TrueHadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں خصوصاً آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔

Sahih BukhariHadith 3435

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِي بَکْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَکٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَی الْمَأْکَلِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي کَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَکْرٍ فَضِيلَتَکَ وَذَکَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَقَّهُمْ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي

ابوالیمان شعیب زہری عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آدمی بھیج کر ان سے اپنی میراث طلب کی یعنی وہ چیزیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو فئے کے طور پر دی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصرف خیر جو مدینہ منورہ اور فدک میں تھا اور خیبر کی متروکہ آمدنی کا پانچواں حصہ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال یعنی خدا داد مال میں سے کھا سکتے ہیں ان کو یہ اختیار نہیں کہ کھانے سے زیادہ لے لیں خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات کی جو حالت آپ کے زمانہ میں تھی اس میں کوئی تبدیلی نہ کروں گا بلکہ وہی عمل کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تشہد پڑھا پھر کہا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم آپ کی فضیلت و بزرگی سے خوب واقف ہیں اس کے بعد آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قرابت اور حق کو واضح کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت سے سلوک کرنا اپنی قرابت کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے (نیز) عبداللہ بن عبدالوہاب خالد شعبہ واقد ان کے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی آپ کے اہل بیت کی خدمت اور محبت میں سمجھو۔

Narrated 'Aisha: Fatima sent somebody to Abu Bakr asking him to give her her inheritance from the Prophet from what Allah had given to His Apostle through Fai (i.e. booty gained without fighting). She asked for the Sadaqa (i.e. wealth assigned for charitable purposes) of the Prophet at Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus (i.e., one-fifth) of the Khaibar booty. Abu Bakr said, "Allah's Apostle said, 'We (Prophets), our property is not inherited, and whatever we leave is Sadaqa, but Muhammad's Family can eat from this property, i.e. Allah's property, but they have no right to take more than the food they need.' By Allah! I will not bring any change in dealing with the Sadaqa of the Prophet (and will keep them) as they used to be observed in his (i.e. the Prophet's) life-time, and I will dispose with it as Allah's Apostle used to do," Then 'Ali said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle," and added, "O Abu Bakr! We acknowledge your superiority." Then he (i.e. 'Ali) mentioned their own relationship to Allah's Apostle and their right. Abu Bakr then spoke saying, "By Allah in Whose Hands my life is. I love to do good to the relatives of Allah's Apostle rather than to my own relatives" Abu Bark added: Look at Muhammad through his family (i.e. if you are no good to his family you are not good to him).

Permalink

Sahih BukhariHadith 3437

Narrated by Al-Miswar bin Makhrama

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي

ابو الولید ابن عیینہ عمرو ابن ابی ملیکہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجھ کو غضبناک کیا۔

Narrated Al-Miswar bin Makhrama: Allah's Apostle said, "Fatima is a part of me, and he who makes her angry, makes me angry."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3438

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَکْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا فَسَارَّهَا بِشَيْئٍ فَبَکَتْ ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِکَتْ قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَکَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِکْتُ

یحیی بن قزعہ ابراہیم بن سعد عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے مرض میں جس میں آپ نے رحلت فرمائی بلوایا (جب وہ آئیں) تو ان سے آہستہ آہستہ کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، میں نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کا سبب دریافت کیا انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے اس بات سے خبردار کیا تھا کہ آپ اسی مرض میں وفات پائیں گے، تو میں رونے لگی جب دوبارہ آپ نے آہستہ سے کہا کہ میں ان کے اہل میں سب سے پہلے ان سے ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔

Narrated 'Aisha: The Prophet called his daughter Fatima during his illness in which he died, and told her a secret whereupon she wept. Then he called her again and told her a secret whereupon she laughed. When I asked her about that, she replied, "The Prophet spoke to me in secret and informed me that he would die in the course of the illness during which he died, so I wept. He again spoke to me in secret and informed me that I would be the first of his family to follow him (after his death) and on that I laughed."

Permalink