TrueHadith

تمام نمازوں میں خواہ وہ سفر میں ہوں یا حضر میں سری ہوں یا جہری ہوں، امام اور مقتدی کے لیے قرأت کے واجب ہونے کا بیان۔

Sahih BukhariHadith 713

Narrated by Jabir bin Samura

حَدَّثَنَا مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ شَکَا أَهْلُ الْکُوفَةِ سَعْدًا إِلَی عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَزَلَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَشَکَوْا حَتَّی ذَکَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ هَؤُلَائِ يَزْعُمُونَ أَنَّکَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ فَإِنِّي کُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا أُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَائِ فَأَرْکُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأُخِفُّ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَالَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إِلَی الْکُوفَةِ فَسَأَلَ عَنْهُ أَهْلَ الْکُوفَةِ وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّی دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُکْنَی أَبَا سَعْدَةَ قَالَ أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا کَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ قَالَ سَعْدٌ أَمَا وَاللَّهِ لَأَدْعُوَنَّ بِثَلَاثٍ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَ عَبْدُکَ هَذَا کَاذِبًا قَامَ رِيَائً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ وَکَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ کَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَی عَيْنَيْهِ مِنْ الْکِبَرِ وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ

موسی ، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اہل کوفہ نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سعد کو معزول کر دیا، اور عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان لوگوں کا حاکم بنایا ان لوگوں نے (سعد کی بہت سی) شکایتیں کیں، یہاں تک کہ بیان کیا کہ وہ نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا کہ اے اسحاق! یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے، انہوں نے کہا سنو! خدا کی قسم! ان کے ساتھ میں نے ویسی نماز ادا کی ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہوتی تھی، چنانچہ پہلی دو رکعتوں میں زیادہ دیر لگاتا تھا اور اخیر کی دو رکعت میں تخفیف کرتا تھا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! تم سے یہی امید تھی، پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص یا چند شخصوں کو سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کوفہ بھیجا، تاکہ وہ کوفہ والوں سے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بابت پوچھیں ( چنانچہ وہ گئے) اور انہوں نے کوئی مسجد نہیں چھوڑی کہ جس میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیفیت نہ پوچھی ہو اور سب لوگ ان کی عمدہ تعریف کرتے رہے یہاں تک کہ نبی عبس کی مسجد میں گئے تو ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوگیا، اس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے کنیت اس کی ابوسعدہ تھی اس نے کہا کہ سنو! جب تم نے ہمیں قسم دلائی تو مجبور ہو کر میں کہتا ہوں کہ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کے ہمراہ جہاد کو خود نہ جاتے تھے اور غنیمت کی تقسیم برابر نہ کرتے تھے سعد (یہ سن کر) کہنے لگے کہ دیکھ میں تین بددعائیں تجھ کو دیتا ہوں اے اللہ! اگر یہ تیر بندہ جھوٹا ہو نمود و نمائش کے لئے اس وقت کھڑا ہوا ہو تو اس کی عمر بڑھا دے اور اس کو فقر میں مبتلا کر، اور اس کو فتنوں میں مبتلا کردے، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے بعد جب اس سے (اس کا حال) پوچھا جاتا تھا تو کہتا ایک بڑی عمر والا بوڑھا ہوں، فتنوں میں مبتلا مجھے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بددعا لگ گئی۔ عبد الملک (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے اس کو دیکھا ہے، اس کی دونوں ابرو اس کی آنکھوں پر بڑھاپے کے سبب سے جھک پڑی ہیں، وہ راستوں میں لڑکیوں کو چھیڑتا ہے، ان پر دست درازی کرتا ہے۔

Narrated Jabir bin Samura: The People of Kufa complained against Sa'd to 'Umar and the latter dismissed him and appointed 'Ammar as their chief . They lodged many complaints against Sa'd and even they alleged that he did not pray properly. 'Umar sent for him and said, "O Aba Ishaq! These people claim that you do not pray properly." Abu Ishaq said, "By Allah, I used to pray with them a prayer similar to that of Allah's Apostle and I never reduced anything of it. I used to prolong the first two Rakat of 'Isha prayer and shorten the last two Rakat." 'Umar said, "O Aba Ishaq, this was what I thought about you." And then he sent one or more persons with him to Kufa so as to ask the people about him. So they went there and did not leave any mosque without asking about him. All the people praised him till they came to the mosque of the tribe of Bani 'Abs; one of the men called Usama bin Qatada with a surname of Aba Sa'da stood up and said, "As you have put us under an oath; I am bound to tell you that Sa'd never went himself with the army and never distributed (the war booty) equally and never did justice in legal verdicts." (On hearing it) Sa'd said, "I pray to Allah for three things: O Allah! If this slave of yours is a liar and got up for showing off, give him a long life, increase his poverty and put him to trials." (And so it happened). Later on when that person was asked how he was, he used to reply that he was an old man in trial as the result of Sa'd's curse. 'Abdul Malik, the sub narrator, said that he had seen him afterwards and his eyebrows were over-hanging his eyes owing to old age and he used to tease and assault the small girls in the way.

Permalink

Sahih BukhariHadith 714

Narrated by 'Ubada bin As-Samit

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ

علی بن عبداللہ ، سفیان، زہری، محمود بن ربیع، عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ نہ پڑھے۔

Narrated 'Ubada bin As-Samit: Allah's Apostle said, "Whoever does not recite Al-Fatiha in his prayer, his prayer is invalid."

Permalink

Sahih BukhariHadith 715

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ يُصَلِّي کَمَا صَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي فَقَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِکَ فِي صَلَاتِکَ کُلِّهَا

محمد بن بشار، یحیی ، عبیداللہ ، سعید بن ابی سعید، ابی سعید (مقبری) ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) مسجد میں تشریف لے گئے اسی وقت ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جا نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ لوٹ گیا اور اس نے نماز پڑھی جیسے اس نے پہلے پڑھی، پھر آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے فرمایا کہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ (اسی طرح) تین مرتبہ (ہوا) تب وہ بولا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے بہتر ادا نہیں کرسکتا۔ لہٰذا آپ مجھے تعلیم کر دیجئے، آپ نے فرمایا جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، اس کے بعد جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس کو پڑھو، پھر رکوع کرو، یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان سے ہو جاؤ، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں اطمینان سے ہوجاؤ، پھر سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle entered the mosque and a person followed him. The man prayed and went to the Prophet and greeted him. The Prophet returned the greeting and said to him, "Go back and pray, for you have not prayed." The man went back prayed in the same way as before, returned and greeted the Prophet who said, "Go back and pray, for you have not prayed." This happened thrice. The man said, "By Him Who sent you with the Truth, I cannot offer the prayer in a better way than this. Please, teach me how to pray." The Prophet said, "When you stand for Prayer say Takbir and then recite from the Holy Qur'an (of what you know by heart) and then bow till you feel at ease. Then raise your head and stand up straight, then prostrate till you feel at ease during your prostration, then sit with calmness till you feel at ease (do not hurry) and do the same in all your prayers

Permalink