TrueHadith

اللہ تعالیٰ کے قول وصل علیہم کا بیان اور اس شخص کا بیان جو صرف اپنے بھائی کیلئے دعا کرے، اپنے لئے نہ کرے، اور ابوموسیٰ نے بیان کیا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ اے اللہ عبید ابی عامر کو بخش دے، اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ کو بخش دے۔

Sahih BukhariHadith 5856

Narrated by Salama bin Al-Akwa'

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَيَا عَامِرُ لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيْهَاتِکَ فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ يُذَکِّرُ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَکَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَکِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ فَلَمَّا صَافَّ الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ فَأُصِيبَ عَامِرٌ بِقَائِمَةِ سَيْفِ نَفْسِهِ فَمَاتَ فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا کَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُوقِدُونَ قَالُوا عَلَی حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ فَقَالَ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَکَسِّرُوهَا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ذَاکَ

مسدد، یحیی، یزید بن ابی عبید سلمہ کے مولی سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو جماعت میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے عامر کاش تم اپنے اشعار سناتے وہ سواری سے اتر پڑے، اور حدی پڑھنے لگے، کہ خدا کی قسم اگر اللہ (ہدایت کرنے والا) نہ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے، اور اس کے علاوہ چند اشعار پڑھے، لیکن مجھے یاد نہیں رہے رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ کون ہانکنے والا ہے؟ لوگوں نے کہا عامر بن اکوع۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کاش اس عامر سے آپ ہمیں اور فائدہ پہنچاتے (یعنی ابھی یہ اور زندہ رہتے) جب لوگ صف بستہ ہوئے اور جنگ کرنے لگے تو عامر کو اپنی ہی تلوار سے زخم لگ گیا جس کے صدمہ سے وفات پاگئے۔ جب شام ہوئی تو لوگوں نے بہت سی آگ جلائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آگ کیسی ہے؟ کس چیز پر تم نے آگ جلائی ہے؟ لوگوں نے کہا گھریلو گدھوں کے گوشت پر۔ آپ نے فرمایا کہ اس چیز کو پھینک دو جو اس میں ہے اور برتن کو توڑ ڈالو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس گوشت کو پھینک دیں اور برتن کو دھو ڈالیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی کرو۔

Narrated Salama bin Al-Akwa': We went out with the Prophet to Khaibar. A man among the people said, "O 'Amir! Will you please recite to us some of your poetic verses?" So 'Amir got down and started chanting among them, saying, "By Allah! Had it not been for Allah, we would not have been guided." 'Amir also said other poetic verses which I do not remember. Allah's Apostle said, "Who is this (camel) driver?" The people said, "He is 'Amir bin Al-Akwa'," He said, "May Allah bestow His Mercy on him." A man from the People said, "O Allah's Apostle! Would that you let us enjoy his company longer." When the people (Muslims) lined up, the battle started, and 'Amir was struck with his own sword (by chance) by himself and died. In the evening, the people made a large number of fires (for cooking meals). Allah's Apostle said, "What is this fire? What are you making the fire for?" They said, "For cooking the meat of donkeys." He said, "Throw away what is in the pots and break the pots!" A man said, "O Allah's Prophet! May we throw away what is in them and wash them?" He said, "Never mind, you may do so." (See Hadith No. 509, Vol. 5).

Permalink

Sahih BukhariHadith 5857

Narrated by Ibn Abi Aufa

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ مُرَّةَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ فُلَانٍ فَأَتَاهُ أَبِي فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ أَبِي أَوْفَی

مسلم، شعبہ، عمرو، ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی صدقہ لے کر آتا، تو آپ فرماتے یا اللہ آل فلاں پر رحمت نازل، چنانچہ میرے والد آپ کے پاس کچھ لے کر آئے، تو آپ نے فرمایا یا اللہ آل ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحمت نازل فرما۔

Narrated Ibn Abi Aufa: Whenever a man brought his alms to the Prophet, the Prophet would say, "O Allah! Bestow Your Blessing upon the family of so-and-so." When my father came to him (with his alms), he said, "O Allah! Bestow Your Blessings upon the family of Abi Aufa."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5858

Narrated by Jarir

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَهُوَ نُصُبٌ کَانُوا يَعْبُدُونَهُ يُسَمَّی الْکَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَصَکَّ فِي صَدْرِي فَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا قَالَ فَخَرَجْتُ فِي خَمْسِينَ فَارِسًا مِنْ أَحْمَسَ مِنْ قَوْمِي وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فَانْطَلَقْتُ فِي عُصْبَةٍ مِنْ قَوْمِي فَأَتَيْتُهَا فَأَحْرَقْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُکَ حَتَّی تَرَکْتُهَا مِثْلَ الْجَمَلِ الْأَجْرَبِ فَدَعَا لِأَحْمَسَ وَخَيْلِهَا

علی بن عبداللہ ، سفیان، اسماعیل، قیس سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے جریر کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا، تم مجھے ذی الخلصلہ سے نجات نہیں دلاؤ گے، اور یہ ایک بت تھا جس کی لوگ عبادت کرتے تھے، اور اس کا نام کعبہ یمانیہ تھا مینے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسا آدمی ہوں کہ گھوڑے پر سیدھا نہیں بیٹھ سکتا، آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، اور فرمایا، یا اللہ اسے ثابت قدم بنا اور ہدایت کرنیوالا اور ہدایت پایا ہوا بنا دے جریر کا بیان ہے کہ میں اپنی قوم احمس کے پچاس آدمیوں کے ساتھ نکلا اور اکثر سفیان کو بایں الفاظ روایت کرتے سنا کہ فانطلقت فی عصبتہ من قومی) میں وہاں پہنچا اور اس کو جلا دیا پھر میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کی قسم میں آپ کے پاس اس وقت تک نہیں آیا جب تک کہ میں نے خارشی اونٹ کی طرح اسے نہیں بنا چھوڑا تو آپ نے احمس اور اس کے سواروں کیلئے دعا فرمائی۔

Narrated Jarir: Allah's Apostle said to me. "Will you relieve me from Dhi-al-Khalasa? " Dhi-al-Khalasa was an idol which the people used to worship and it was called Al-Ka'ba al Yamaniyya. I said, "O Allah's Apostle I am a man who can't sit firm on horses." So he stroked my chest (with his hand) and said, "O Allah! Make him firm and make him a guiding and well-guided man." So I went out with fifty (men) from my tribe of Ahrnas. (The sub-narrator, Sufyan, quoting Jarir, perhaps said, "I went out with a group of men from my nation.") and came to Dhi-al-Khalasa and burnt it, and then came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! I have not come to you till I left it like a camel with a skin disease." The Prophet then invoked good upon Ahmas and their cavalry (fighters).

Permalink

Sahih BukhariHadith 5859

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَسٌ خَادِمُکَ قَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ

سعید بن ربیع، شعبہ، قتادہ سے روایت کرتے ہیں، کہ میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کا خادم ہے، آپ نے فرمایا کہ اے اللہ اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا، اس میں برکت عطا فرما۔

Narrated Anas: Um Sulaim said to the Prophet "Anas is your servant." The Prophet said, "O Allah! increase his wealth and offspring, and bless (for him) what ever you give him."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5860

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْکَرَنِي کَذَا وَکَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا فِي سُورَةِ کَذَا وَکَذَا

عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ، ہشام اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے ہوئے سنا، تو آپ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی، جس کو میں فلاں فلاں سورت میں بھول گیا تھا۔

Narrated 'Aisha: The Prophet heard a man reciting (the Qur'an) in the mosque. He said," May Allah bestow His Mercy on him, as he made me remember such and-such Verse which I had missed in such-and-such Sura."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5861

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّی رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَی لَقَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ

حفص بن عمر، شعبہ، سلیمان، ابووائل، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم فرمایا، تو ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم سے خدا کی خوشنودی مقصود نہیں ہے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بیان کیا تو آپ کو غصہ آگیا یہاں تک کہ غصہ کے آثار میں نے آپ کے چہر پر دیکھے، اور فرمایا کہ اللہ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم کرے، جنہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔

Narrated 'Abdullah: The Prophet divided something (among the Muslims) and distributed the shares (of the booty). A man said, "This division has not been made to please Allah." When I informed the Prophet about it, he became so furious that I noticed the signs of anger on his face and he then said, "May Allah bestow His Mercy on Moses, for he was hurt with more than this, yet he remained patient."

Permalink