TrueHadith

عید کے دن اور حرم میں ہتھیار لے کر جانے کی کراہت کا بیان، اور حسن بصری نے کہا کہ لوگوں کو عید کے دن ہتھیار لے کر جانے سے منع کیا گیا، بشرطیکہ دشمن کا خوف نہ ہو

Sahih BukhariHadith 913

Narrated by Said bin Jubair

حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی أَبُو السُّکَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّکَابِ فَنَزَلْتُ فَنَزَعْتُهَا وَذَلِکَ بِمِنًی فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ فَجَعَلَ يَعُودُهُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَکَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ أَصَبْتَنِي قَالَ وَکَيْفَ قَالَ حَمَلْتَ السِّلَاحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَکُنْ يُحْمَلُ فِيهِ وَأَدْخَلْتَ السِّلَاحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَکُنْ السِّلَاحُ يُدْخَلُ الْحَرَمَ

زکریا بن یحیی ، ابوالسیکن، محمد بن سوقہ، سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں ابن عمر کے ساتھ تھا، جب ان کے تلوے میں نیزے کی نوک چبھ گئی اور ان کا پاؤں رکاب سے چمٹ گیا، تو میں اترا اور اس نیزے کو نکالا، یہ واقعہ منیٰ میں ہوا تھا۔ جب حجاج کو خبر ملی تو ان کی عیادت کرنے آیا، تو حجاج نے کہا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کس نے آپ کو یہ تکلیف پہنچائی ہے، ابن عمر نے جواب دیا کہ تو نے ہی ہمیں یہ تکلیف پہنچائی؟ حجاج نے پوچھا کیونکر؟ ابن عمر نے جواب دیا کہ تو ایسے دن ہتھیار لے کر آیا جس دن ہتھیار لے کر نہیں آیا جاتا تھا اور تو نے ہتھیار حرم میں داخل کیا حالانکہ حرم میں ہتھیار داخل نہیں کیا جاتا تھا۔

Narrated Said bin Jubair: I was with Ibn Umar when a spear head pierced the sole of his foot and his foot stuck to the paddle of the saddle and I got down and pulled his foot out, and that happened in Mina. Al-Hajjaj got the news and came to enquire about his health and said, "Alas! If we could only know the man who wounded you!" Ibn Umar said, "You are the one who wounded me." Al-Hajjaj said, "How is that?" Ibn Umar said, "You have allowed the arms to be carried on a day on which nobody used to carry them and you allowed arms to be carried in the Haram even though it was not allowed before."

Permalink

Sahih BukhariHadith 914

Narrated by Said bin 'Amr bin Said bin Al-'Aas

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَی ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ کَيْفَ هُوَ فَقَالَ صَالِحٌ فَقَالَ مَنْ أَصَابَکَ قَالَ أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلَاحِ فِي يَوْمٍ لَا يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ يَعْنِي الْحَجَّاجَ

احمد بن یعقوب، اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حجاج ابن عمر کے پاس آیا اور میں ان کے پاس تھا اس نے پوچھا کیا حال ہے؟ ابن عمر نے جواب دیا اچھا ہوں، حجاج نے پوچھا کس نے آپ کو یہ تکلیف پہنچائی؟ انہوں نے نے کہا مجھے تکلیف اس شخص نے پہنچائی جس نے ایسے دن میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی جس دن ہتھیار اٹھانا جائز نہ تھا، انہوں نے اس سے حجاج کو مراد لیا۔

Narrated Said bin 'Amr bin Said bin Al-'Aas: Al-Hajjaj went to Ibn Umar while I was present there. Al-Hajjaj asked Ibn Umar, "How are you?" Ibn Umar replied, "I am all right," Al-Hajjaj asked, "Who wounded you?" Ibn Umar replied, "The person who allowed arms to be carried on the day on which it was forbidden to carry them (he meant Al-Hajjaj)"

Permalink