Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَی الدَّجَّالِ وَکَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَجَائَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ أَوْ قَوْمِي
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بنو تمیم کے حق میں تین باتیں سنی ہیں انہیں برابر دوست رکھتا ہوں بنو تمیم میری امت میں دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اس قوم کی ایک باندی تھی تو آپ نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو کیونکہ یہ اولاد اسماعیل میں سے ہے جب ان کے صدقات کا مال آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ میری قوم یا فرمایا قوم کا صدقہ ہے۔
Narrated Abu Huraira: I have not ceased to like Banu Tamim ever since I heard of three qualities attributed to them by Allah's Apostle (He said): They, out of all my followers, will be the strongest opponent of Ad-Dajjal; 'Aisha had a slave-girl from them, and the Prophet told her to manumit her as she was from the descendants of (the Prophet) Ishmael; and, when their Zakat was brought, the Prophet said, "This is the Zakat of my people."
Narrated by Ibn Abi Mulaika
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ قَدِمَ رَکْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ عُمَرُ بَلْ أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي قَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلَافَکَ فَتَمَارَيَا حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَنَزَلَ فِي ذَلِکَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا حَتَّی انْقَضَتْ
ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے سوار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ان کا امیر قعقاع بن معبد بن زرارہ کو بنایئے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا نہیں بلکہ اقرع بن حابس کو بنائے، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم ہمیشہ مجھ سے اختلاف کرتے ہو، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اختلاف کا قصد نہیں کرتا دونوں میں تکرار ہوئی یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں تو اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ (اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش قدمی نہ کرو) آخر تک۔
Narrated Ibn Abi Mulaika: 'Abdullah bin Az-Zubair said that a group of riders belonging to Banu Tamim came to the Prophet, Abu Bakr said (to the Prophet ), "Appoint Al-Qa'qa bin Mabad bin Zurara as (their) ruler." 'Umar said (to the Prophet). "No! But appoint Al-Aqra bin Habis." Thereupon Abu Bakr said (to 'Umar). "You just wanted to oppose me." 'Umar replied. "I did not want to oppose you." So both of them argued so much that their voices became louder, and then the following Divine Verses were revealed in that connection:-- "O you who believe ! Do not be forward in the presence of Allah and His Apostle..." (till the end of Verse)...(49.1)