughter of my uncle." Ja'far said, "She is the daughter of my uncle and her aunt is my wife." Zaid said, "She is the daughter of my brother." On that, the Prophet gave her to her aunt and said, "The aunt is of the same status as the mother." He then said to 'Ali, "You are from me, and I am from you," and said to Ja'far, "You resemble me in appearance and character," and said to Zaid, "You are our brother and our freed slave." 'Ali said to the Prophet 'Won't you marry the daughter of Hamza?" The Prophet said, "She is the daughter of my foster brother."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3921

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ کُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَقَاضَاهُمْ عَلَی أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا کَمَا کَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ

محمد بن رافع، سریج، فلیح (دوسری سند) محمد بن حسین بن ابراہیم، انکے والد، فلیح بن سلیمان، نافع ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے قصد سے چلے تو کفار قریش آپ کے بیت اللہ پہنچنے پر آڑے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی ذبح فرمائی، اور سر کے بال منڈوائے اور ان سے اس شرط پر صلح کرلی کہ آپ آئندہ سال عمرہ ادا کرینگے اور سوائے (غلاف پوش) تلواروں کے کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے، اور کفار کی خواہش کے مطابق مکہ میں ٹھہریں گے، تو آپ نے آئندہ سال عمرہ ادا فرمایا اور مکہ میں صلح کے مطابق آپ داخل ہوئے، جب آپ تین دن وہاں ٹھہر چکے تو کفار نے آپ سے چلے جانے کو کہا تو آپ چلے گئے۔

Narrated Ibn 'Umar: Allah's Apostle set out with the intention of performing 'Umra, but the infidels of Quraish intervened between him and the Ka'ba, so the Prophet slaughtered his Hadi (i.e. sacrificing animals and shaved his head at Al-Hudaibiya and concluded a peace treaty with them (i.e. the infidels) on condition that he would perform the 'Umra the next year and that he would not carry arms against them except swords, and would not stay (in Mecca) more than what they would allow. So the Prophet performed the 'Umra in the following year and according to the peace treaty, he entered Mecca, and when he had stayed there for three days, the infidels ordered him to leave, and he left.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3922

Narrated by Mujahid

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَی حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ قَالَ کَمْ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعًا ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ قَالَ عُرْوَةُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ فَقَالَتْ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، مجاہد کہتے ہیں کہ میں اور عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زبیر مسجد (نبوی) میں پہنچے تو وہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، پھر عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے ادا کئے؟ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا، چار، پھر ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے ام المومنین! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوعبدالرحمن کی بات نہیں سنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کئے ہیں، حضرت عائشہ نے فرمایا (صحیح ہے کیونکہ) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا تو یہ اس میں موجود تھے (وہاں) آپ نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔

Narrated Mujahid: 'Urwa and I entered the Mosque and found 'Abdullah bin 'Umar sitting beside the dwelling place of 'Aisha. 'Urwa asked (Ibn 'Umar), "How many 'Umras did the Prophet perform?" Ibn 'Umar replied, "Four, one of which was in Rajab." Then we heard 'Aisha brushing her teeth whereupon 'Urwa said, "O mother of the believers! Don't you hear what Abu 'Abdur-Rahman is saying? He is saying that the Prophet performed four 'Umra, one of which was in Rajab." 'Aisha said, "The Prophet did not perform any 'Umra but he (i.e. Ibn 'Umar) witnessed it. And he (the Prophet ) never did any 'Umra in (the month of) Rajab."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3923

Narrated by Ibn Abi Aufa

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَی يَقُولُ لَمَّا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَرْنَاهُ مِنْ غِلْمَانِ الْمُشْرِکِينَ وَمِنْهُمْ أَنْ يُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

علی بن عبداللہ، سفیان، اسماعیل بن ابی خالد، ابن ابی اوفی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کیا، تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشرکوں اور انکے بچوں کی ایذاء سے حفاظت کر رہے تھے۔

Narrated Ibn Abi Aufa: When Allah's Apostle performed the 'Umra (which he performed in the year following the treaty of Al-Hudaibiya) we were screening Allah's Apostle from the infidels and their boys lest they should harm him.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3924

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّه صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْکُمْ وَفْدٌ وَهَنَهُمْ حُمَّی يَثْرِبَ وَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّکْنَيْنِ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ کُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَائُ عَلَيْهِمْ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَزَادَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اسْتَأْمَنَ قَالَ ارْمُلُوا لِيَرَی الْمُشْرِکُونَ قُوَّتَهُمْ وَالْمُشْرِکُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ

سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب جب (مکہ) آئے تو مشرکوں نے (آپس) میں کہا کہ تمہارے پاس وہ جماعت (مسلمان) آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے کمزور کردیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو (طواف کے) پہلے تین چکروں میں اکڑ کر چلنے کا حکم دیا اور دونوں رکنوں کے درمیان آہستہ چلنے کا اور تمام چکروں میں اکڑ کر چلنے کا حکم آپ نے صرف مسلمانوں پر شفقت اور نرمی کرتے ہوئے نہیں دیا، ابن سلمہ، ایوب، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح کے سال (مکہ) تشریف لائے تو آپ نے (مسلمانوں سے فرمایا) کہ اکڑ کر چلو تاکہ مشرکین مسلمانوں کی قوت دیکھ لیں اور مشرکین کوہ قعیقعان کی جانب سے (کھڑے ہو کر) دیکھا کرتے تھے۔

Narrated Ibn Abbas: When Allah's Apostle and his companions arrived (at Mecca), the pagans said, "There have come to you a group of people who have been weakened by the fever of Yathrib (i.e. Medina)." So the Prophet ordered his companions to do Ramal (i.e. fast walking) in the first three rounds of Tawaf around the Ka'ba and to walk in between the two corners (i.e. the black stone and the Yemenite corner). The only cause which prevented the Prophet from ordering them to do Ramal in all the rounds of Tawaf, was that he pitied them.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3925

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّمَا سَعَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِکِينَ قُوَّتَهُ

محمد، سفیان بن عیینہ، عمرو، عطاء، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے طواف میں اور صفا و مروہ کے درمیان کافروں کو اپنی قوت دکھانے کی غرض سے دوڑ رہے تھے۔

Narrated Ibn Abbas: The Prophet hastened in going around the Ka'ba and between the Safa and Marwa in order to show the pagans his strength. Ibn 'Abbas added, "When the Prophet arrived (at Mecca) in the year of peace (following that of Al-Hudaibiya treaty with the pagans of Mecca), he (ordered his companions) to do Ramal in order to show their strength to the pagans and the pagans were watching (the Muslims) from (the hill of) Quaiqan.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3926

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَبَنَی بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَمَاتَتْ بِسَرِفَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَزَادَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ وَأَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَائِ

موسی بن اسماعیل، وہیب، ایوب، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا اور حلال ہونے کے بعد خلوت فرمائی اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال (مقام) سرف میں ہوا، ابن اسحاق ، ابن ابی نجیح، ابان بن صالح، عطاء، مجاہد، حضرت ابن عباس نے اتنی زیادتی اور روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ قضاء میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کیا۔

Narrated Ibn Abbas: The Prophet married Maimuna while he was in the state of lhram but he consummated that marriage after finishing that state. Maimuna died at Saraf (i.e. a place near Mecca). Ibn 'Abbas added, The Prophet married Maimuna during the 'Umrat-al-Qada' (i.e. the 'Umra performed in lieu of the 'Umra which the Prophet could not perform because the pagans, prevented him to perform that 'Umra)

Permalink